Inquilab Logo Happiest Places to Work

صدقات و عطیات کی تقسیم کے چند شرعی اصول

Updated: April 14, 2023, 11:15 AM IST | Mufti Ghulam Mustafa Rafiq | Mumbai

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے ، قرآن کریم میں بیشتر مقامات پر نماز اور زکوٰۃ دونوں کا ساتھ ذکر کیاگیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا مقام اور درجہ قریب قریب ہے ۔

Pretentiousness, hypocrisy or pretense in the payment of Zakat nullifies the reward
زکوٰۃ کی ادائیگی میں نام ونمود، ریا یا دکھاوا کرنا ثواب کو ضائع کردیتا ہے

زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے ، قرآن کریم میں بیشتر مقامات پر نماز اور زکوٰۃ دونوں کا ساتھ ذکر کیاگیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا مقام اور درجہ قریب قریب ہے ۔ زکوٰۃ عبادت بھی ہے ، ضرورت مندوں اور پریشان حالوں کی اعانت کی بنیاد پر اخلاقیات کا اہم باب بھی، نیز حب مال اور دولت پرستی کی ہوس جیسے روحانی امراض کی تطہیر اور تزکیہ کا ذریعہ بھی۔
مسلمانوں پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی مالی حقوق عائد ہوتے ہیں ،فقط زکوٰۃ کی ادائیگی سے پوری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی ، البتہ یہ دیگر حقوق نہ دائمی ہیں نہ ان کے لئے کوئی نصاب مقرر ہے، بلکہ جب اور جتنی ضرورت ہو ،اس کا انتظام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کے سلسلے میں شریعت نے چند ہدایات دی ہیں ،ان کا لحاظ رکھنا مسلمانوں پر لازم ہے ، ذیل میں ان ہی شرعی اصولوں کو مختصراً ذکر کیا جاتا ہے:
زکوۃ کی ادائیگی سے متعلق بنیادی اصول: جو کچھ دوسروں پر خرچ کیا جائے، اس میں خالص اللہ کی رضا مقصود ہو، کسی بھی قسم کا بدلہ چاہنا، نام ونمود، ریا و دکھاوا، احسان جتانا یا لوگوں کے سامنے اس کاذکر کرنا ثواب کے ضیاع کا باعث اور بلاشبہ سخت گناہ کی بات ہے۔
عمومی اَحوال میں صدقاتِ واجبہ، جیسے زکوٰۃ، فطرانہ وغیرہ ظاہر کرکے دینے کی اجازت ہے، البتہ صدقاتِ نافلہ پوشیدہ طور پر دینے چاہئیں، تاکہ ریا کاری پیدا نہ ہو۔ بعض مواقع پر صدقۂ واجبہ کا اظہار ضروری اور بعض مواقع پر اِخفا لازم ہوگا، اسی طرح بعض اوقات دوسروں کی ترغیب کی نیت سے یا کسی اور مصلحت کے پیشِ نظر نفلی صدقہ ظاہر کرکے بھی دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ریاکاری پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ الغرض اَحوال کے اعتبار سے اس کی افضلیت بدل سکتی ہے۔
زکوٰۃ کے سال کا حساب قمری مہینے سے کرنا چاہئے، نہ کہ شمسی تاریخوں سے۔ شمسی سال قمری سال سے تقریباً گیارہ دن بڑا ہوتا ہے، تاریخ کی تبدیلی سے ملکیت میں موجود مالیت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، نتیجتاً زکوٰۃ کی مقررہ مقدار میں کمی بیشی کا امکان رہتا ہے، جو زکوٰۃ ذمہ میں باقی رہ گئی تو مؤاخذہ ہوسکتا ہے۔
جس مسلمان کے پاس اس کی بنیادی ضرورت ( یعنی رہنے کا مکان ، گھریلو برتن ، کپڑے وغیرہ) سے زائد نصاب کے بقدر (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو وہ زکوٰۃ کا مستحق ہے۔
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک ( کسی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنانا) شرط ہے۔جہاں تملیک نہ پائی جائے وہاں زکوٰۃ کی رقم صرف کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی۔
اگر صاحبِ نصاب آدمی سال مکمل ہونے سے پہلے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہے تو جائز اور درست ہے، زکوٰۃ ادا ہوجائے گی، البتہ رقم دینے سے پہلے یا دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت ضروری ہے، رقم دے دینے کے بعد نیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔زکوٰۃ کے مستحق افراد کو زکوۃ کی رقم سے سامان یا راشن لے کر دینا بھی جائز ہے۔ 
زکوٰۃ کی رقم کسی بھی کام کی اجرت میں نہیں دی جاسکتی اور اس طرح اجرت میں دینے سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ملازمین اگر مستحق ہوں تو انہیں بغیر کسی عوض کے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے، بطور تنخواہ زکوٰۃ کی رقم دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK