کوئی بتائے کہ ہم کہاں ٹھیک ہیں اور حوصلہ افزا کیا ہے

Updated: July 26, 2020, 8:55 AM IST | Aakar Patel

معیشت، بے روزگاری، میک ان انڈیا، صنعتی صورتحال، جی ڈی پی، چین اور کووڈ۔۱۹۔ کسی بھی محاذ پر حکومت کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔

make in india - Pic : INN
میک ان انڈیا ۔ تصویر : آئی این این

وزیر اعظم ایودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ یہ ایک پرشکوہ تقریب ہوگی جیسا کہ ہر وہ تقریب ہوتی ہے جس میں وزیر اعظم شریک ہوتے ہیں۔ یہ تقریب ۵؍ اگست کو منعقد کی جائے گی۔ گزشتہ سال اسی دن کشمیر کی آئینی حیثیت سے ختم ہوئی تھی۔ جہاں تک آئین کی دفعہ ۳۷۰؍ کا تعلق ہے وہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں جو دعوے کئے جاتے ہیں وہ غلط ہیں۔ یہ اب بھی آئین کا حصہ ہے مگر حکومت نے کشمیر میں اس دفعہ کو بے اثر کردیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس اقدام کا مقصد کیا تھا۔ گزشتہ چھ ماہ میں، کشمیر کے تشدد میں ۲۰۰؍ سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ یہ گزشتہ سال کی ہلاکتوں کا دوگنا ہے۔ موجودہ  اقتدار میں یعنی مودی کی حکومت میں کشمیر میں تشدد بڑھ رہا ہے جبکہ واجپئی اور منموہن سنگھ کے دور میں اس میں کمی آئی تھی۔ کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہے، اُنہیں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے چنانچہ وہ اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔ سپریم کورٹ سے اُنہوں نے جو فریادیں کی ہیں اُن پر اب تک سماعت نہیں ہوسکی ہے لیکن دفعہ ۳۷۰؍ کا ’’ختم کیا جانا‘‘ ہی وہ اصل مدعا ہے جو کہ اس پورے منظرنامے کے پس پشت کارفرما رہا۔ 
 آئیے اب دیگر محاذوں کا جائزہ لیا جائے بالخصوص کووڈ۔۱۹؍ کے خلاف ہماری مہابھارت کا۔ وزیر اعظم نے رات ۸؍ بجے کے اعلانات بند کردیئے ہیںجس سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس موضوع (کووڈ۔۱۹) سے اُکتا گئے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ وباء ایسا موضوع ہے کہ جس میں حکومت ایک حد تک ہی کچھ کر سکتی ہے۔ لیکن کچھ دوسری چیزیں ہیں جو حکومت کے اختیار میں ہیں۔ ہمارے پڑوسی پاکستان نے پازیٹیو کیسیز پر بڑی حد تک قابو پالیا ہے۔ اس کے ہاں ۱۴؍ جون کو ۶؍ ہزار، ۸؍ سو کیسیز تھے جو ۲۸؍ جون کو ۴ ؍ ہزار پر آگئے اور ۲۴؍ جولائی کو ۱۲؍ سو پر۔ہندوستان میں ۱۴؍ جون کو ۱۱؍ ہزار کیسیز تھے جو ۲۸؍ جون کو ۲۰؍ ہزار ہوگئے اور ۲۴؍ جولائی کو ۴۹؍ ہزار۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان میں ہمارے مقابلے میں کووڈ۔۱۹؍ کے متاثرین کی تعداد نصف تھی اگر ہم آبادی کے تناظر میں دیکھیں کیونکہ پاکستان کی آبادی ہماری آبادی کا صرف ۲۰؍ فیصد ہے۔ وہاں کے ذمہ داران نے وہ کردکھایا ہے جو ہندوستان نہیں کرپایا۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی، اسی مدت میں متاثرین کی تعداد کم ہوئی ہے۔ مودی صاحب اپنے عظیم اعلانات کے بعد اب اس موضوع پر اظہار خیال نہیں کررہے ہیں۔ 
 اُن کا رات ۸؍ بجے کا وہ اعلان جو ۸؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو کیا گیا تھا، ملک کی معیشت کو تہ و بالا کرنے کیلئے کافی ثابت ہوا۔ حکومت نے معیشت کو پہنچنے والے نقصان پر پردہ ڈالنے کیلئے جی ڈی پی کے اعدادوشمار کو موافق بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ بات مَیں نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ سابق معاشی مشیر اروند سبرامنین نے کہی ہے کہ ہندوستان جی ڈی پی میں ۲ء۵؍ فیصد کا زیادہ اضافہ منظر عام پر لارہا ہے۔ سنیچر کو انگریزی اخبار ’’دی منٹ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جتنے بھی اشارے ملے اُن سے یہی ظاہر ہوا کہ حکومت اعدادوشمار کے سلسلے میں بہت کچھ چھپا رہی ہے۔ صنعتی پیداوار (فیکٹری آؤٹ پٹ)جو ۲۰۱۱ء میں ۹؍ فیصد تھا، اب ۲؍ فیصد ہوگیا ہے۔ مودی حکومت کے اپنے نیشنل سیمپل سروے نے بتایا کہ دیہی خرید ( رورل کنزمپشن) منفی ۱ء۵؍ فیصد ہوگئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مودی کے اقتدار میں دیہی خرید کم ہوئی ہے۔ یہی نہیں شہری خرید ( اَربن کنزمپشن) بھی ۳ء۴؍ فیصد سے اعشاریہ ۳؍ فیصد  (0.3%) پر آگئی ہے۔ 
 کارپوریٹ دُنیا کی سرمایہ کاری میں ۲۳؍ فیصد کا اضافہ ہوا تھا جو ۱ء۸؍ فیصد پر آگیا ہے۔ بینکوں کے ذریعہ قرضوں کی تقسیم بھی جو  ۱۴؍ فیصد تھی، ۴؍ فیصد ہوگئی ہے اس کے باوجود جی ڈی پی میں اضافے کے اعدادوشمار اپنی جگہ برقرار ہیں یعنی مودی حکومت سے پہلے ۷؍ فیصد اور اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی ۷؍ فیصد جس کی توثیق منظر عام پر آنے والی دیگر تفصیلات سے نہیں ہوتی۔ بے روزگاری ملک کی تاریخ میں کبھی اتنی نہیں تھی جتنی کہ اب ہے، کم و بیش ۸؍ فیصد۔ جمعہ کو ریزرو بینک نے کہا کہ بینکوں میں غیر فعال اثاثہ مارچ تک ۸ء۵؍ فیصد سے بڑھ کر ۱۲ء۵؍ فیصد ہوجائیگا۔ ممکن ہے اس سے زیادہ بھی ہوجائے۔ 
 اتنا سب ہونے کے باوجود وزیر مالیات کو معیشت میں اب بھی اُمید کی کرنیں دکھائی دے رہی ہیں ۔ کوئی بھی اُن کی بات پر سنجیدہ توجہ نہیں دیتا۔ بڑے طمطراق سے میک اِن انڈیا کا اعلان کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اس محاذ پر بھی وزیر اعظم مودی کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا جو حصہ ہوا کرتا تھا وہ میک ان انڈیا کے اعلان سے پہلے ۱۵؍ فیصد تھا، بعد میں ۱۴؍ فیصد ہوگیا۔ اس دوران ویتنام اور بنگلہ دیش کی کارکردگی بہتر رہی۔ 
 سوچنا پڑتا ہے کہ اعلانا ت کے علاوہ ایسا کیا ہے جو یہ حکومت بہتر طور پر کررہی ہے یا کرسکتی ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) بھی بڑی دھوم دھام سے منظور کروایا گیا تھا تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ مودی حکومت جنوبی ایشیاء کی ستم رسیدہ اقلیتوں کے تعلق سے کتنی فکر مند ہےمگر اس قانون پر مبنی اُصول وضع نہیں کئے گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ قانون نافذ نہیں ہے اور جنوبی ایشیاء کی ستم رسیدہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ 
 چین سے ہمارے تعلقات میں بھی مسائل ہیں جن کا حل وزیر اعظم مودی نے اس طرح نکالا کہ لداخ پہنچ کر شاندار تقریر کردی۔ اس کے بعد سے سناٹا ہے۔ اکتوبر تک وہاں کے راستے برف سے ڈھک جائینگے اور ہمارے ۲؍ لاکھ فوجیوں کو مناسب اور موافق رہائش میسر نہیں ہوگی کیونکہ اس کا انتظام نہیں کیا گیا۔ چینیوں نے ڈوکلام کے بعد گزشتہ تین سال میں جو رہائش گاہیں تعمیر کی ہیں وہ اُن کے اپنے فوجیوں کیلئے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انہوں نے رہائش گاہیں تعمیر کیں مگر مودی حکومت نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ صورتحال یہ ہے کہ چین ہماری زمین پر موجود ہے اور مودی ہی کے بیانات کو بنیاد بنا کر اپنا دفاع کررہا ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ اپنی جگہ درست اور ہم غلط ہیں۔ یاد رہے وزیر اعظم مودی نے کہا تھاکہ لداخ میں کوئی در اندازی نہیں ہوئی ہے۔ آخر ایسے بیان کی ضرورت کیا تھی۔ یہ واضح نہیں ہے مگر وہ اس موضوع پر بھی ٹھہرے نہیں بلکہ آگے بڑھ گئے ہیں کسی اور پُرجوش اور اپنی نوعیت کے نئے اقدام کی طرف۔ 
 مَیں آئندہ ہفتے اُن کی یوم آزادی کی تقریر کا انتظار کرہا ہوں اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس تقریر میں بھی پرزور اور بلند بانگ وعدے کریں گے مگر اُنہیں نبھانہیں سکیں گے البتہ یہ ضرور ہوگا کہ وہ مزید تقریروں اور اعلانات کی ضمانت دیں گے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK