سہیلہ عبدالعلی: عزم اور حوصلہ کی داستان

Updated: January 04, 2021, 11:49 AM IST | Shahid Nadeem

کامیاب ادیبہ اورصحافی جنہوں نے بچوں کے کئی ناول اور بچوں کے لئے کہانیاں تحریر کیں، ماحولیات کے لئے سرگرم رہیں اورآواز فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی

Sohaila Abdulali.Picture :INN
سہیلہ عبدالعلی۔ تصویر:آئی این این

 آج جب خود کو آئینہ میں دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ کیا میں وہی ہوں جس نے کبھی جینے کا حوصلہ چھوڑدیا تھا، چاہتی تھی کہ اس دنیا سے کہیں دورچلی جاؤں، جہاں مجھے کوئی جانتا پہچانتا نہ ہو، آرزو کرنے والی یہ لڑکی آج ایک کامیاب ادیبہ اورصحافی ہے۔ اس  نے برانڈس یونیورسٹی سے سوشیالوجی اور اکنامکس میں بی اے اور اسٹین فورڈ سے کمیونی کیشن میں ایم اے  کیاہے۔ کئی ناول اور بچوں کے لئے کہانیاں تحریر کیں، ماحولیات کیلئے سرگرم رہیں  اور آواز فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی ، اس کے مقالہ کا موضوع تھا ’ہندوستان میں زنا بالجبر کے سماجی اور اقتصادی اثرات،  جوایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کی کہانی بھی حیرت انگیز ہے۔ سہیلہ صرف سترہ برس کی تھی اور ممبئی میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی ایک روز جب وہ اپنے دوست کے ساتھ قریبی پہاڑی  پرگھومنے گئی تو اچانک چار پانچ لوگ پکڑ کر اسے زبردستی دوسری جگہ لے گئے اور سہیلہ کی کئی گھنٹوں تک عصمت دری کی اور اس کے دوست کو مارا پیٹا۔ وہ لوگ تو انہیں ختم کردینا چاہتے تھے مگر آپس میں بحث کے بعد انہیں زندہ چھوڑ دیا ۔ زخموں سے چور، لڑکھڑاتے قدموں سے وہ کسی طرح گھر پہنچے۔ خاندان والے اچھے تھے کہ انہیں سنبھالا اور سہارا دیا۔ سہیلہ کہتی ہے کہ یوں تو محض سترہ برس کی عمر میں مَیں نے سب کچھ گنوا دیا ، لیکن اس مشکل وقت میں خاندان والوں نے بہت ساتھ اور حوصلہ دیا  ۔‘‘ تین سال بعد ایک روز اس نے اپنے نام سے خواتین کے رسالے’مانوشی ‘، میں اپنی آپ بیتی لکھی ۔  جو بعد میں اس کی کتاب میں شامل کی گئی ۔ وہ بتاتی ہے، اس مضمون سے نہ صرف میرےخاندان بلکہ سماج میں تحریک نسواں پر بھی  اچھا اثر ڈالا۔ آج ۳۲؍ برس بعد جب میں ایک کامیاب ادیبہ بن چکی ہوں۔ دہلی کے واقعہ (نربھیا) کے  واقعہ نے میرے زخم ہرے کردیئے، عصمت دری کی علامت بننا کوئی اچھی بات نہیں ہے، لیکن کوئی شرم کی بھی بات نہیں ہے، اس واقعہ کو گزرے ایک زمانہ ہوگیا مگر سماج کی سوچ  وہی ہے ، جو اس وقت تھی۔  وہ بتاتی ہے کہ یادوں کو تحریر کرنا ممکن نہیں تھا، حالانکہ جنسی بدکاری میری زندگی کا اہم واقعہ نہیں تھا، مگر میں نے سوچا، کافی غوروفکر اور محنت کی کہ دوسروںکے علاوہ  اپنی کہانی بھی اپنے الفاظ میں بیان کرنا مناسب ہوگا۔‘‘
  تیس برس پہلے جب میں سترہ برس کی تھی، اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ جولائی کی ایک گرم شام تھی یہ وہ سال تھا جب مختلف عورتوں کی تنظیموں کی جانب سے عصمت دری کے بارے میں بہتر قانون کا مطالبہ کیاجارہا تھا۔ میں اپنے دوست راشد کے ساتھ تھی ، ہم پیدل گھوم رہے تھے۔ چمبور جو ممبئی کا ایک مضافاتی علاقہ ہے ہم گھر سے کوئی ڈیڑھ میل کی دوری پر ایک پہاڑی کے کنارے بیٹھے تھے، ہم پر چار لوگوں نے ، جن کے پاس ہنسیا تھا حملہ کردیا۔  انہوںنے ہمیں پیٹا، زبردستی پہاڑی کے اوپر لے گئے۔ اور دوگھنٹہ تک وہاں روکے رکھا، ہمیں جسمانی  اور نفسیاتی طورپر تکلیف پہنچائی۔اگر ہم دونوں میں سے کوئی مزاحمت کرتا تو دوسرا مار کھاتا ،یہ ایک اثر دار طریقہ تھا۔  وہ یہ طے نہیں کرپارہے تھے کہ وہ ہمیں جان سے مار ڈالیں یا نہیں۔ ہم نے زندہ رہنے  کے لئے پوری طاقت سے  زور لگایا ۔ میرا مقصد تھا زندہ رہنا اور میرے لئے کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ اہم تھا۔ پہلے تو میں جسمانی طور سے حملہ آوروں سے لڑتی رہی۔ اور گھر جاکر الفاظ سے ۔ غصہ اور چیخنے چلانے کا کچھ اثر نہ ہوا، تب میں نے پاگلوں کی طرح محبت اور  ہمدردی کے بارے میں بولنا شروع کیا۔اس کے  بعد وہ تھوڑا نرم پڑگئے۔  ہمیں چھوڑ دیاگیا، اس نصیحت کے ساتھ کہ میں ایک لڑکے کے ساتھ تنہا گھوم رہی ہوں۔ اس بات سے وہ سخت ناراض تھے ۔ پورا وقت وہ ایسا برتاؤ کرتے رہے جیسے مجھ پر احسان کررہے ہوں، مجھے سبق سکھا رہے ہوں۔  وہ ہمیں پہاڑی سے نیچے لے گئے، ہم اس تاریک سڑک پر لڑکھڑاتے ایک دوسرے کو سہارا دیتے بے ترتیب چلتے رہے، وہ کچھ دور تک ہمارا تعاقب کرتے اور ہنسیا دکھاتے رہے ، آخر کار ہم بچ گئے، ٹوٹے ، شکستہ ،زخمی ، بکھرے ہوئے ۔ کتنا غیر یقینی تھا زندہ بچ جانا، زندگی کے لئے سودے بازی کرنا، ایک ایک لفظ کو تولنا، کیوں کہ انہیں ناراض کرنے کا مطلب تھا  ہنسیا کو پیٹ میں اتاردینا۔    میں نے ان سے وعدہ کیاتھا کہ کسی کو نہیں بتاؤں گی، لیکن پہنچتے ہی میں نے والد سے پولیس بلانے کوکہا۔ وہ بھی انہیں پکڑنے کیلئے بے چین تھے جتنی میں ۔ اس کو روکنے کیلئے کہ جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔ 
 پولیس بے حد لاپروا اور بے حس تھی، مجھے ہی قصور وار ثابت کرنا چاہتی تھی، انہوں نے پوچھا کیا ہوا، میں نے سیدھے سارا واقعہ بیان کردیا۔ نہ شرمائی نہ جھجھکی۔ انہوں نے کہا  اس سے بدنامی ہوگی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، ہونے دو۔ پوچھا پہاڑی پر کیا کرنے گئے تھے، میں ناراض ہوگئی  اور چلانے لگی۔ پھر  انہوں  نے  پوچھا راشد نے مزاحمت کیوں نہیں کی۔ کیا وہ اتنا بھی نہیں جانتے تھے کہ مزاحمت کرنے پر وہ اور بھی زدوکوب کرتے۔ انہوں نے سوال کیا میں نے کیسا لباس پہن رکھا تھا ، راشد کے بدن پر زخموں کے نشان کیوں نہیں ہیں۔ ( اس کے  پیٹ پر مسلسل ڈنڈے برسائے  گئے، اندرونی زخم  رِس رہا تھا۔) جلد ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس قانونی نظام میں عورت کو انصاف  ملنا مشکل ہے۔ ‘‘ بالآخر کوئی الزام درج کئے بغیر انہیں بیان درج کرنے کے بعد گھر جانے کے لئے کہہ دیا گیا۔   آپ جتنا ڈریں گی ، مرد پرست سماج اتنا ہی ڈرائے گا۔ عورتوں کو اس سے ڈرنا نہیں چاہئے بلکہ اس کا مقابلہ کرنا چاہئے، وقتاً فوقتاً لوگ کہتے رہتے ہیں کہ اس سے بہتر ہے کہ موت کو گلے لگالیا جائے۔ میں اسے تسلیم  نہیں کرتی ،  میرے لئے زندگی کا مطلب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ہماری ذمہ داری نئی نسل کی پرورش کرنے والوں میں ایسے جذبات جگانا ہےکہ اگر کوئی مرد ایسا کرتا ہے تو اسے سزا دی جائے تاکہ خواتین کا اعتماد بحال ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK