• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ بیرون ِ ملک سمجھداری کی باتیں اور ملک میں خاموشی‘‘

Updated: August 31, 2026, 1:23 PM IST | Agency | New Delhi/Washington

موہن بھاگوت کے امریکہ جا کر مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کا پیغام دینے پر اپوزیشن نے حیرت کا اظہار کیا، کہا:جو وہاں کہہ رہے ہیں اُس پر یہاں عمل کیوں نہیں کرتے؟

Mohan Bhagwat delivering a speech at Madison Square, New York. Picture: PTI
موہن بھاگوت نیویارک کے میڈیسن اسکوائر میں تقریر کرتےہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکہ میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کیہندوستان میں مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کی وکالت کرنے والی تقریر نے جہاں  بہت سوں کو حیران کیا ہے تووہیں ایک بار پھر سَنگھ پریوار کا دہرا معیار موضوع بحث  بن گیاہے۔ ناقدین  نے نشاندہی کی ہے کہ آر ایس ایس دنیا کیلئے کچھ کہتا ہے اوراس کے اپنے کارکنوں کیلئے اس کا پیغام کچھ اور ہوتا ہے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، سی پی آئی (ایم)،  ایم آئی ایم اور آر جے ڈی کے  لیڈروں  نے آر ایس ایس کے ’’دوغلے پن ‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے  سوال کیا ہے کہ بھاگوت جو کچھ امریکہ میں کہا وہ پیغام ہندوستان میں کیوں نہیں دیتے اور سنگھ پریوار یہاں اس پر عمل کیوں نہیں کرتا؟ دوسری جانب بی جے پی نے بھاگوت کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا کو ہندو مذہب کا حقیقی مفہوم سمجھایا اور مذہبی رواداری کا پیغام دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان اسٹیشن کے اطراف فٹ پاتھوں پرغیر قانونی قبضہ!

موہن بھاگوت نے نیویارک میں کیا کہا؟

نیویارک کے میڈیسن اسکوائر میں  ہندوستانی  نژاد امریکی برادری اور مختلف مذاہب کے لیڈروں  سے خطاب  میں بھاگوت نے کہا کہ کثرت میں وحدت  ہندستان  کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان  میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تووہ ہندو نہیں ہے۔‘‘ہندوستان میں ایک ملک ایک تہذیب کی وکالت کرنےوالے سنگھ پریوار کے سربراہ نے ملک کی الگ الگ تہذہبوں اور مذاہب کا  احترام کرتے  ہوئے  بطور ہندوستانی ایک ہونے کی بات کی اور کہا کہ ’’تنوع  باعث فخر ہے، اس کا احترام کیا جانا چاہیے اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔ اوراس کے ساتھ ہی ہمیں اس احساس  پیدا کرنا چاہئے کہ ہم سب ایک ہیں۔‘‘

ایسا لگا جیسے راہل گاندھی بول رہے ہیں: کپل سبل

راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے بھاگوت کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ کچھ دیر کیلئے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ آر ایس ایس سربراہ بول رہے ہیں یا کانگریس لیڈر  راہل گاندھی کی تقریر ہے۔ سبل نے سوال کیا کہ ’’بیرون ملک سمجھداری کی باتیں اور ملک میں خاموشی؟لفظوں سے کچھ نہیں ہوتا، آپ کا عمل بولتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ بھاگوت کو بیرونِ  ملک تو کثرت میں وحدت کوقبول  ہے لیکن اپنے ملک میں انہیں یہ برداشت نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے

 جھوٹ بولنا بند کریں: کانگریس

کانگریس کی ترجمان شمع محمد نے بھاگوت سے کہا کہ ’’جھوٹ بولنا بند کریں، بھاگوت ۔ ہم جانتے ہیں کہ آر ایس ایس کے ڈی این اے میں کیا ہے، نفرت اور فرقہ واریت ہے۔‘‘ انہوں  نے کہاکہ ’’میرا موہن بھاگوت سے سوال ہے کہ وہ یہ بات  ہندوستان  میں کیوں نہیں کہتے؟ ان کی ذیلی تنظیمیں جیسے وی ایچ پی اور بجرنگ دل آئے دن مسلمانوں پر حملے کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ کرسمس کی تقریبات کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومتیں سرکاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہراساں کرتی ہیں اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں۔‘‘ 
 ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سگاریکا گھوش نے بھاگوت پر’’خطرناک دوغلے پن‘‘ کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ بیرون ملک کہے گئے ان کے الفاظ  ہندوستان میں عملی اقدامات سے بھی نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ  آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم بجرنگ دل کے کارکن  مسلمانوں اور عیسائی تقریبات کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ وی ایچ پی مساجد کے نیچے مندروں کی تلاش کرتی رہتی ہے۔ ٹی ایم سی لیڈر نے شری رام سینا جیسی ہندوتوا تنظیموں کا بھی حوالہ دیا اور نشاندہی کی کہ بی جے پی کا لوک سبھا میں ایک بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ہے اور اس کے کئی  سینئر لیڈر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیتے رہتے ہیں۔ سی پی آئی  کے جنرل سیکریٹری ڈی راجا نے کہا ہے کہ اگر بھاگوت  اپنے مؤقف میں سنجیدہ ہیں تو یہی بات ہندوستان  میں بھی آکر کہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں بیان دینا ایک بات ہے لیکن  ہندوستانی سرزمین پر یہی مؤقف دہرانا زیادہ اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھاگوت ’ایماندار اور سچے‘ ہیں تو انہیں واپس آکر  ہندوستان میں بھی کہنا چاہیے کہ ملک   کے تکثیری مزاج  کا تحفظ ضروری ہے اور تمام برادریاں برابر ہیں۔  سی پی ایم لیڈر  اور کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نےکہا کہ بھاگوت بیرون ملک انسانیت، مساوی وقار اور ایسے ہندوتوا کی بات کر رہے ہیں جو ہر انسان کو قبول کرتا ہے لیکن  ملک میں صورتحال  مختلف ہے۔انہوں نے بطور خاص ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے  کے پروگرام کے بعد ’شدھی کرن کی رسم‘ کا حوالہ دیا ۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بھاگوت کو یہ بات  بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ اور دیگرلیڈروں کو بتانی چاہئے  جن میں  ہیمنت بسوا شرما، یوگی آدتیہ ناتھ اور شوبھندو ادھیکاری سرفہرست ہیں۔  انہوں  نے  بی جے پی  لیڈروں انوراگ ٹھاکر اور کپل مشرا کا بھی حوالہ دیا جن پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے والے بیان دینے کا الزام ہے۔ 

دنیا کیلئے کچھ اپنے کارکنوں کیلئے کچھ: اویسی

ایم آئی ایم سربراہ  اسد الدین اویسی نے کہاکہ’’ دنیا کیلئےکچھ اور اپنے کارکنوں کیلئے کچھ ، یہ آر ایس ایس کا پرانا حربہ ہے۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ آر ایس ایس  اپنے ان نظریہ سازوں کی تحریروں سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کرتا جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’اندرونی خطرہ‘ بتاتے ہیں۔ اویسی نے ساورکر، ہیڈگیوار،  گولوالکر کی متنازع تحریروں کے منتخب اقتباسات  کا حوالہ دیا اور کہا کہ  ان کو پڑھ کر ایس ایس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ 

’’اِس سمجھداری کے ساتھ ہی واپس آئیں‘‘

آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے موہن بھاگوت کو پیغام دیا کہ امریکہ کے میڈیسن  اسکوائر میں انہیں جو سمجھداری حاصل ہوئی ہے، وہ اس سمجھداری کے ساتھ ہی ہندوستان واپس آئیں۔انہوں نے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’اگر  میڈیسن اسکوائر میں  آر ایس ایس سربراہ کو یہ احساس  ہوا کہ ہندوستان سب کا ہے اور جویہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کا یہاں کوئی حق نہیں، وہ حقیقی ہندو نہیں ہے، تو وہ اس سمجھداری کواپنے ساتھ ہندوستان بھی لائیں۔ یہی سبق مودی  کی کابینہ کے ہر وزیر اور ہر وزیر اعلیٰ کیلئے بھی لازمی ہونا چاہیے کہ  ہندوستان  تمام  ہندوستانیوں کا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK