بہتر نیند کی بڑھتی ہوئی خواہش نے ہندوستان میں ’سلیپ اکنامی‘ کو ایک بڑی مارکیٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ مہنگے گدوں، اسمارٹ گھڑیوں اور سلیپ ٹریکرز سے لے کر پنک نوائز اور نیند سے متعلق ایپس تک، کمپنیاں اب صرف بستر نہیں بلکہ اچھی نیند کا مکمل تجربہ فروخت کررہی ہیں۔ تاہم، پنک نوائز کے فوائد سے متعلق سائنسی تحقیقات کے مختلف نتائج نے اس کاروبار کے دعووں پر سوالات بھی کھڑے کردیئے ہیں۔
پنک نوائز اگر مخصوص لہروں پر چلیں تو انسانی دماغ کو سکون میسر آتا ہے۔ تصویر: آئی این این
کیا نیند خریدی جاسکتی ہے؟ یہ خیال عجیب ہے۔
رات ہوئی، بستر ملا اور انسان سو گیا لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ بہتر نیند کیلئے لوگ مہنگے گدے، اسمارٹ گھڑیاں، شور کم کرنیوالی مشینیں، سلیپ ٹریکرز، ایپس اور ’’کوائیٹ ہوٹلز‘‘ کے تجربات تک خرید رہے ہیں۔ ستمبر ۲۰۲۶ء میں ایم آئی ٹی کی ایک تحقیق نے ’’پنک نوائز‘‘ (Pink Noise)کے فوائد واضح کئے۔ یہ ایسی آواز یا شور ہے جو دماغ میں موجود نیند کے سیال کے بہاؤ کو مضبوط کرکے اچھی نیند لانے میں معاون ہے۔رپورٹ جاری ہونے کے بعد سے اب تک ہر طرف پنک نوائز کے متعلق مباحثے جاری ہیں۔ خیال رہے کہ پنک نوائز ایک ایسی آواز ہے جو ماحول میں ہر طرف سنائی دیتی ہے، جیسے ہلکی بارش کی آواز، پتوں کا سرسرانا، یا ہوا کا چلنا۔ یہ آوازیں اگر مخصوص لہروں پر چلیں تو انسانی دماغ کو سکون میسر آتا ہے۔ اسے اردو میں ’’گلابی آواز‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اصل کہانی آواز کی نہیں، اس کاروبار کی ہے جو نیند کے گرد تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: AI، فلمسازوں اور فلم کمپنیوں کو نئے کاروباری امکانات فراہم کررہا ہے
ہندوستان میں ’سلیپ اکنامی‘ (Sleep Economy) اب گدے یا تکیے کی مارکیٹ نہیں رہی۔ کین ریسرچ کے مطابق ملک کی مجموعی میٹریس اور سلیپ اکنامی کا حجم تقریباً ۳۰؍ ہزار کروڑ روپے ہے۔ ویک فٹ (Wakefit) جیسی کمپنیاں آن لائن فروخت سے آگے بڑھ کر اب بڑے اسٹور کھول رہی ہیں۔ جون ۲۰۲۶ء تک ۱۰۰؍ شہروں میں ۱۶۵؍ ویک فٹ اسٹورز تھے۔ کمپنی صرف گدا نہیں بیچ رہی؛ وہ نیند کیلئے ایک مکمل ریٹیل کیٹیگری بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں جسمانی آرام، ٹیکنالوجی اور ویل نیس، خریداری کے ایک ہی سفر میں شامل ہوسکیں۔
دنیا میں یہ تبدیلی اس وقت آئی جب دنیوی تقاضو ںنے انسانوں میں تھکن کا احساس بڑھا دیا۔ ویک فٹ کے ۲۰۲۶ء کے ایک سروے میں ۸۷ء۶؍ فیصد ہندوستانیوں نے بتایا کہ وہ سونے سے پہلے فون استعمال کرتے ہیں جبکہ ۵۷ء۸؍ فیصد نے کام کے دوران نیند آنے کی شکایت کی۔ اسی سروے میں معلوم ہوا کہ تقریباً ۶۰؍ فیصد لوگ رات ۱۱؍ بجے کے بعد سونے جاتے ہیں۔ جب نیند کم ہوتی ہے تو اچھی اور بہتر نیند کی خواہش بڑھتی ہے، اور جہاں مستقل خواہش یعنی ڈیمانڈ پیدا ہو وہاں کاروبار کیلئے مستقل بازار تشکیل پانے لگتا ہے۔ اس لئے کمپنیاں اب ’اچھی نیند‘ کو واحد مصنوع کے بجائے پورے نظام کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ گدا اس نظام کا ایک حصہ ہے، سلیپ ٹریکر دوسرا، موبائل ایپ تیسرا اور آواز یا روشنی سے متعلق مصنوعات مزید حصے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: Doc at Home، جس طرح گروسری آرڈر کرتے ہیں، طبی خدمات بھی بک کرسکتے ہیں
اس سے ’’کراس سیلنگ‘‘ (Cross-selling) اور بار بار آمدنی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ پنک نوائز اس ماڈل کی بہترین مثال ہے کیونکہ اسے تیار کرنا نسبتاً سستا ہے اور اس کے گرد مصنوعات کی ایک بڑی دنیا بن سکتی ہے۔ ایک آواز ایپ میں مفت سنائی جا سکتی ہے، پھر اسے پریمیم ساؤنڈ مشین، ہیڈ فون، اسمارٹ ڈیوائس یا سبسکرپشن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی اسے بہتر نیند کا وعدہ پیکیج کر کے فروخت کرتی ہے لیکن یہاں سائنس اور مارکیٹنگ کے درمیان فاصلہ سمجھنا ضروری ہے۔ ایم آئی ٹی کی تحقیق میں صرف ۱۴؍ صحتمند افراد پر عین درست وقت پر ۵۰؍ ملی سیکنڈ کے پنک نوائز کے جھٹکے استعمال کئے گئے تھے۔ یہ عام موبائل ایپ پر پوری رات پنک نوائز چلانے کے برابر نہیں ہے۔ اس کے برعکس فروری ۲۰۲۶ء میں پین میڈیسن کی ایک تحقیق میں ۲۵؍ بالغ افراد پر مسلسل پنک نوائز سے نیند میں کمی دیکھی گئی۔ یعنی ’پنک نوائز‘ کو معجزاتی علاج سمجھنا سائنسی طور پر قبل از وقت ہوگا۔
یہ تضاد خود کاروبار کیلئے دلچسپ ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سلیپ ٹیکنالوجی مارکیٹ میں حتمی سائنسی جواب آنے سے پہلے ہی نیا پروڈکٹ بن جاتا ہے۔ مستقبل میں مقابلہ صرف یہ ثابت کرنے کا نہیں ہوگا کہ کون سا آلہ کام کرتا ہے؛ کمپنیوں کو اپنے دعوؤں، تحقیق اور صارف کے اعتماد کے درمیان توازن بھی قائم کرنا ہوگا۔ سلیپ اکنامی کا اگلا مرحلہ شاید گھروں سے باہر بھی جائے۔ ہوٹل بہتر گدے، تکیوں کے انتخاب اور پُرسکون کمروں کو تجربے کا حصہ بنا رہے ہیں۔ کارپوریٹ دنیا میں بھی نیند کو کارکردگی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس سے بزنس ٹو بزنس مارکیٹ بن سکتا ہے جہاں کمپنی ملازمین کیلئے سلیپ پروگرام، ٹریکنگ، مشاورت یا فلاحی خدمات خریدیں۔ اصل کاروباری موقع یہ ہے کہ نیند روزانہ کی ضرورت ہے اس لئے اس کے گرد بننے والے مارکیٹ میں مانگ غیر معمولی ہے۔ ایک صارف آج گدا خرید سکتا ہے، کل ٹریکر، اگلے ماہ کسی ایپ کا سبسکرپشن اور بعد میں اسمارٹ بیڈ۔ یہی ماڈل برانڈ کو ایک پروڈکٹ سے مستقل صارف تک لے جاتا ہے، جہاں اس کی ہر ضرورت نئی فروخت کا امکان پیدا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: ناظرین کی توجہ ’’ہتھیانے‘‘ کی ہوڑ، اِس کوشش میں جو جیتا وہی سکندر ہے!
پنک نوائز کی کہانی دراصل اس تبدیلی کی علامت ہے جس میں ایک قدرتی انسانی ضرورت کو مختلف مصنوعات، خدمات اور تجربات میں تقسیم کرکے ایک مکمل مارکیٹ بنایا جا رہا ہے۔ کل تک کمپنیاں آرام (اور نیند) کیلئے بستر فروخت کرتی تھیں؛ اب وہ نیند کی پیمائش، نگرانی، بہتری اور تجربہ بھی بیچ رہی ہیں۔ اور جس دن کاروبار نے یہ سمجھ لیا کہ نیند ہر رات لوٹنے والا بازار ہے، اس دن ’سلیپ اکنامی‘ محض ویل نیس کا رجحان نہیں رہے گی، یہ صارف کو بار بار برانڈ تک لائے گی جس سے کمپنی کی آمدنی بڑھتی رہے گی۔