کئی اہم معاملات سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں

Updated: July 24, 2022, 9:40 AM IST | Aakar Patel | Mumbai

ان میں الیکٹورل بانڈ، شہریت ترمیمی قانون، دفعہ ۳۷۰، پیگاسس اور ریاستوں کے بنائے ہوئے لوَ جہاد جیسے کئی قوانین ہیں جن پر سپریم کورٹ کی نظر عنایت جتنی جلد ہو اُتنا اچھا ہے۔

 supreme court
سپریم کورٹ

الیکٹورل بانڈ اسکیم کو پریم کورٹ میں چیلنج کئے ہوئے پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں مگر یہ معاملہ ہنوز معرض التواء میں ہے۔ یہ اسکیم پارلیمنٹ میں ’’مالیاتی بل‘‘ کے طور پر پیش کی گئی تھی تاکہ اس پر راجیہ سبھا میں نہ تو بحث و مباحثہ ہو نہ ہی ووٹنگ۔ موٹے طور پر یہ اسکیم غیر ملکی حکومتوں، کمپنیوں سمیت کسی کو بھی، حتیٰ کہ جرائم پیشہ افراد کو بھی اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنا نام ظاہر کئے بغیر جتنی رقم چاہیں بطور عطیہ دے سکتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے اس اسکیم پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ بیئرر بانڈ بنیادی طور پر کیش بانڈ ہوتا ہے مگر حکومت نے اس اعتراض پر کوئی توجہ نہیں دی اور اسکیم جاری کردی۔ بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ اب تک اس معاملے کی سماعت کرلیتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ 
 شہریت ترمیمی قانون کو بھی دو سال ہوچکے ہیں۔ اسے بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا کہ یہ آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اطلاع دی تھی کہ یہ قانون تنہا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) بھی ہے جس کے بعد اُن لوگوں کو بخشا نہیں جائیگا جن کیلئے ’’دیمک‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ شہریت ترمیمی قانون کے منظور کئے جانے کے بعد ملک کے متعدد شہروں میں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے جس کی تفصیل بیان کرنا ضروری معلوم نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت بھی شروع نہیں کی ہے۔
 اسی دوران، ریاست جموں کشمیر کی حیثیت بھی تبدیل کی گئی، دفعہ ۳۷۰؍ کو بے اثر کیا گیا جس کی وجہ سے کشمیر کی خصوصی ریاست کی حیثیت ختم ہوگئی اور اسے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تبدیل کردیا گیا۔ لداخ کو اس سے الگ کردیا گیا (جس سے چین چیں بہ جبیں ہوا مگر یہ علاحدہ موضوع ہے)۔ اتنا ہی نہیں عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے نمائندوں کو معطل کردیا گیا اور ان میں سے کئی لوگوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت کشمیری لیڈروں کی جانب سے داخل کی گئی حبس بے جا کی عرضداشت کی بھی سماعت نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سب سے بڑی عدالت اب تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی ہے کہ جموں کشمیر کے ساتھ جو کچھ بھی کیا گیا وہ آئینی ہے یا نہیں۔ اس کی جانب سے، اس معاملے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے جب کہ بہت سوں کا خیال ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر سننا چاہئے تھا۔
 کئی ایسے قوانین جو سماج کو منقسم کرنے والے ہیں، مثلاً لوَ جہاد کا قانون جو ۲۰۱۸ء کے بعد ۷؍ بی جے پی ریاستوں میں منظور کیا گیا، اُن پر بھی سماعت نہیں ہوئی  ہے۔ یہ ایسے قوانین ہیں جن کے سبب  دو فرقوں کے افراد کے درمیان شادی قابل تعزیر جرم بن گئی ہے۔ اس کے باوجود ان قوانین کو اتنا اہم نہیں سمجھا گیا کہ ان پر جلد سماعت کی جاتی۔
 تین زرعی قوانین کے خلاف عدالت نے کافی کچھ کہا مگر ایک کمیٹی بنادینے کے بعد اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ پھر وہ وقت آیا کہ حکومت نے خود ہی ان  قوانین کو واپس لےلیا۔ پیگاسس کے معاملے میں موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا نے بہت سخت باتیں کہی ہیں لیکن اس سافٹ ویئر سے متاثرہ افراد کو عدالت سے رجوع کئے ہوئے ایک سال ہوچکا ہے اور اب تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ اگر صحافتی اداروں یا افراد، اپوزیشن کے لیڈران، حکومت کے وزراء اورعدالتی عملے کی بھی جاسوسی ہوئی ہے تو حکومت اس کی تفصیل عدالت کو دے مگر حکومت نے افیڈویٹ داخل کرنے سے انکار کردیا۔ 
 ہمیں اس صورت حال کا موازنہ اُن دیگر معاملات سے کرنا چاہئے جن پر عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ ۶؍ اگست ۲۰۱۹ء کو سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے سپریم کورٹ کے جج حضرات کو ایک خط لکھا جس میں اُنہوں نے سپریم کورٹ کے اُن چار ججوں کے الزام کا حوالہ دیا تھا کہ وہ معاملات (کیسیز) جن کو وزیر اعظم خاص اہمیت دیتے ہیں، وہ جسٹس ارون مشرا کی بینچ کو دیئے جاتے ہیں جبکہ اس بینچ کی باری نہیں ہوتی۔ دوے نے کہا کہ اُس وقت کے چیف جسٹس گوگوئی نے قانون و انصاف سے وابستہ حلقوں کو اُس وقت حیرت زدہ کردیا تھا جب ۲۰۱۹ء کے گرما میں تشکیل دی گئی تعطیلاتی بینچ میں جسٹس موصوف خود شامل ہوئے اور جسٹس ارون مشرا کو شامل کیا جبکہ تعطیلات کے دوران چند ہی جج برسرکار ہوتے ہیں اور سینئر جج چھٹی پر ہوتے ہیں۔ جسٹس مشرا نے اڈانی گروپ سے متعلق ایک معاملے پر سماعت کی جبکہ کسی ریگولر بینچ نے اسے تعطیلاتی بینچ کے حوالے بھی نہیں کیا تھااور اس کی ترجیحی بنیاد پر سماعت ضروری بھی نہیں تھی۔ ایسا ہی ایک کیس کی سماعت بھی کرلی گئی اور فیصلہ بھی سنادیا گیا۔ اس کے دوسرے دن جسٹس مشرا نے اڈانی گروپ کے ایک اور کیس کی سماعت شروع کی جس کی پہلی سماعت فروری ۲۰۱۷ء میں ہوئی تھی۔ مشرا نے دوسرے ہی دن یہ کیس فیصل ہوگیا۔ دوے کا کہنا ہے کہ ان دو مقدمات کے فیصلے سے اڈ انی کو ہزاروں کروڑ کا فائدہ ہوا ہے۔ دوے ہی کے مطابق جسٹس مشرا کو کیسیز دیئے جانے اور ان پر اڈانی گروپ کے حق میں فیصلہ آنے کے واقعات ۲۹؍ جنوری ۲۰۱۹ء کو اور اس سے پہلے ۲۹؍ مئی ۲۰۱۸ء کو بھی ہوچکے تھے۔ جسٹس گوگوئی اور جسٹس مشرا نے ان الزامات کا کوئی جواب دیا نہ ہی ان پر کسی کارروائی کا حکم دیا۔ دیگر ججوں نے بھی کچھ نہیں کہا۔ جب ان معاملات کی تحقیق ابیر داس گپتا اور پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا جیسے صحافیوں نے کی اور اڈانی کے ۷؍ کیسیز کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو یہ عقدہ کھلا کہ جسٹس مشرا نے جب بھی اڈانی گروپ کا کوئی کیس سنا، اُس کے حق میں ہی فیصلہ دیا۔ سبکدوشی کے بعد مشرا کو قومی حقوق انسانی کمیشن کا چیئرمین بنادیا گیا۔
 سپریم کورٹ کے آزاد ادارے کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتا ہے، اس کی مضبوط ساکھ ہے اور عوام اس پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ یہ ادارہ سیاسی تقاضوں سے بالاتر ہوکر آئین کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ شناخت، ساکھ اور عوامی اعتماد برسوں میں قائم ہوا کیونکہ ماضی میں کئی بہادر ججوں نے حکومت کیا چاہتی ہے اس سے بالاتر ہوکر فیصلے کئے۔ عدلیہ بالخصوص سپریم کورٹ کا وطیرہ رہا ہے کہ اس نے کبھی سیاست اور میڈیا وغیرہ کا دباؤ قبول نہیں کیا۔ اگرسپریم کورٹ سمیت ملک کی تمام عدالتوں نے بہت اہم معاملات کی شنوائی سے چشم پوشی کی جیسا کہ فی الحال محسوس ہورہا ہے یا اپنی شناخت اور ساکھ کی پروانہیں کی تو تاریخ اس نظام کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کرے گی۔ ہم اب بھی پُرامید ہیں کہ عدلیہ اپنے وقار کو مجروح نہیں ہونے دیگا۔ n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK