Inquilab Logo Happiest Places to Work

خدمت ِخلق محبت ِالٰہی کاتقاضا، ایمان کی روح اوردنیا وعقبیٰ کی سرخروئی کا زینہ ہے

Updated: October 03, 2025, 4:19 PM IST | Mufti Muhammad Aslam Jamee | Mumbai

خدمت ِ خلق کارِ نبوت ہے، نبوت سے قبل بھی حیاتِ مقدسہ کے مبارک لمحات بندگانِ خدا کی خدمت سے منسلک رہے اور نبوت کے بعد پوری امت آپؐ کے احسانات کے بوجھ کے تلے دبی ہوئی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

 حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے:’’لوگوں میں خوب تر وہ شخص ہے، جو لوگوں کے لئے نفع رسا ہو۔ ‘‘  (مسند الشہاب للقضاعی )۔ مذہب ِ اسلام نے انسانی خدمت کو اخلاقِ حسنہ اور عبادتِ عظیمہ قرار دیا۔ خدمت ِ خلق محبت ِ الٰہی کا تقاضا، ایمان کی روح اور دنیا و عقبیٰ کی سرخروئی کا زینہ ہے۔ ایک روایت میں حضور اکرم ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’ ساری مخلوق، اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ بندہ ہے، جو اس کے عیال کے لئے سب سے زیادہ نفع رساں ہو۔ ‘‘ ( المسند البزار)، 
 ایک دوسری روایت میں آپؐ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم) 
 ان دونوں روایت میں حضور اکرم ؐ نے خدمت ِ خلق اور لوگوں کی نفع رسانی کے لئے تگ دود کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت اور مدد کا پروانہ عطا کیا، کہ لوگوں کی مدد کرنا ان کو راحت و آرام پہنچانا، ان کو کھانے پینے، کپڑے اور دیگر ضروریاتِ زندگی سے آراستہ کرنا بڑی نیکی اور ثوابِ عظیم ہیں۔ 
خدمت ِ خلق کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آقائے دو جہاں ؐپر پہلی بار وحی نازل ہوئی تو آپؐ نے اس بارِ گراں ذمہ داری سے کچھ گھبراہٹ محسوس کی، دولتکدہ پر تشریف لائے، اور ساری کیفیت اپنی غم گسار اور وفا شعار شریک ِ حیات ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی۔ حضرت خدیجہ ؓ نے ساری کیفیت سن کر جو تسلی آمیز اور حوصلہ افزا کلمات ارشاد فرمائے وہ کتب ِ احادیث میں محفوظ ہیں۔ چنانچہ امام بخاریؒ نے حضرت خدیجہؓ کے الفاظ کو اپنی صحیح میں نقل کیا، جن کا ترجمہ ہے:
’’ ہرگز نہیں، خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپؐ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں، مفلسوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور مصائب میں حق کی مدد کرتے ہیں۔ ‘‘ ( صحیح بخاری)
 حضرت خدیجہ ؓ نے، تسلی آمیز کلمات میں جن پانچ اوصاف کو بیان کیا ان سب کا تعلق خدمتِ خلق کے مختلف پہلوؤں سے ہے، ان میں حُسنِ سلوک بھی ہے، مالی و بدنی تعاون اور صلہ رحمی بھی ہے یعنی خدمت ِ خلق کارِ نبوت ہے، نبوت سے قبل بھی حیاتِ مقدسہ کے مبارک لمحات بندگانِ خدا کی خدمت سے منسلک رہے اور نبوت کے بعد پوری امت آپؐ کے احسانات کے بوجھ کے تلے دبی ہوئی ہے۔ 
  خدمتِ خلق اپنے وسیع تر معنیٰ و مفہوم کے اعتبار سے، کسی کی مالی مدد کرنا، کسی کی کفالت کرنا، کسی کو تعلیم دینا، مفید مشورہ دینا، کوئی ہنر سکھانا، کسی کے کام میں رہبری و رہنمائی کرنا، علمی سرپرستی کرنا، کسی کے دکھ درد میں شریک شریک ہونا، کسی کو خوش کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا وغیرہ ہے۔ اس لئے لوگوں کے لئے نفع بخش اور راحت رساں بنیں ، کیونکہ صحیح الجامع میں ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرما یا : لوگوں میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جو انسانوں لئے زیادہ نفع بخش ہوں۔ دُعا ہے کہ ان سطور کو قلمبند کرنے والے کو بھی توفیق ہو اور ان کے پڑھنے والوں کو بھی توفیق ہو، آمین، ثم آمین۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK