• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت کچھ تو بتائے، کچھ تو اشارہ دے کہ وہ چاہتی کیا ہے، آخر ایسی بھی کیا آمریت؟

Updated: October 12, 2026, 3:57 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

ملک کے نوجوان سراپا احتجاج ہیں مگر وہ حکومت گرانا نہیں چاہتے، وہ تختہ پلٹنا نہیں چاہتے، بس یہ چاہتے ہیں کہ جو غلط ہوا ہےاس کی اصلاح کی جائے، اس پر بھی حکومت کچھ کہنے سننےکو تیار نہیں، آخرایسا کیوں؟

The government had left no stone unturned to stop the protesters, yet the young people reached Delhi. Photo: INN
مظاہرین کو روکنے کیلئے حکومت نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ، پھر نوجوان دہلی میں پہنچے۔ تصویر: آئی این این

ملک اس وقت ایک تاریخی احتجاج کا گواہ بن چکا ہے۔ وہ احتجاج جس میںنوجوانوں کی صدائے انقلاب کی گونج ہےاوراس گونج سےارباب اقتدار کی چولیں ہل چکی ہیں۔اس احتجاج سےاہل اقتدار کو کچھ فرق پڑے نہ پڑے لیکن ملک کی نئی نسل میںاس سے جو انقلابی ذہنیت پیدا ہوئی ہےوہ کوئی بہت بڑی ، معنی خیز اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہونے والی ہے۔بڑی تبدیلیوں کا آغاز ایسے ہی ہوتا ہے،انقلابات ایسے ہی آتے ہیںاورزمانہ ایسے ہی کروٹ لیتا ہے۔ نا اتفاقی بے چینی میں بدلتی ہے ،بے چینی برہمی میںاوربرہمی  بالآخرنظام کے خلاف شدید سے شدید تر مزاحمت میں ۔ دنیا نے کئی انقلابات دیکھے ہیں ، کئی انقلابات بتد ریج آئے،کئی انقلابا ت نے فوری طورپر کسی ملک اورکسی حکومت کا نقشہ بدل دیا ۔ انقلابات ، ممکن  ہےبظاہر کسی فوری واقعے کا نتیجہ ہوں،لیکن اس کے پس پشت اسباب ایک طویل وقت سے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ایک معمولی نا انصافی بھی انقلاب کا سبب بنتی ہے اورایک واضح استحصال بھی ۔

قاری نامہ: دہلی پولیس کی مظاہرین پر سختی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

برطانیہ کے’ گلوریس  ریولوشن‘   کا دورانیہ ایک سال کا ہے ۔ ۱۶۸۸ء سے۱۶۸۹ء کے درمیان برطانیہ میں کیتھولک حامی جیمس دوم کا اقتدار سمیٹ دیاگیااور انگلش اراکین پارلیمنٹ نے متفقہ  طورپر’ انگلش بل آف  رائٹس‘   متعارف کر کے بادشاہ کےاختیارات محدود کردئیے نیز برطانیہ میںبادشاہت اسی کے نتیجے میںعلامتی طورپر باقی رہ گئی۔ ’ امریکن ریولوشن‘ کا دورانیہ تقریباً ۲۰؍ سال(۱۷۶۵ء تا ۱۷۸۳ء) پر محیط ہے۔۱۳؍ کالونیوں  نے برطانوی حکومت کے ٹیکس نظام کی مخالفت کی ، مسلسل اتحاد کا مظاہرہ کیا اور بالآخر آزادی کا اعلان کرکے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بنیاد ڈالی ۔ فرانس میں انقلاب ۱۰؍سال (۱۷۸۹ء تا  ۱۷۹۹ء) کے عرصے میں آیا۔اس کے ذریعےفرانس میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا ، آزادی اور مساوات کے نظریات کو فروغ ملا اورنیپولین بوناپارٹ کوعروج حاصل ہوا ۔انقلاب چین ۱۹۱۱ء سے۱۹۴۹ء کے عرصے میںوقوع پذیر ہوا۔ ۱۹۱۱ء کے شنہائی انقلاب کے ذریعے پہلے چنگ خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا، پھر۱۹۴۹ء میںماؤ زیڈونگ کی قیادت میںعوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی گئی ۔انقلاب روس ۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے۔اس  انقلاب کے ذریعے دو مرحلوں روس کی کایا پلٹ ہوگئی ۔نکولس دوم کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اورولادیمیرلینن نیز بولشویک گروپ کی قیادت میںسوویت یونین کی شکل میںملک میں کمیونسٹ حکومت کا قیام عمل میں آیا ۔خودوطن عزیز کی جدوجہد آزادی ۱۸۵۷ء سے۱۹۴۷ء کے تقریباً۹۰؍سال کے عرصےکی لرزہ خیز داستان ہے۔

ان انقلابات اور آزادی کی لڑائیوںسے ایک ہی پیغام ملتا ہےجو یہ ہے کہ تحریک شروع ہوئی ہے تو اس کے نتائج ظاہر ہوکررہیںگے۔بہت سی تحریکیں کچل بھی دی جاتی ہیں لیکن ان میں دبی چنگاریاں نہیںبجھتیں ۔ ان چنگاریوں سے پھر کوئی تحریک جنم لیتی ہےجوپھرحکومتوں کے تابوت میں حتمی کیل ثابت ہوکررہتی ہے۔اس طرح کے انقلابات حکومتیںکیلئے ز یادہ متبادل نہیں چھوڑتے ۔راستے دوہی ہوتے ہیںیا توحکومت حقیقت کا اعتراف کرکےاصلاحات کے نفاذ کا اعلان کرےیا پھر مسند سے دستبردار ہوجائے۔

یہ بھی پڑھئے: اُردو: آئیے ! اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جائیں 

اس وقت ملک میںاحتجاج کی پےدرپے لہریں اُٹھ رہی ہیں ۔ ان احتجاج اور مظاہروںکا مقصدحکومت گرانا نہیںہے ، کوئی تختہ پلٹنا نہیں ہے، مقصد صرف اصلاحات اوراہل اقتدار کو جوابدہ بنانا ہے۔سسٹم میں جوکچھ زیادتیاں ہوئی ہیں ، جو غلط ہوا ہے اورہورہا ہے،اس کی نشاندہی کرنی ہے۔جن تاریخی انقلابات کا بالائی سطروں میںذکر کیاگیا ،ان کے نتیجے میںتو اقتدار ختم ہوگئے، حکمراںتخت سے اتر گئے،پورا نظام بدل گیا ۔ملک میں جاری موجودہ احتجاج کی لہراِن تاریخی انقلابی لہروںکے مقابلے میںکچھ بھی نہیں ہےلیکن بات یہی ہےکہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کی اس آواز کو نظر انداز کئے جانے سے  یہ تحریک اور مضبوط ہوگی اور بالآخر ایک انقلاب کی شکل بھی لے سکتی ہے۔

کچھ مہینے پہلےجنتر منترپرجین زی کے احتجاج کے نتیجے میںوزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کواستعفیٰ دینا پڑا تھا ۔یہ  کوئی بڑی تحریک نہیںتھی ۔ نظام تعلیم میں بدعنوانیوںکے خلاف نوجوانوں نے ہنستے کھیلتے احتجاج کیا ۔ ان کا مطالبہ بس وزیر تعلیم کے استعفےکا تھا ۔انہیںبالآخر استعفیٰ دینا پڑا لیکن حکومت  یا حکومت کے کسی اعلیٰ نمائندہ نے پیپر لیک کا اعتراف نہیں کیا ۔ پولیس کے ذریعے ملزمین کی گرفتاریا ں ایک مختلف معاملہ ہے اور حکومت کا بدعنوانیوںکا اعتراف ایک الگ معاملہ ۔پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہےلیکن حکومت پہلے کچھ جمہوری و اخلاقی اصولوںکی پابند ہوتی ہےجس میںایک اصول عوامی جوابدہی کا  ہے  ۔حکومت  کسانوںکو بھی جوابدہ ہے،نوجوانوں کو بھی جوابدہ ہے، طلبہ کو بھی جوابدہ ہےاوراپوزیشن کو بھی جوابدہ ہے۔اگر آپ خود کو جوابدہ نہیںسمجھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہےکہ آپ میںآمرانہ جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کیلئے قومی وسائل کا ناجائز استعمال

ایس آئی آر کے تحت کروڑوںووٹروںکے نام لسٹ سےکٹ جانے کے بعد بھی اگرحکومت خاموش ہے، اس پر اس کا کوئی رد عمل ہی نہیںہےتواس حکومت کے بارے میں کیا کہا جائے ؟ وہ حکومت جو عوام کے حق رائے دہی کی محافظ نہیںہوسکتی وہ کہیں سے عوام کی محافظ نہیںہوسکتی ۔اس کا مقصد ہی یہی معلوم ہوتا ہےکہ حق رائے دہی سے محروم ہونے  والے ووٹروں کو بالآخر ساری حکومتی مراعات سے محروم کر دیا جائے۔ کروڑوں ووٹروں کے نام حذف ہوگئے ، اوروزیر اعظم کے ماتھے پرہلکی شکن تک نہیں، وزیر داخلہ کوکوئی فرق نہیںپڑتا۔یہ ملک کےہی ووٹر ہیں۔ ان کے حق رائے دہی سے محرو م ہونے پرحکمراں پارٹی کا کوئی رد عمل نہیں، حکمراں پارٹی کے کسی لیڈرنے کوئی افسوس ظاہر نہیںکیا۔ کسی کی جانب سےایسی کوئی بات سامنے نہیںآئی کہ مغربی بنگال ، بہار ،یوپی  ، مہاراشٹر او ر دیگر ریاستو ں میں جن ووٹروںکے نام کٹےہیں،انہیںایک موقع ملنا چاہئے۔ اگر حکومت کو عوام کی فکر ہوتی ، اگر وہ خود کو عوام کےآگے جوابدہ سمجھتی توووٹر لسٹ میںنام شامل کرنے میںجتنی سہولتیں دی جاسکتی تھیں، دی جاتیں  ۔ اگر حکومت خود کو جوابدہ سمجھتی تولسٹ سے ناموںکا حذف کرنامشکل ہوتا۔یہاںتوووٹروں کو مشکوک بنادیاگیا ہےاورحکومت مزے میںہے۔حق رائے دہی سے محروم ہونے کے بعدکروڑوںووٹر ملک کے شہری ہونے کے باوجود شہری نہیںہوں گے،وہ اپنے ملک میں اجنبی ہوکر رہ جائیں گے ۔ کیا حکومت یہی دیکھنا چاہتی ہے،کیا بی جے پی کا مقصد ملک کے شہریو ں کو ملک میں اجنبی بناکر رکھناہے؟کیاحکومت ہندوستانیوںسےان کی شناخت تک چھیننا چاہتی ہے؟حکومت کچھ تو بتائے ،کچھ تو اشارہ دے کہ وہ چاہتی کیا ہے؟اگراس کے سامنے بدعنوانیوں کے شواہدپیش کئے جارہے ہیںتو کچھ تو اعتراف کرے؟دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میںایسی بھی کیاآمریت؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK