تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں

Updated: March 30, 2021, 1:48 AM IST | Editorial

کوٹک مہندرا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او اُدے کوٹک نے ’’ای ٹی ناؤ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے غربت اور امارت کا ایک نیا نکتہ سجھایا ہے۔

Coronavirus - pic : INN
کورونا وائرس ۔ تصویر : آئی این این

کوٹک مہندرا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او اُدے کوٹک نے ’’ای ٹی ناؤ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے غربت اور امارت کا ایک نیا نکتہ سجھایا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’کووڈ۔۱۹؍ نے مال و زر کے حامل افراد اور مال و زر سے عاری افراد کی ایک نئی قسم پیدا کردی ہے۔ جن لوگوں کی رسائی سرمائے تک ہے انہیں آپ امیر کہہ سکتے ہیں اور جن کی رسائی سرمائے تک نہیں ہے اُنہیں غریب کہا جاسکتا ہے۔ چنانچہ اگر آپ (کووڈ کی وباء کی وجہ سے) پریشان ہیں مگر مال و زر تک آپ کی رسائی ہے تو آپ کا شمار امیر لوگوں میں ہوگا ، اس کے برخلاف اگر آپ کی رسائی مال و زر تک نہیں ہے تو آپ کی حالت زیادہ خراب ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر نقدی کے بہاؤ نے منظم زمرے کے بڑے حصے کو بچا لیا ہے۔‘‘
 یہ باتیں خالص معاشی اصطلاحات کے استعمال کے ساتھ بیان ہوئی ہیں مگر بالائی سطور میں ان کا ترجمہ کرتے وقت ہم نے کوشش کی کہ انہیں آسان کردیا جائے۔ اس سے بھی زیادہ آسان زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ کووڈ کی وباء سے جو معاشی حالات پیدا ہوئے اُن میں منظم زمرہ تو پھر بھی اپنی ساکھ کو محفوظ رکھنے کے قابل ہے کیونکہ سرمائے تک اس کی رسائی تھی، مگر، غیر منظم زمرہ، جس کی رسائی سرمائے تک نہیں تھی، اپنے اوسان بحال کرنے سے قاصر ہے۔
  اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کے کاروبار مستحکم تھے، اُن پر کووڈ کی ضرب تو پڑی مگر اس ضرب سے اُن کا کچھ خاص بگڑا نہیں ہے۔ البتہ اُن لوگوں کیلئے یہ ضرب کاری ثابت ہوئی ہے جن کا کاروبار مستحکم نہیں تھا یا درمیانے اور چھوٹے درجے کا تھا۔ معاشیات کے ماہرین غیر منظم زمرہ کے بارے میں بیک زبان یہ اعتراف کرتے ہیں کہ کورونا کی وباء نے اس زمرہ کا بڑا نقصان کیا چنانچہ معاشی نقطۂ نظر سے، اس سے وابستہ افراد کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ معیشت کو سنبھالنے کیلئے اس زمرے کے لوگوں کی زیادہ فکر کی جانی چاہئے تھی کیونکہ ملک میں ۸۵؍ فیصد روزگار اور ۴۰؍ فیصد جی ڈی پی اسی کا مرہون منت ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۰ء کو بجا طور پر عوام سے یہ کہتے ہوئے معذرت طلب کی تھی کہ ’’لاک ڈاؤن کی وجہ سے اُنہیں بڑی دشواریوں اور تکالیف سے گزرنا پڑا مگر کورونا سے مقابلے کیلئے اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا۔ ‘‘
 اس معذرت طلبی کے بعد ضرورت تھی کہ غیر منظم زمرے کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی جاتیں مگر یہ نہیں ہوا۔ ان حالات میں یہ زمرہ لاک ڈاؤن کے خاتمے ہی کو اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہا تھا کہ کاروبار دوبارہ شروع ہوجائے گا تو جلد یا بہ دیر معاشی حالت سدھر ہی جائے گی۔ کچھ نہیں ہوا تھا تو کاش یہی ہوتا مگر ایسا لگتا ہے کہ لاک ڈاؤن پیچھا چھوڑنے کو تیار نہیں ہے خواہ اس کی پہلے جیسی شدت باقی نہ رہ گئی ہو۔ مہاراشٹر میں نائٹ کرفیو کی وجہ سے کارخانوں، دکانوں، مالس، شورومس اور خوانچہ فروشوں کو ۸؍ بجے کاروبار بند کرنا پڑرہا ہے جس کی وجہ سے ’’اصل کاروبار‘‘ کے کم سے کم تین بہت اہم گھنٹے ضائع ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دیگر متاثرہ ریاستوں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوگی۔ مارکیٹ میں ڈیمانڈ پہلے سے کم تھی، اب ان نئی پابندیوں کی وجہ سے اس کے مزید کم ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ معاشی سرگرمیوں کو رواں دواں رکھنے میں کلیدی کردار ڈیمانڈ ہی کا ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ متاثر ہوئی تو تمام معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔اسلئے لازمی ہے کہ کاروباری اوقات (صبح ۱۰؍ سے رات ۱۰؍ تک) کو ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK