جو جارہے ہیں کوئی اُن کے جیسا کیوں آئے

Updated: June 18, 2022, 11:02 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

نارنگ چلے گئے۔ اُن سے قبل بھی اُن جیسی کئی قدآور شخصیات نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب ایسی شخصیات کا فقدان ہے۔ جانے والے جارہے ہیں، آنے والے آتے نظر نہیں آتے ۔ کیا اس پر غوروخوض ضروری نہیں؟

Gopi Chand Narang.Picture:INN
گوپی چند نارنگ۔ تصویر: آئی این این

شمس الرحمان فاروقی، شمیم حنفی اور گلزار دہلوی کے بعد گوپی چند نارنگ نے بھی اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ اہل اُردو ایک اور شجر سایہ دار و ثمر بار سے محروم ہوگئے۔ اب کتنا ہی افسوس کیجئے، جانے والا واپس نہیں آئیگا۔ اُس کی یادیں، باتیں اور کتابیں باقی رہیں گی، وہ بھی تب تک جب تک اُنہیں یاد کرنے والے اور اُنہیں پڑھنے والے باقی رہیں گے، اس کے بعد خدا جانے کیا ہوگا۔ جب تک وہ رہے، اُردو لکھی، پڑھی، پڑھائی، دور دور تک اُردو کے چراغ روشن کئے اور جہاں جہاں گئے وہاں وہاں اُردو کی سفارت کا حق ادا کیا۔ اپنا ہر سانس اُردو کے فروغ کی نذر کیا۔ اپنی شبانہ روز تحقیق سے اُردو کی تشکیل و ترویج کے ہزار گوشے روشن کئے۔ وہ ایسے شخص تھے جو دیگر زبانیں جاننے کے باوجود اُردو ہی سے محبت کرتے تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ماردری زبان اُردو نہ ہونے کے باوجود اُردو اوڑھتے تھے، اُردو بچھاتے تھے اور اُردو ہی جیتے تھے۔ اُن کی جادو بیانی سونے پہ سہاگہ تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اُردو اُن کے لب و لہجہ سےادا ہوکر خود پر نازاں ہو۔ جو جادو بیانی تقریر میں تھی وہی تحریر میں پائی جاتی تھی۔ ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو جتنا اچھا لکھتے ہیں اُتنا ہی اچھا بولتے بھی ہوں۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ میں یہ خوبی بدرجۂ اتم موجود تھی۔
  عمر کے ابتدائی دور سے صرفِ نظر کیا جائے تو اُنہوں نے اپنی زندگی کی کم و بیش آٹھ دہائیاں اُردو زبان وادب کی خدمت میں صرف کردیں۔ کہتے تھے ’’ میرے خون کے خلیوں میں اُردو رچی بسی ہوئی ہے۔‘‘ یہ بھی کہتے تھے کہ ’’اُردو میرا تشخص ہے اور میں اس کو اپنی خو ش نصیبی سمجھتا ہوں‘‘۔ کتنے لوگ ہیں جو ایسا کہتے ہیں؟ جن کی مادری زبان اُردو ہے وہ بھی یہ بات نہیں کہتے۔ جن کی روزی روٹی اُردو کی دین ہے وہ بھی ایسا کہنے سے احتراز کرتے ہیں یا کہہ گزریں تو اُن کے شب و روز اس کی گواہی نہیں دیتے۔ نارنگ صاحب کو حق تھا ایسی بات کہنے کا، اس لئے بھی کہ وہ اُردو کی تہذیبی، معاشرتی اور لسانی قدروں اور روایتوں کے مزاج داں اور رمز شناس تھے۔ اسی لئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’اُردو کو محض ایک زبان سمجھنا اس کی توہین ہے، اُردو محض زبان نہیں، اسلوب ِ زیست، طرز زندگی اور ہمارا تہذیبی تشخص ہے۔ یہ زبان ایک ہزار برس کے تہذیبی امتزاج اور ارتقاء کی داستان ہے۔ دُنیا کی دو بڑی تہذیبوں نے ہندوستان کی مٹی کی آمیزش سے انسانیت پسند، وحدت آموز اور قوس قزح کے رنگوں سے بُنا ہوا جو روپ اختیار کیا ہے اور جو ہر طرح کی تنگ نظری، شدت اور تعصب کی نفی کرتا ہے، اُردو اس چہرے کا نام ہے۔‘‘  کتنے لوگ ہیں جو اُردو زبان کو اُس کے تاریخی پس منظر میں اِس طرح دیکھتے، سمجھتے اور برتتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو اُردو سے ایسی والہانہ محبت کرتے ہیں جیسی نارنگ صاحب کو تھی؟  ہر وہ شخص جس نے گوپی چند نارنگ کو دیکھا اور سنا ہے، وہ مشفق خواجہ کے ان جملوں کی حقانیت سے انکار نہیں کریں گے کہ ’’نارنگ جب بولنے کھڑے ہوتے ہیں تو لگتا ہے پوری اُردو تہذیب بول رہی ہے، لہجے کی شائستگی و حلاوت، اس کا اُتار چڑھاؤ، استدلال کی معقولیت، لفظوں کا انتخاب، خیالات کی فراوانی، بولنے کی روانی، ان سب کا نام پروفیسر نارنگ کی تصویر ہے۔‘‘ نارنگ بولتے تھے تو پوری اُردو تہذیب کیوں بولتی ہوئی محسوس ہوتی تھی؟ اس لئے کہ نارنگ نے اُردو کو اپنی مادری زبان کا درجہ دے کر اس کا حق ادا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ اُن کی تصنیف کردہ یا مرتب کردہ کتابوں کی تعداد ۵۷۔۵۸؍ بتائی جاتی ہے مگر خود اُن کا کہنا تھا کہ ’’آج میری کتابوں کی تعداد ستر ّ (۷۰) سے بھی زیادہ ہے‘‘، اِن ستر ّ کتابوں کی تصنیف و تالیف میں اُنہوں نے کتنا خون جگر صرف کیا ہوگا اور اس کیلئے کتنی کتابیں پڑھی ہوں گی، اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ طے ہے کہ نارنگ اپنی محنت سے نارنگ بنے اور اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ نارنگ بننے کیلئے اتنا پڑھنا پڑتا ہے، سوچنا پڑتا ہے، اپنا نقطۂ نظر بنانا پڑتا ہے اور اتنا سب کرنے کے بعد ویسا لکھنا پڑتا ہے جیسا نارنگ نے لکھا۔ یہ جواب ہے اُس سوال کا جو میرے ذہن میں نارنگ کے انتقال کی خبر سن کر پیدا ہوا تھا کہ کیا اُردو کو دوسرا نارنگ مل سکے گا؟ مجھے یاد ہے یہ سوال اُس وقت بھی ذہن میں اُبھرا تھا جب فاروقی صاحب کا انتقال ہوا تھا کہ کیا اُردو کو دوسرا فاروقی مل سکے گا؟ 
 آمدنی کے ذرائع بند ہوجائیں تو جمع پونجی ختم ہونے لگتی ہے۔ اُردو کا بھی یہی حال ہے۔ اس کی جمع پونجی ختم ہوتی جارہی ہے اور آمدنی کے ذرائع بند ہیں۔ تقریباً بند کہہ لیجئےکیونکہ امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وجہ یہ ہے کہ اِس زبان میں محنت کرنے والے عنقا ہیں۔ تسلیم کہ کوئی شخصیت رُخصت ہوتی ہے تو من و عن ویسی شخصیت نہیں مل سکتی، اسی لئے میر کے بعد کوئی دوسرا میر اور غالب کے بعد کوئی دوسرا غالب پیدا نہیں ہوا، اقبال کے بعد کوئی دوسرا اقبال بھی نہیں آیا، فیض کے بعد کسی دوسرے فیض کا بھی اِمکان نہیں ہے مگر یہ تو ہوتا رہا ہے کہ ایک دور نے میر پیدا کیا تو دوسرے دور نے غالب اور اقبال کو جنم دیا، تیسرے دور میں فیض آئے، اس طرح، اِس زبان او راس کے ادب میں بلند پایہ شخصیتیں پیدا ہوتی رہیں۔ جس عہد میں ہم سانس لے رہے ہیں اُس دور کو قرۃ العین، فاروقی، حنفی اور نارنگ میسر آئے۔ کیا اس کے بعد کے ادوار کو بھی ایسی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہوگی؟
 زبانوں اور اُن کے ادب کو بڑی شخصیتیں تب ہی نصیب ہوتی ہیں جب زبانوں کا ہر سطح پر بول بالا ہو اور ادب کی قدر و منزلت کا جذبہ فراواں ہو۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بڑی شخصیتیں آسمان سے نہیں اُترتیں، زمین پر پیدا ہوتی ہیں اور معاشرہ میں نشوونما پاتی ہیں۔ جب معاشرتی ماحول زبان و ادب کیلئے سازگار نہ ہو، تہذیبی تشخص کی فکر نہ ہو، ہر خاص و عام کی زندگی مادّی منفعت کی یرغمال  ہو، محنت کا جذبہ کافور ہوچکا ہو اور سوشل میڈیا کی وا ہ واہی کو شہرت و مقبولیت حتیٰ کہ محبوبیت تصور کرلیا گیا ہو تو محنت و ریاضت بے معنی ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں فاروقی اور نارنگ کیسے پیدا ہونگے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK