تعمیرانسانیت کے چند عناصر جو یقیناً کامیابی کی کلید ہیں۔ پہلی قسط

Updated: February 07, 2020, 9:23 AM IST | Abu Noman Bashir Ahmed

اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے انسان کو شکل و صورت، عقل و شعور اور دیگر تمام خوبیوں کے اعتبار سے افضل و اعلیٰ پیدا کیا ہے۔ اگر انسان اپنے اخلاق و کردار کی صحیح تعمیر کرے تو کائنات اس کے تابع ہوجاتی ہے، ورنہ یہ کائنات کے تابع ہوجاتا ہے۔ذیل میں تعمیرِ انسانیت کے چند عناصر ذکر کیے جاتے ہیں جن کے اپنانے سے دنیا و آخرت کی کامیابیاں یقینی ہوجاتی ہیں ۔

علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

ٹھوس عقیدہ و نظریہ
انسان کے کردار کی بنیاد عقیدہ و نظریہ پر استوار ہوتی ہے اس لئے یہ صحیح معلومات اور ٹھوس دلائل پر مشتمل ہونا ضروری ہے۔ فقط ماحول اور عارضی مفادات کی ترجیحات پر نہیں ہونا چاہئے۔
اخلاص نیت و عمل
کسی بھی کام کے لئے نیت صاف ہو، محنت کا رُخ سیدھا ہو اور وفاداری ہو تو مطلوبہ نتائج ضرور حاصل ہوتے ہیں ، اگر جلدی نہیں تو کچھ دیر بعد، اگر دنیا میں نہ سہی تو آخرت کون سی دور ہے۔ اخلاصِ نیت کی وجہ سے کبھی آدمی عمل کرنے والے کے درجہ کو پالیتا ہے اگرچہ عمل کرنے کا اسے موقع نہ ملے۔ قوم کا حقیقی مصلح وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے لگاتار کام میں مشغول رہتا ہے اگرچہ اس کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوتا جیسے بنیاد میں مدفون اینٹوں پر تمام عمارت کا بوجھ ہوتا ہے لیکن ان کی مدح کرنے والا کوئی نہیں ہوتا جبکہ ظاہری اینٹوں اور رنگ و روغن کی مدح سبھی کرتے ہیں ۔
ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر تمہارا منصوبہ سال بھرکا ہے تو فصل اگاؤ، دس سال کا ہے تو درخت لگاؤ، ہمیشہ کا ہے تو انسان تیار کرو۔ آج ہم نے مٹی، لکڑی، اور لوہے پر محنت کرکے قیمتی بنالیا ہے لیکن انسان پر محنت کرکے اسے قیمتی نہیں بنایا۔
استقامت و باقاعدگی
استقامت و باقاعدگی کے بغیر کوئی کام بھی نفع بخش نہیں ہوسکتا، اس کے بغیر کوئی ایک معمولی سی دکان نہیں چل سکتی، تو انسان کی تعمیر کیسے ہوسکتی ہے؟ ہر اہم کام کے پیچھےمشکلات کا لشکر ہوتا ہے لیکن مشکلات نادان کو برباد کردیتی ہیں اور عقلمند کے لئے ترقی کا زینہ ہوتی ہیں ۔ ستارے ہمیشہ اندھیروں میں چمکتے ہیں اور اندھیری رات کے پیچھے روشن صبح یقینی ہوتی ہے اور گھٹن کے بعد بارش آتی ہے اس لئے مشکلات سے گھبرا کر راستہ بدلنے والے کامیابی کی نوید نہیں سنا کرتے۔ جس پودے کو ہر ہفتے نئی جگہ لگادیا جائے وہ خشک ہوجائے گا یا پھل کا بوجھ اٹھانے کےقابل نہ ہوگا البتہ ایک جگہ جم جانے والا پودا ہی ایک دن تنا ور اور پھلدار ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی یہی اصول بیان کیا ہے: ’’ سو بیشک ہر دشواری کے ساتھ آسانی (آتی) ہے، یقیناً (اس) دشواری کے ساتھ آسانی (بھی) ہے۔‘‘ (سورہ الشرح) عربی گرامرکا اصول ہے کہ معرفہ کے تکرار سے ایک چیز مراد ہوتی ہے جبکہ نکرہ کے تکرار سے دوچیزیں مراد ہوا کرتی ہیں اس کے مطابق قرآنی اصول یہ ہوا کہ ایک تنگی برداشت کروگے تو دو آسانیاں حاصل ہوں گی۔
صبر و تحمل
اس دنیا میں بغیر اختلاف کے زندگی ممکن نہیں لیکن اگر کوئی اختلاف لےکر چلنا شروع کردے تو ترقی کا سفر ناممکن ہوجائے گا۔ اس لئے اختلافی و نزاعی باتوں کو اعراض کی نظر کرتے ہوئے تمام قوت عملی تعمیر میں صرف کرنا ضروری ہے۔ بیک وقت تعمیری اور نزاعی دو محاذوں پر چلنا ممکن نہیں ۔ جس طرح درندوں سے اعراض کرناعقلمندی اور ان سے جدال کرنا حماقت ہوتی ہے، وہ اپنی حماقت کی وجہ سے جدال کریں تو انسان کو اپنی شرافت کی وجہ سے ان سے اعراض کرنا چاہئے۔
جس طرح کانٹے دار درختوں سے کبھی کانٹے ختم نہ ہوں گے خواہ کوئی ہمدرد جتنے بھی جتن کرے ،کانٹوں کے ہوتے ہوئے اپنا دامن کو بچا کر گزرجانا ہی کامیابی و دانائی ہے۔ اسی طرح ہر معاشرہ میں کانٹے دار انسان ضرور ہوتے ہیں جو بلاوجہ ہر موڑ پر الجھاؤ کا سبب بنتے ہیں لیکن ایسے لوگوں سے دامن بچا کر اپنے مقصد کی طرف رواں رہنا کامیابی ہے۔ کسی نے پوچھا : آخر کب تک صبر (کریں ) ؟ تو دوسرے نے جواب دیا: نماز جب تک (یعنی جب تک زندگی ہے اور نماز پڑھنی ہے) ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے لئے فرمایا: ’’پس آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھا کریں ‘‘ (الکوثر:۲) اور صبر کے لئے بھی فرمایا: ’’اور آپ اپنے رب کے لئے صبر کیا کریں ۔‘‘ سورہ المدثر
احساسِ ذمہ داری
تعمیر انسانیت، حقیقت میں تعمیرِ شعور کا دوسرا نام ہے۔ شعور کی تعمیر کے بعد ہر چیز اپنے آپ حاصل ہوجاتی ہے۔ اس کے بغیر کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی۔ احساسِ ذمہ داری سے مراد یہ ہوتا ہے کہ جو کام ذمہ ہو، اسے کما حقہ ادا کرنا۔ جس معاشرہ کے امیر و غریب اور حاکم و محکوم اپنے حقوق و فرائض صحیح ادا کرنے والے ہوں تو وہاں ترقی کی راہیں دراز ہوجاتی ہیں ۔
لیکن آج ہم حقوق وصول کرنے والے ہیں ، ادا کرنے والے نہیں ، ہر ایک نےچند ایسے جملے یاد کرلئے ہیں جن کے ساتھ اپنے آپ کو مظلوم اور دوسروں کو ظالم ثابت کرتا ہے اور ظلم کو حق اور جرم کو استحقاق کا نام دیتاہے۔
مثبت اندازِ فکر
ترقی و کامیابی کے لئے مثبت اندازِ فکر ضروری ہے۔ مثبت اندازِ فکر مایوسی سے بچاتا ہے اور انسان کو قوت و ہمت عطا کرتا ہے۔ مثلاً ایک آواز آئی، مثبت اندازِ فکر والا سمجھتا ہے کہ دروازہ کھل گیا اور منفی فکر والا سمجھتا ہے کہ دروازہ بند ہوگیا۔ آدھا گلاس پانی مثبت فکر والے کے نزدیک بھرا ہوا ہے جبکہ منفی فکر والے کے لئے خالی ہے۔
فریڈرک لینگ برج نے لکھا ہے: دو آدمی بنگلہ کے باہر دیکھتے ہیں ایک کی نظر کیچڑ پر پڑتی ہے اور دوسرے کی ستارے پر۔
انسان کی زندگی بہت سے مواقع سے بھری ہوتی ہے۔ اگر ایک موقع ضائع ہوجائے تو بہت سے مواقع ابھی باقی ہوتے ہیں ۔ محنت و استقامت سے باقی مواقع کو مفید بنانے کی کوشش کرنا کامیابی ہے اور گزرے ہوئے مواقع پر افسوس کرتے رہنا ناکامی ہے۔ عربی کا مقولہ ہے: جو شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور کوشش کرتا ہے وہ آخر کار داخل ہو ہی جاتا ہے۔
 مقصد متعین کرنا
با مقصد آدمی کبھی محروم نہیں رہتا، محروم وہ ہوتا ہے جو مقصد سے محروم ہو، جب انسان مقصد متعین کرلیتا ہے تو اس کا حصول آسان ہوجاتا ہے ، جیسے امتحانی کمرہ میں تین گھنٹوں میں طالب علم اتنا لکھ دیتا ہے کہ شاید وہ اتنا تین دنوں میں بھی نہ لکھ سکے کیونکہ کمرۂ امتحان میں مقصد اور وقت دونوں متعین ہوتے ہیں ۔ مقصد متعین کرکے صحیح اسباب اختیار کرکے محنت کی جائے تو صلاحیت ضرورپیدا ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ کا بہترین فرد بنتا ہے۔ جس طرح بیج کو مناسب جگہ اور بہتر ماحول میں بویا جائے تو اس کے اندر پوشیدہ صلاحیتیں ظاہر ہوتی ہیں اور وہ ہردلعزیز پودا بھی بنتا ہے اور پھل بھی دیتا ہے۔
جاری

islam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK