Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر: بی ایل اوز کا درد کون سمجھے گا؟

Updated: December 16, 2025, 4:39 PM IST | Sudhanshu Maheshwari | Mumbai

در در بھٹکنا، ایف آئی آر کی دھمکی، کیا یہ لوگ جمہوریت کی خدمت کی قیمت چکا رہے ہیں؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این
الیکشن کمیشن پورے ملک میں ایک خصوصی نظر ثانی اسپیشلل انٹینسیو ریویزن(ایس آئی آر)کرا رہی ہے۔دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار انتخابات کو زیادہ شفاف بنانے کیلئے یہ عمل ضروری ہے۔لیکن ا س عمل پر اپوزیشن پارٹیاں سوال اٹھا رہی ہیں اور عام لوگ بھی کئی دشواریوں کا سامنا کر رہے ہیں۔تاہم ان سب کے درمیان ہم اُن بی ایل اوز کو پوری طرح نظر انداز کر رہے ہیں جو اس مہم(عمل) میں سب سے اہم اور فعال کردار اداکر رہے ہیں۔ یہ بی ایل اوز گھر گھر جاکر دستاویز جمع کر رہے ہیں اور ووٹر لسٹ کو درست اوراپڈیٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔انہیں حقیقی طور پر جمہوریت کااصل سپاہی کہا جا سکتا ہے۔
انتظامی بدنظمی کیلئے بی ایل اوز ذمہ دار کیسے؟
ایس آئی آر میں لگے بی ایل اوز اس وقت پریشان ہیں، دباؤ میں ہیں اور ڈر کے سائے میں جی رہے ہیں اور کئی نے اپنی جان گنوا دی ہے۔اسی طرح اور دباؤ کو سمجھنے کےلئے اخبار نے کچھ بی ایل اوز سے بات چیت کی۔یہ سبھی بی ایل اوز فی الحال کسی نا کسی اسکول میں ٹیچریا پھر شکشک متر کے طور پر ملازمت کر رہے ہیں۔ 
ان میں سے کئی تو ایسے ہیں جو کئی انتخابات دیکھ چکے ہیں ،جنہوںنے ہر بار بغیر سوال کئے حکومت کے احکام پر عمل کیا ہے لیکن اس بار زمینی سطح پر بدنظمی ایسی ہے کہ یہ ٹیچرز بھی پریشان ہوچکے ہیں۔ایک طرف ایس آئی آر کے عمل میں کئی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب افسران کے ذریعے اس عمل کو کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کیلئے دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ایک بی ایل او نے دعویٰ کیا کہ انہیں ٹارگیٹ پورا نہ کرنے پر ایف آئی آر کی دھمکی دی گئی ہے۔اگر کوئی شخص اپنے ضروری دستاویز نہیں جمع کر سکتا ہے تب بھی بی ایل اوزکو ہی مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔اگر کسی گھر کا فرد خود ووٹر لسٹ میں نام درج کروانا نہیں چاہتا تب بھی ا س بارے میں بی ایل اوز سے سوال پوچھے جا رہے ہیں۔یہ کوئی ایک ریاست کی بات نہیں ہے ۔بات چاہے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کی ہو،مغربی بنگال کی ہو یا پھر آندھرا پردیش کی۔ صرف ریاست بدل رہی ہے لیکن یہاں کے تمام بی ایل اوز کو درپیش مسائل ایک طرح کے ہیں۔
کہاں کہاں ہوئی بی ایل اوز کی موت؟
مدھیہ پردیش میں ۲؍بی ایل اوز کی ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی ہے ،مغربی بنگال میں ایک خاتون بی ایل او نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا۔بنگال  ہی کے ’ندیا‘ میں ایک بی ایل او کی لاش گھر کی چھت سے لٹکی ہوئی ملی ہے۔جےپور میں ٹرین کے آگے چھلانگ لگاکر ایک بی ایل او نے اپنی جان دی ہے۔گجرات میں بھی ۴؍بی ایل اوز نے اس دنیا کو الوداع کہہ چکے ہیں۔اب ان اموات پر حکومت کے پاس کوئی صفائی نہیں ہے۔آسانی سے کہا جا رہا ہے کہ پرانی بیماری کی وجہ سے جان گئی ہے لیکن انہی مرنے والوں کے اہل خانہ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ایس آر آئی کا دباؤ اور افسران کی دھمکی کی وجہ سے یہ بی ایل او زپریشان تھے۔
سرکاری ایپ دے چکی ہے جواب،کیسے بھریں فارم؟
اس تنازع پر ایک خاتون بی ایل کہتی ہیںکہ’’میں خود ایس آئی آر عمل میں شامل ہوں،کئی لوگوں کے گھر جا چکی ہوں۔کئی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جن علاقوں میں میں جا رہی ہوں وہاں کئی لوگوں نے اپنے فارم تک نہیں بھرے ہیں۔یہ سبھی اپنی کوئی جانکاری دینا نہیں چاہتے۔ انہیں سمجھانا پڑ رہا ہے کہ آخر کیوں حکومت یہ سب کر رہی ہے۔اس کے علاوہ جب ہم یہ سارا ڈیٹا آن لائن ایپ پر اپلوڈ کرتے ہیں تو وہ کام نہیں کرتا۔اب اگرایپ کام نہیں کر رہا ہے تو اس میں ہماری کیا غلطی ہے لیکن سوال ہم سے کئے جا رہے ہیں۔ ڈیڈ لائن دے دی جاتی ہے اور بس کسی بھی قیمت پر کام مکمل کرنا ہے۔‘‘
افسران کے رویے سے ناراض ایک دیگر بی ایل او بتاتی ہیں کہ ابھی تک ہم کلیکشن کا ہی کام کر رہے ہیں۔گاؤں گاؤں جاکر ڈیٹا اکٹھا کرناہے لیکن لوگ بالکل بھی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ان میں اس ایس آئی آر کے تعلق سےاتنا تذبذب اورشک و شبہ ہے کہ ان کیلئے سمجھنا اور ہمارے لئے انہیں سمجھانا مشکل ہورہا ہے۔اس کے باوجود ہم اپنی جانب سے صد فیصد کوشش کر رہے ہیں۔ہم تو حکومت کی اس پہل کو اپنا پورا تعاون دے رہے ہیں لیکن افسران ہم سے ٹھیک طریقے سے بات بھی نہیں کررہے ہیں اوپر سے ،دھمکی دیں تو واقعی بہت برا لگتا ہے۔ 
شادی شدہ خواتین کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنا مشکل
ایک اور بی ایل او سے جب بات کی گئی تو پتہ چلا کہ ایس آئی آر عمل میں خواتین کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنا ایک الگ طرح کا چیلنج ہے۔ان کے مطابق جو خواتین شادی کرکے اپنے مائکے سے دوسری جگہ آئی ہیں ان کا ڈیٹا کیسےووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے اس میں کافی دقت آرہی ہے۔اس بارے میں بی ایل او کہتے ہیں کہ جو عورتیںشادی کرکےدوسری پنچایت میں آتی ہیں ان کا اس ایس آئی آر کے عمل میں فارم نہیں بھرا جا رہا ہے۔جو خواتین تھوڑا بہت پڑھی لکھی ہیں یا جنہیں جانکاری ہے وہ تو آن لائن جاکر ایک لنک پر کلک کرکےسارا کام کر لیتی ہیں لیکن یہ کام سبھی کو نہیں آتا۔
 ووٹرس خود سے کچھ نہیں کرنا چاہتے
اب بی ایل اوز اس بات سے پریشان ہیں کہ ایس آئی آر کے تعلق سے لوگوں میں بیداری کی کمی ہے۔انہیں اس بات کی پریشانی ہے کہ ووٹرس خود سامنے آکر مدد بھی نہیں کر رہے ہیں۔ایک بی ایل او نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے تو کچھ ووٹرس کی نیتوں پربھی شک ہوتا ہے۔ مجھے گزشتہ روز ۱۰۰؍فارم بھرنے کا ٹارگیٹ ملا تھا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ دوپہر ساڑھے ۳؍ بجے تک بمشکل ۵۰؍فارم ہی بھر سکا۔کسی نے بھی اپنا فارم نہیں بھرا تھا۔کچھ نے جانکاری فارم میں لکھی بھی تو ساری غلط تھیں۔
ہندو ووٹرس میں بیداری بالکل نہیں ہے
ایک بی ایل او نے اپنے تجربہ سے ایک پیٹرن کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ’’جن علاقوں میں مجھے ذمہ داری دی گئی ہےوہاں میں نےدیکھا کہ ہندو ووٹرس ایس آئی آر عمل میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔ وہ اپنے حق رائے دہی کے تعلق سے بیدار نہیں ہیں۔ وہیں دوسری جانب مسلم ووٹرس خود سامنے آکر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا فارم بھروا رہے ہیں۔‘‘
اب یہاں دشواریاںووٹرس کی سطح پر ہیں لیکن سوال پھر بھی بی ایل اوز سے پوچھے جا رہے ہیں۔ ایک افسر سے جب اخبار نے بات کی تو اس نے بتایا کہ ڈی ایم آکر دھمکی دے جاتا ہے ،صرف ایک ڈیڈ لائن ہوتی ہے اور اس میں کام کرنا ہوتا ہے۔
ایس ڈی ایم کی دھمکی، مفت کی تنخواہ لے رہے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ کچھ دن پہلے ہی ہمارے علاقے میں ڈی ایم آیا تھا،بس غصےمیں بول دیا کہ آپ لوگ اتنا سست کام کر رہے ہیں۔اگر وقت پر آپ لوگوں نے کام نہیں نمٹایا تو آپ کیخلاف تعزیراتی کارروائی کی جائےگی۔بی ایل او کے مطابق اب ڈیڈ لائن تو دی جا رہی ہے اس کے علاوہ توہین آمیز اور نازیبا باتیں بھی بولی جا رہی ہیں۔ایک بی ایل او نے بتایا کہ ’’ہمارے علاقے میں کچھ روز پہلے ایس ڈی ایم آئے تھے۔وہ کافی بھڑکے ہوئے تھے۔ہمارے ساتھی کو اس ایس ڈی ایم نے کہہ دیا کہ تم مفت کی تنخواہ لے رہے ہو،کام نہیں کرنا تو گھر بیٹھ جاؤ۔‘‘
بار بار چکر کاٹنا پڑ رہا ہے
ایک اورخاتون بی ایل او سے اخبار نے بات کی تو انہوںنے بتایا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے ساتھ کسی افسر نے بدتمیزی نہیں کی۔انہیں کہیں سے کوئی دھمکی بھی نہیں ملی۔ان کی شکایت اتنی ہے کہ ووٹرس خود سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔وہ ایس آئی آر کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔اس خاتون بی ایل او کی بات پر یقین کریںتو بار بار ووٹرس کے گھر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ بی ایل اوز کی ڈیوٹی میں تناؤ کافی زیادہ ہے۔ اوپر سے دباؤرہتا ہے کہ اتنے فارم اتنے وقت میں بھرنے ہوںگے لیکن کسی کی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ہے۔ویسے اس خاتون بی ایل او نے بھی حکومت کے ایپ پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر غصے کا اظہار کیا کہ سرور ڈاؤن رہتا ہے، ایپ کام نہیں کرتا تو فارم کیسے بھرے جائیںگے؟ 
 الیکشن آتے ہی اکثر اساتذہ ہی کو کیوں کام پر لگایا جاتا ہے اور پریشان کیا جاتا ہے؟
اب جن بی ایل اوز سے اخبار نے بات کی، ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ایس آئی آر کے خلاف ہے یا وہ ڈیوٹی نہیں کرنا چاہتے۔یہ سبھی بس انتظامیہ سے تھوڑا تعاون چاہتے ہیں،عزت چاہتے ہیں۔بس اتنی امید رکھتے ہیں کہ انہیں اس طرح کی دھمکیاں نہ ملیں،ان کی تکلیف کو بھی محسوس کیا جائے، پریشانیوں کو سمجھا جائے۔جو امید آج یہ بی ایل اوز کر رہے ہیں ۲۰۲۱ء میں بھی اتر پردیش پنچایت الیکشن کے دوران کی گئی تھی،لیکن حاصل کیا ہوا۔
کورونا وباء کے دوران ۱۶۰۰؍سے زائد اساتذہ کی موت ہوگئی تھی وہاں بھی یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نے اپنی طرف سے کبھی کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیا تھا۔ اس تعلق سے بعد میں صرف معاوضے کا اعلان ہوا تھا۔اب اس بات کو ۴؍سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا  ہے لیکن حالات میں کسی بھی طرح کی کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔اُس وقت کورونا تھا اور آج ایس آئی آر۔ کیا جان کی قیمت چکاکر ہی جمہوریت کی خدمت کرنا واحد مقصد رہ گیا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK