Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ ِ موتہ کے اِس منظرنامے میں بہادر اور جانباز صحابہؓ کو بے جگری سے لڑتا ہوا دیکھئے

Updated: May 05, 2023, 11:25 AM IST | Maulana Nadeem-ul-Wajidi | Mumbai

سیرتِ نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں آج حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی تقریر کا بقیہ حصہ، حضرت جعفرؓ بن ابی طالب کی شجاعت اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی جنگی حکمت ِ عملی کا تذکرہ او رجنگ موتہ کے شہداء کی بابت پڑھئے

The building of Hazrat Jafar Tayyar`s tomb in Mota. Mota is an area of Jordan located in Kirkuk Governorate and the total population here is more than 22 thousand
موتہ میں حضرت جعفر طیارؓ کے مقبرے کی عمارت۔ موتہ ، اردن کا علاقہ ہے جو محافظہ کرک میں واقع ہے اور یہاں کی مجموعی آبادی ۲۲؍ہزار سے زائد ہے

عبد اللہ ابن رواحہ ؓکی تقریر
(گزشتہ سے پیوستہ) اس لشکر میں سب سے آگے حضرت زیدؓ تھے، ان کے ایک ہاتھ میں اسلامی جھنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی، وہ تلوار چلاتے ہوئے دشمن کی صفوں میں اندر تک گھس گئے، یہاں تک کہ تیروں نے ان کا جسم چھلنی کردیا۔ (تاریخ الطبری: ۲/۱۵۰)
حضرت زید بن حارثہؓ کی شہادت کے بعد حضرت جعفر ابن ابی طالبؓ نے فوج کی کمان سنبھالی، ان کے بھی ایک ہاتھ میں جھنڈا تھا اور دوسرے ہاتھ میں تلوار، وہ بھی انتہائی بے جگری سے لڑے۔ جس وقت حضرت جعفرؓ ابن ابی طالب کی تلوار دشمنوں کو ڈھیر کررہی تھی اس وقت آپؓ کی  زبان پر یہ شعر جاری تھے: 
یَا حَبَّذَا الْجَنَّۃُ وَاقْتِرَابُہَا 
طَیِّبَۃً وَبَارِدًا شَرَابُہَا
وَالرُّوْمُ رُوْم قَدْ دَنَا عَذَابُہَا 
کَافِـرٌۃ بَعِیْدَۃٌ اَنْسَابُہَا
عَلَیَّ اِذْ لَاقَیْتُہَا ضِرَابُہَا
(ترجمہ) جنت اور اس کاقرب کیا ہی بہترین چیز ہے، اس کا پانی نہایت ٹھنڈا ہے، رومیوں کے عذاب کا وقت قریب آگیا ہے، وہ لوگ کافر ہیں اور ان کے نسب ہم سے بہت دور ہیں، یعنی ان کے اور ہمارے درمیان کوئی قربت نہیں ہے، مقابلے کے وقت ان کو مارنا میرے اوپر لازم ہوگا۔ 
دشمن نے انہیں بھی گھیر لیا وہ اپنے سرخ رنگ کے گھوڑے سے نیچے کود گئے اور اس کی اگلی ٹانگیں کاٹ دیں، تاکہ وہ دشمن کے ڈر سے فرار نہ ہوسکے اور نہ ان کے بعد دشمن ان کے گھوڑے پر سوار ہوسکے۔ حضرت جعفر ابن ابی طالبؓ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے ایک اعلیٰ مقصد کے لئے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں، بعد میں تو اس طرح کے متعدد واقعات ہوئے۔ ان کے دائیں ہاتھ میں پرچم تھا، دشمن کی تلواروں سے ان کا دایاں بازو کٹ گیا، انہوں نے پرچم کو گرنے نہیں دیا بلکہ اپنے بائیں ہاتھ سے پرچم سنبھال لیا، بایاں بازو بھی کٹ کر گر پڑا، اس وقت بھی انہوں نے پرچم گرنے نہیں دیا، بلکہ دونوں بازوؤں کے باقی ماندہ حصوں کو ملا کر پرچم کو سینے سے لگا کر بلند رکھا، جسم چھلنی چھلنی ہوگیا، بالآخر شہید ہوگئے۔ ان کی عمر اس وقت محض تینتیس سال تھی۔ حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ جو اسی غزوے میں شریک تھے کہتے ہیں کہ ہم نے جعفر ابن ابی طالبؓ کو تلاش کیا وہ ہمیں مقتولین میں مل گئے، ہم نے ان کے جسم پر نوے سے زیادہ زخم شمار کئے جو تیر اور نیزے سے لگے ہوئے تھے۔ بعض چشم دید راوی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ تمام زخم ان کے سینے اور پیٹ پر تھے، پیٹھ پر کوئی زخم نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت جعفرؓ کے کٹے ہوئے بازوؤں کا یہ صلہ دیا کہ انہیں اپنے کرم اور فضل سے دو پر عطا کردیئے جن کے ذریعے وہ جنت میں جہاں ان کا دل چاہتا ہے اڑتے پھرتے ہیں۔ (صحیح البخاری: ۵/۱۴۳،رقم الحدیث: ۴۲۶۱، سنن ابی داؤد: ۳/۲۹، رقم الحدیث: ۲۵۷۳، الطبقات الکبری: ۲/۱۲۹، البدایہ والنہایہ: ۴/۲۴۴)
 عبد اللہ ابن رواحہؓ کی شہادت
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور ہدایت کے بموجب حضرت جعفر ابن ابی طالبؓ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اللہ ابن رواحہؓنے آگے بڑھ کر جھنڈا اٹھا لیا، وہ بھی گھوڑے پر سوار تھے، ایک لمحے کو ان کے نفس نے کچھ تردد کیا، مگر اگلے ہی لمحے سنبھل گئے اور نفس کو مخاطب کرکے کہنے لگے، اے نفس! تجھے قسم ہے، تو گھوڑے سے نیچے اتر کر دشمنوں سے لڑ، اب یہ تیرے اوپر موقوف ہے کہ تو زبردستی اترتا ہے یا بہ رضا ورغبت یہ کام کرتا ہے، لوگ چیخ وپکار کررہے ہیں،تلواریں ایک دوسرے سے ٹکرارہی ہیں، اور تو جنت کو ناپسند کررہا ہے، تجھے ہوا کیا ہے، تو ہمیشہ مطمئن رہا ہے، ویسے تیری حقیقت ہی کیا ہے، تو رحم مادر میں ایک نطفہ تھا، اے نفس! اگر تو آج نہ مارا گیا تو کل ضرور مرے گا، یہ ممکن نہیں کہ تو ہمیشہ زندہ رہے، تو نے جس چیز کی تمنا کی تھی وہ تجھے آج مل رہی ہے، اگر تونے زیدؓ اور جعفرؓ جیسا کام کیا تو تجھے ہدایت ملے گی۔ 
اس کے بعد حضرت عبد اللہ ابن رواحہؓ گھوڑے سے نیچے اتر پڑے، اتنے میں ان کے ایک چچا زاد بھائی نے گوشت کا ایک ٹکڑا یہ کہتے ہوئے ان کی طرف بڑھایا کہ لو یہ کھالو، ذرا طاقت آئے گی، یہ بڑا مشکل وقت ہے، انہوں نے وہ ٹکڑا لے لیا ابھی منہ میں رکھا ہی تھا کہ میدان کار زار سے ایسی آوازیں آنے لگیں جیسے دو حریف آپس میں ٹکرا رہے ہوں حضرت عبد اللہ نے گوشت کا وہ ٹکڑا پھینکا اور میدان کی طرف بڑھ گئے اور شہید ہوگئے۔ دشمنوں کے زخم کھاکر زمین پر گرنے سے پہلے انہوں نے چیخ کر کہا تھا، مسلمانو! اپنے بھائی کی لاش کو بچا لینا۔یہ سن کر مسلمان رومیوں کی طرف بڑھے اور انہیں پیچھے دھکیل کر حضرت عبداللہ ابن رواحہؓ کا جسد خاکی اپنی طرف اٹھا لانے میں کامیاب ہوگئے، یہ واقعہ دن کے آخری حصے میں پیش آیا۔ 
(سیرت ابن ہشام: ۴/۲۹۳)
خالد بن ولیدؓ کا انتخاب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منتخب کردہ تینوں امیر شہادت کے درجے پر فائز ہوچکے تھے، کسی نہ کسی کو تو یہ مورچہ سنبھالنا ہی تھا، اتنے میں بنی عجلان سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی حضرت ثابت ابن اقرمؓ آگے آئے اور جھنڈا اٹھا لیا، انہوں نے بآواز بلند کہا: اے مسلمانو! تم کسی ایک شخص کو اپنا امیر منتخب کرلو، لوگوں نے کہا: آپ ہی ہمارے امیر ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں! میں یہ ذمہ داری صحیح طریقے پر انجام نہیں دے سکتا، یہ کہہ کر انہوں نے جھنڈا حضرت خالد بن ولیدؓ کو پکڑا دیا، انہوں نے جھنڈا لینے میں کچھ تردد کیا، حضرت ثابتؓ نے کہا: آپ ایک بہادر انسان ہیں، اور لڑائی کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، آج کے دن مسلمانوں کی قیادت کے مستحق آپ سے زیادہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ حضرت خالدؓ نے جھنڈا لے لیا۔ ان کے سامنے زبردست چیلنج تھا، رومیوں کی بھاری بھرکم فوج کے سامنے تین ہزار کا یہ معمولی سا لشکر اس وقت سخت آزمائش میں تھا، لڑائی جاری رکھنے کی صورت میں یہ اندیشہ تھا کہ تمام قیمتی جانیں ہلاک ہوجائیں گی۔ واپسی میں یہ اندیشہ تھا کہ رومی افواج دور تک ان کا پیچھا کریں گی اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیں گی۔ صبح کے وقت جب مسلمان تازہ دم تھے حضرت خالد بن ولیدؓ نے حکم دیا کہ کل جو لوگ سامنے تھے وہ پیچھے چلے جائیں اور جو لوگ پیچھے تھے وہ آگے آجائیں، لشکر کی تبدیل شدہ ہیئت دیکھ کر رومی یہ سمجھے کہ مسلمانوں کے پاس نئی کمک آگئی ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے جنگی حکمت عملی کے تحت مسلمانوں کی کچھ ٹکڑیوں کو رات کے وقت لشکر سے کچھ دور بھیج دیا تھا، وہ لوگ صبح کے وقت نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ آملے، اس سے رومیوں کا یہ خیال یقین میں بدل گیا کہ مدینے سے نئی فوج آگئی ہے، یوں بھی مقدمۃ الجیش کے نئے جھنڈوں کو دیکھ کر رومیوں میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ صبح سویرے جب دونوں فوجیں میدان کارزار میں آمنے سامنے ہوئیں تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے کسی تاخیر کے بغیر اپنے مقدمۃ الجیش کو حکم دیا کہ وہ رومیوں پر حملہ کردیں، چنانچہ مسلمان اپنے امیر اور قائد حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں دشمنوں کی صفوں میں گھستے چلے گئے اور ان پر تابڑتوڑ حملے کرنے لگے۔ رومیوں میں سراسیمگی پھیل گئی، حضرت خالدؓ نے موقع کا فائدہ اٹھایا، خود بھی بے جگری سے لڑے اور دوسرے صحابہؓ نے بھی داد شجاعت دی۔ حافظ ابن سعد کے ایک راوی ابو عامر کہتے ہیں کہ جب خالد بن ولیدؓ نے رومیوں پر حملہ کیا تو ان کو ایسی شکست دی کہ میں نے ایسی شکست کبھی نہیں دیکھی، مسلمان جہاں چاہتے تھے وہیں اپنی تلوار رکھتے تھے، خود حضرت خالد بن ولیدؓ نے دشمنوں پر نو تلواریں توڑ دیں۔ بخاری میں حضرت خالدؓ بن ولید کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ غزوۂ مؤتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹیں البتہ ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی وہ نہیں ٹوٹی، رومی الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوئے۔ حضرت خالدؓ نے ان کا تعاقب مناسب نہیں سمجھا۔ (البدایہ والنہایہ: ۴/۲۴۷، الواقدی: ۲/۷۶۷، صحیح البخاری: ۵/۱۴۴،رقم الحدیث: ۴۲۶۶ ، طبقات ابن سعد: ۲/۱۳۰) 
غزوۂ  مُوتہ کے شہداء
 اس غزوہ  میں بارہ صحابۂ کرامؓ نے شہادت پائی، ان حضرات کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں: 
(۱)  حضرت جعفرابن ابی طالبؓ
(۲)  حضرت زید بن حارثہؓ
(۳)  حضرت مسعود بن الاسود
 بن حارثہ بن نضلہؓ
(۴)  حضرت وَہْب بن سعد بن أبی سَرْحؓ
(۵)  حضرت عبد اللہ ابن رواحہؓ
(۶)  حضرت عِبَاد بن قیسؓ
(۷)  حضرت الحارث بن النعمان بن 
أساف بن نضلہؓ
(۸)  حضرت سُراقہ بن عمرو بن عطیہ بن خَنْساءؓ
(۹)  حضرت ابوکلیب بن عمرو بن زید بن عوفؓ
(۱۰)  حضرت جابر بن عمرو بن زید بن عوفؓ
(۱۱)  حضرت عمرو بن سعد بن الحارث 
بن عِباد بن سعدؓ
(۱۲)  حضرت عامر بن سعد بن الحارث بن عباد بن سعدؓ۔  (سیرۃ ابن ہشام: ۳/۲۹۹، ۳۰۰) 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK