دنیا بھر میں سرسید ڈے زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف سر سیّد کو یاد کرنا نہیں بلکہ اُن کے حوالے سے جدید تعلیم کی اہمیت، سائنسی مزاج اور اپنی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینا بھی ہے۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 10:01 AM IST | Professor Akhtarul Wasey | Mumbai
دنیا بھر میں سرسید ڈے زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف سر سیّد کو یاد کرنا نہیں بلکہ اُن کے حوالے سے جدید تعلیم کی اہمیت، سائنسی مزاج اور اپنی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینا بھی ہے۔
دُنیا بھر میں شاید ہی کسی دانش گاہ کے بانی کو ہر سال اِس قدر جوش و خروش سے خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہو جس قدر ۱۷؍ اکتوبر کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے بانی، مسلمانوں میں جدید تعلیم کے سرخیل اور سائنسی مزاج کے حامی سرسیّد احمد خاں کو پیش کیا جاتا ہے۔ سرسیّد کے انتقال (مورخہ ۲۷؍ مارچ ۱۸۹۸ء) کے فوراً بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہر سال اسی دن یعنی ۲۷؍ مارچ کو اس عظیم شخصیت کو یاد کیا جائےگا۔ یہ دوسری بات ہے کہ جب سر سیّد سے اُن کی زندگی میں کالج کے چند طلباء نے پوچھا تھا کہ کیا کالج کے فاؤنڈرس ڈے کا اہتمام ہر سال نہیں ہونا چاہئے؟ تو سرسیّد نے ( تہذیب الاخلاق کے صفحات گواہ ہیں) کہا تھا کہ فاؤنڈرس ڈے نہیں کالج کا فاؤنڈیشن ڈے منانا چاہئے۔
لیکن سرسیّد کے انتقال کے تیسرے دن تعزیتی جلسے میں ایک احسان شناس قوم کے معماروں اور فرزندوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے اِس کارواں سالار کو ہر سال ۲۷؍ مارچ کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ تب سے اسی دن سرسیّد کی یاد میں جگہ جگہ پروگرام ہونے لگے مگر جب ذاکر صاحب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہو کر آئے تب انہوں نے یہ کہا کہ یومِ وفات پر جشن کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟ اس کے بعد سے سرسیّد کے یومِ پیدائش ۱۷؍ اکتوبر کو سرسیّد ڈے کا انعقاد ہونے لگا۔
دنیا بھر میں جہاں جہاں علیگ برادری ہے، وہاں وہاں سرسید ڈے زور و شور اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ایک دو کو چھوڑ کر دنیا کا کوئی بر اعظم ایسا نہیں ہوگا، جہاں پر سرسیّد ڈے نہ منایا جاتا ہو۔ جہاں تک سرسیّد ڈے ڈِنر کی روایت کا تعلق ہے اس کے جاری رہنے کا مقصد صرف سر سیّد کو یاد کرنا نہیں بلکہ اُن کے حوالے سے جدید تعلیم کی اہمیت، سائنسی مزاج اور اپنی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینا بھی ہے۔ امریکہ میں اولڈ بوائز اسو سی ایشن (جو کہ اب جنسی تفریق کو ختم کرتے ہوئے علی گڑھ المنائی ایسو سی ایشن کہلاتی ہے) نے یہ بھی کیا ہے کہ وہ سرسیّد کی یاد میں برصغیر ہندو پاک اور دوسری جگہوں سے نامور شعرا ء کو بلا کر ہر سال مشاعرہ بھی کرتے ہیں۔ اِ س سے سر سیّد کی یاد بھی تازہ ہو جاتی ہے اور اکثر شعرائے کرام کے تمول و ثروت کا سامان بھی ہو جاتا ہے۔ یہ کام اب اردو کی نئی بستیاں جو خلیجی ممالک، یورپ اور دوسرے علاقوں میں منظرِ عام پر آ رہی ہیں، وہ بھی کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: Pink Noise:جب نیند بھی پروڈکٹ بن جائے، یہ ہےسلیپ اِکنامی کا نیا بازار!
ہندستان اورپاکستان میں سرسیّد ڈے منائے جانے کا چلن بہت عام تھا۔ ہندستان میں تو آج بھی ہے لیکن پاکستان میں علی گڑھ کے فیض یافتہ لوگوں کی کمی نے وہاں پر اِس تحریک کو کمزور کر دیا ہے۔ اِ س کے بجائے پاکستان والوں نے کراچی میں سرسیّد یونی ورسٹی بنا کر سرسیّد کو ایک دائمی یادگار کا تحفہ دیا ہے۔
علی گڑھ میں سر سیّد ڈے کس بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے، اِس کا اندازہ اِ س سے لگائیے کہ ۱۹۶۳ء میں سر سیّد ہال کے کیمپس میں پنڈت جواہر لال نہرو جو اُس سال کےسر سیّد ڈے ڈِنر میں بحیثیت وزیر اعظم شریک ہوئے اور طلباء و اساتذہ کے ساتھ نیچے بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سر سیّد ڈے ڈِ نر کو سرسیّد ہال کیمپس سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیااور اب تو یہ ڈِنر ہر حال میں علاحدہ علاحدہ مہمانوں کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کا مین فنکشن اور سرسیّد احمد خاں یادگاری خطبہ علاحدہ سے ہوتا ہے جس میں یونیورسٹی کے طلباء کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔
۱۷؍ اکتوبر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی والوں کیلئے تیسری عید کا درجہ رکھتا ہے۔ اِ س کیلئے وہ بہت پہلے سے تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ اس کیلئے کس طرح کا لباس زیبِ تن کیا جائے گا، کیا کیا تیاریاں کی جائیں گی، گویا وہ سب ہوتا ہے جو عید کیلئے عام طور پر کیا جاتا ہے۔ سرسیّد کو یاد کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ہندستان اِس بات پر جتنا فخر کرے، کم ہے کہ جدید تعلیم کا پہلا تصور ادارہ سرسیّد کے ذریعے ۱۸۷۵ء کے اوائل میں جنما، جو ۱۸۷۷ء میں ایم اے او کالج اور ۱۹۲۰ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہلایااور صرف عالم اسلام میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں یہ شرف صرف ہندستان کوحاصل ہے کہ جدید تعلیم کا پہلا مسلم ادارہ جو مسلم یونیورسٹی کی صورت میں پچھلے ۱۰۶؍ سال سے منظرِ عام پر ہے اور مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کرنے سے تقریباً نصف صدی قبل سے سرسیّد کی فکری و عملی کوششوں کا عملی مظہر رہا ہے،وہ ہمارے لیے کتنا اہم ہے، اِس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ سر سیّد تھے تو ہم آج دنیا میں تھوڑے سرخرو ہیں، اگر سر سیّد نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے۔ اس لئے علی گڑھ والوں کا سر سیّدکو یاد کرنا اور خراجِ عقیدت پیش کرنا کتنا ضروری ہے۔
(پروفیسر اختر الواسع جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس اور انجمن ترقی اردو ہند کے نائب صدر ہیں)