خود سے دوری مجبوری ہے؟ معذوری ہے؟ کچھ تو ہے

Updated: October 01, 2022, 1:53 PM IST | Shahid Lateef | Mumbai

خود سے ملنا، خوش رہنا، کل تک یہ انسانی فطرت کا حصہ تھا۔ انسان فطرت سے دور ہوا تو عالم یہ ہے کہ اِسے خوش رہنے کیلئے بھی وقت نکالنا پڑ رہا ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

غالب کے شاگرد اور دوست میاں داد خاں سیاح کی شہرت اتنی نہیں ہے جتنا اُن کا یہ شعر مشہور ہے کہ ’’قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو = خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘‘ ۔ شعر میں شاعر نے ایک عجیب و غریب خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پندرہ اشعار کی غزل کا سب سے اچھا شعر یہی ہے جس سے کسی ہم خیال، ہم مزاج اور ہم مشرب دوست کے ساتھ گزرنے والے لمحات کی اہمیت اور ان سے میسر آنے والے سکون کی تفہیم ہوتی ہے جس کیلئے شاعر بھری پُری آبادی کو چھوڑ جنگل کا رُخ کرنے پر بیقرار ہے۔  کیا یہی ’’می ٹائم‘‘ ہے جس کا نئے دور میں کافی شہرہ ہے اور ماہرین نفسیات ہر خاص و عام کو اس کی صلاح دیتے ہیں کہ وہ  ’’می ٹائم‘‘ کا اہتمام کرے؟ یہ خیال بشیر بدر نے بھی پیش کیا تھا جب اُنہوں نے کہا کہ ’’یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو‘۔ واضح رہنا چاہئے کہ انگریزی میں اس موضوع پر کتابیں (مثلاً جیسیکا سینڈرس کی اسی نام کی کتاب) بھی شائع ہوئیں اور فلم (نیٹ فلیکس پر ریلیز ۔ اگست ۲۲ء) بھی بنی۔ سوال یہ ہے کہ ’’می ٹائم‘‘ کیا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی اہمیت کیوں بڑھ رہی ہے؟ ’’می ٹائم‘‘ (Me Time) کا معنی ہے اپنے آپ کے ساتھ وقت گزارنا، تنہا رہتے ہوئے اپنے مشاغل کو اپنانا جن سے سکون ذہن و دل میسر آتا ہو یا خالی الذہن رہنا۔ ’’می ٹائم‘‘ میں کوئی دوست نہیں ہوتا، کوئی رشتہ دار نہیں ہوتا، کوئی اہل خانہ نہیں ہوتا، بس آپ ہوتے ہیں دوسرا کوئی نہیں۔ مگر یہ مضمون نگار اس اصطلاح کو اتنے محدود معنوں میں نہیں دیکھتا۔ اس کے نزدیک میاں داد خاں سیاح کا جنگل میں جاکر قیس کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزارنا بھی ’’می ٹائم‘‘ ہے اور کسی شخص کا اسرار رموز کائنات کو سمجھنے کی کوشش میں وقت صرف کرنا بھی ’’می ٹائم‘‘ کا استعمال ہے۔ دراصل اس اصطلاح میں لفظ ’’می‘‘ کو شامل کرکے اسے معنوی اعتبار سے محدود اور خودغرضانہ بنادیا گیا ہے۔ اسے می ٹائم یعنی میرا وقت کے بجائے ہمارا وقت بھی کہا جاسکتا ہے جس سے معنوی وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہمارا یعنی میاں داد خاں سیاح اور قیس کا وقت، کسی شخص اور اسرار رموز کائنات کو سمجھنے کی کوشش میں گزرنے والا وقت، قاری اور کتاب کے درمیان کا  وقت، ماں باپ اور بچوں کا خانگی معاملات پر گفتگو میں گزرنے والا وقت، نانی دادی کا اپنے پوتے پوتیوں یا نواسے نواسیوں کو لے کر بیٹھنے اور کہانیاں سنانے کا وقت، ایک ساتھ مل بیٹھنے والے افرادِ خاندان کا وقت یا ایک مخلص اور محنتی معلم اور طلبہ کا ساتھ ساتھ گزرنے والا وقت۔ ان سب سے وہی تسکین و طمانیت حاصل کی جاسکتی ہے جو ’’می ٹائم‘‘کا مدعا ہے۔ غالب نے کہا تھا ’’بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے‘‘۔ تصور جاناں میں گزرنے والا وقت بھی  ’’می ٹائم‘‘ ہی تھا ورنہ غالب پہلے مصرعے میں ’’دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت........ ‘‘ جیسے الفاظ نہ لاتے۔ پہلے کی طرح جاناں تو اب بھی موجود ہے مگر تصور کہاں ہے؟  وہ  ’’می ٹائم‘‘ ہی کی خواہش تھی جس نے غالب کو یہ عمدہ شعر عطا کیا۔ معلوم ہوا کہ  ’’می ٹائم‘‘ کوئی نیا موضوع نہیں ہے، یہ پہلے بھی تھا بلکہ افراط تھا۔ انسان نے خود کو نئے دور کی نئی مصروفیات میں گم کرکے کرکے اپنے آپ سے بلاوجہ کی دشمنی نبھائی اور خود سے اتنا بیگانہ ہوا کہ ماہرین کو  ’’می ٹائم‘‘ پر زور دینا پڑا۔ کورونا کے دور میں جب لوگ گھروں میں بند یا نظر بند تھے، تب  ’’می ٹائم‘‘ ہی  ’’می ٹائم‘‘ تھا مگر اکثر لوگ اس سے استفادہ نہیں کرپائے۔ شاید ہی کسی نے یہ جاننے کی فکر کی ہو کہ علی الصباح چڑیاں اب بھی چہچہاتی ہیں یا نہیں، مرغا بانگ دیتا ہے یا نہیں، باد صبا یا باد شمال چلتی ہے یا نہیں اور شام کے وقت پرندوں کے غول کے غول آسمان میں ایک خاص اور خوبصورت انداز میں محو پرواز ہوتے ہیں یا وہ بھی  ’’می ٹائم‘‘ سے ناآشنا ہوچکے ہیں؟ جدید دور میں چونکہ انسان خود سے اس حد تک بیگانہ ہوچکا ہے کہ وجہِ بیگانگی بھی نہیں جانتا اس لئے خالی اوقات میں خالی الذہن نہیں رہتا، اس کی توجہ بٹی رہتی ہے، وہ دوسروں کی سوچ سے اپنی سوچ کی خانہ پُری کرتا ہے اور دوسروں کی نظر سے منظروں کا معیار مقرر کرتا ہے۔ ہر جگہ اس کے اتنے معاونین پیدا ہوگئے ہیں کہ اُسے کچھ سوچنے، سمجھنے، رُکنے، ٹھہرنے، اپنے آپ سے گفتگو کرنے اور اپنے آپ کو سمجھنے کی مہلت نہیں دیتے۔ ایک غیر مرئی طاقت ہمہ وقت مع احکام موجود رہتی ہے کہ حضور یہ دیکھئے وہ مت دیکھئے، یہ سوچئے وہ مت سوچئے، یہ ایسا ہے اور وہ ویسا، یا، آپ جیسی تحریریں پڑھنے والے دوسرے لوگوں نے فلاں اور فلاں تحریریں بھی پڑھی ہیں وغیرہ۔ انسان ان احکام کا اتنا پابند ہوچکا ہے کہ انٹرنیٹ پر انہیں تلاش کرتا رہتا ہے کہ اب کیا کرے اور تب کیا کرے ۔  ’’می ٹائم‘‘ کا مطلب ہے انسان زیادہ نہیں تو تھوڑی دیر کیلئے خود کو اِن احکام اور معاونین کے چنگل سے آزاد کرے اور جو کچھ بھی دیکھنا ہے اپنی آنکھ سے دیکھے، جو کچھ بھی سوچنا ہے اپنے ذہن سے سوچے، اپنی فکر پروان چڑھائے، اپنے اُمور کا تجزیہ کرے اور ان تمام مشاغل سے لطف اندوز ہو جو بذات خود مسرت بخش ہوتے ہیں۔ 
 جب ایسا ہوگا تو انسان اپنی طاقت کا بھی جائزہ لے گا اور اپنی کمزوریوں کو بھی شمار کرے گا، وہ اپنی طاقت میں اضافے کی فکر کرے گا اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی جانب متوجہ ہوگا، وہ یہ بھی دیکھے گا کہ اپنے مسائل کا وہ خو د ذمہ دار ہے یا کوئی اور، وہ یہ بھی سمجھنا چاہے گا کہ جتنی دُنیا اُس پر اثرانداز ہوتی ہے یا جتنی دُنیا پر وہ اثر انداز ہوتا ہے اُس میں کون دوست ہے اور کون دشمن، دوست سے دوستی کیسے بڑھ سکتی ہے اور دشمن کی دشمنی کیسے کم ہوسکتی ہے، ممکن ہے کہ وہ اس راز تک بھی پہنچے کہ جسے دوست سمجھتا ہے وہ تو دوست نہیں ہے مگر خود وہ بھی اپنا دوست نہیں رہ گیا ہے کیونکہ اپنے خلاف فیصلے کرتا ہے اور اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے۔ یہ اندرونِ ذات دیکھنے (Look Within) کا فن ہے جس کی طرف اقبالؔ نے یہ کہتے ہوئے اشارہ کیا تھا کہ ’’اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی‘‘۔ اس کے دوسرے مصرعے پر غور کیجئے اور سوچئے کہ ’’تو اگر میرا نہیں بنتا‘‘ کا مسئلہ کیا ہے اور ’’اپنا تو بن‘‘ میں ایسی کیا دشواری ہے  ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK