سرسید احمد خاں اور ہم

Updated: October 17, 2020, 4:15 AM IST | Editorial | Mumbai

آج سرسید کا یوم ولادت ہے۔ ہر سال جب بھی یہ دن آتا ہے، سرسید کی خدمات آن واحد میں نگاہوں کے سامنے روشن ہوجاتی ہیں ۔ ’

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آج سرسید کا یوم ولادت ہے۔ ہر سال جب بھی یہ دن آتا ہے، سرسید کی خدمات آن واحد میں نگاہوں کے سامنے روشن ہوجاتی ہیں ۔ ’تہذیب الاخلاق‘ ، مسلم یونیورسٹی اور مسلم یونیورسٹی کیلئے سرسید کی قربانیاں یاد آجاتی ہیں ۔اس دوران جدید علوم پر ان کا اصرار ہی سمجھ میں نہیں آتا، قوم کیلئے اُن کی تڑپ بھی محسوس ہوتی ہے اور دل پکار اُٹھتا ہے کہ سرسید محسن قوم تھے مگر افسوس کہ یہ سب ایک ہی دن یاد آتا ہے اور پورا سال ہم سرسید کو بھلائےرکھتے ہیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس قوم کیلئے سرسید نے پوری زندگی وقف کردی، اس قوم نے اُن کے درد کو انگیز نہیں کیا اور اُن کے پیغام کو سمجھ کر عمل میں لانے کی فکر نہیں کی۔ اگر یہ کوتاہی سرزد نہ ہوتی تو آج قوم کی وہ حالت نہ ہوتی جس کے اعتراف میں کسی کو پس و پیش نہیں ہوسکتا۔سرسید کے پیغام کو حرز جاں بنانے کی جتنی ضرورت کل تھی، اُتنی ہی بلکہ اس سے زیادہ آج ہے لیکن ہم ہیں کہ اس پیغام کی تختی تو سجا لیتے ہیں لیکن اسے دل میں نہیں اُتارتے۔ سرسید نے اپنے عمل کے ذریعہ، اپنے کردار کے ذریعہ، یونیورسٹی کے قیام کیلئے دی جانے والی قربانیوں کے ذریعہ، اپنے افکارو نظریات کے ذریعہ، مخالفین کی مخالفت کا تعمیری جواب دے کر اور اپنی علمی و فکری کاوشوں اور سرگرمیوں کے ذریعہ قوم کو بہت کچھ سمجھایا لیکن قوم شاید کوئی اور فیصلہ کئے بیٹھی تھی۔ 
 سرسید نے اپنے تعلیمی مشن کو جاری و ساری رکھنے میں سب سے زیادہ خود پر بھروسہ کیا۔ اُنہوں نے قوم کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا کہ کسی بھی کام کا بیڑا اُٹھائیے تو قوم کچھ نہیں کرتی، لوگ ساتھ نہیں دیتے، سب کو مسندیں چاہئیں محنت و مشقت نہیں چاہئے، سب کو نام و نمود عزیز ہے قربانی عزیز نہیں ، وغیرہ۔ یہ اور ایسے جملے آج کے دور میں تقریباً ہر ادارے میں سننے کو ملتے ہیں ۔ ایسے لوگ اُس دور میں ہوتے تو شاید سرسید کے قریب بھی پھٹک نہ پاتے۔ سرسید کے مشن کیلئے سرسید کا جذبہ اور نظریہ اپنانے کی ضرورت ہے اور اسی کے ذریعہ کام بن سکتے ہیں ۔ سرسید کو ایسے افراد مطلوب تھے جو قوم و ملت کی تڑپ رکھتے ہوں ، ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہتے ہوں ، اسکول اور کالج کی عمارتوں کی تعمیر کے ساتھ کردار کی تشکیل کو اہمیت دیتے ہوں ، عصری مسائل کا شعور رکھتے ہوں اور اُن کے حل کی مخلصانہ کوشش کرتے ہوں ، لکیر کے فقیر نہ ہوں بلکہ ندرت اور جدت پسند ہوں ، نہ تو خود فراموش ہوں نہ خدا فراموش، نہ تو خوشامد پسند ہوں نہ خودغرض۔ ایک انسان بالخصوص مسلمان کیسا ہونا چاہئے یہ جاننے کیلئے مضامین سرسید کا مطالعہ ضروری ہے جن میں سرسید نے قوم کو کئی ایسی باتوں کی طرف متوجہ کیا ہے جن کا تعلق ذاتی کوتاہیوں سے ہے مگر جو قوم کو آگے لے جانے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ مثال کے طور پر ’’کاہلی‘‘۔ سرسید نے کاہلی کو حرکت و زندگی اور کامیابی کا دشمن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ پاؤں سے محنت نہ کرنا، کام کاج ، محنت مزدوری میں چستی نہ کرنا، اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے میں سستی کرنا کاہلی ہے مگر یہ خیال نہیں کرتے کہ دلی قویٰ کو بے کار چھوڑ دینا سب سے بڑی کاہلی ہے۔ کسی شخص کے دل کو بیکار پڑا نہ رہنا چاہئے، کسی نہ کسی بات کی فکر و کوشش میں مصروف رہنا لازم ہے تاکہ ہم کو اپنی تمام ضرورت کے انجام کرنے کی فکر اور مستعدی رہے اور جب تک ہماری قوم سے کاہلی یعنی دل کا بیکار پڑا رہنا نہ چھوٹے گا، اس وقت تک ہم کو اپنی قوم کی بہتری کی توقع کچھ نہیں ہے۔‘‘ ( ص ۲۸۔۲۹) سرسید نے ایسی کئی خامیوں کو اُجاگر کیا جنہیں ختم کرنے کیلئے قوت ارادی سے زیادہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے مگر .....ہم اپنا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ’’دل کے بیکار پڑے رہنے‘‘ پر تو ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا! اگر اب تک ایسا نہ ہوا ہو تو اب بھی وقت ہے، سرسید کی تعلیمات ضائع نہیں ہوگئیں ، پوری طرح محفوظ ہیں ، ضرورت صرف یہ ہے کہ ان سے صحیح معنوں میں استفادہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK