گینسبائی ،موسل بے ، کلائنمونڈ اور اطراف کے جنوبی ساحلی علاقوں سے ملاوی، موزمبیق اور گھانا کے سینکڑوں تارکین وطن نقل مکانی پر مجبور۔
گینسبائی میں تارکینِ وطن اپنا سامان لیکر کمیونٹی ہال میں پناہ لینے جارہے ہیں- تصویر:آئی این این
ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں میںتارکین وطن مخالف تشدد سے خوف کاماحول ہے۔ سینکڑوں غیر ملکی باشندے اپنی جانوں کے خوف سے کمیونٹی ہالوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کے ہجوم گھر گھر جا کر انہیں ملک چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر متاثرین کا تعلق ملاوی اور موزمبیق سے ہے۔ کئی افراد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ہفتے کے آخر میں اپنے گھروں سے فرار ہو ئے اور کئی راتیں پہاڑوں اور جھاڑیوں میں گزارنے کے بعد مقامی کمیونٹی مراکز تک پہنچے۔
موزمبیق سے تعلق رکھنے والے تھامس ونسنٹ بالوئی نے گینسبائی میں اے ایف پی کو بتایا، جو کیپ ٹاؤن سے تقریباً۱۰۰؍ کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ ’’انہوں نے کہا، تم غیر ملکی ہو، تمہارا جنوبی افریقہ میں کوئی حق نہیں، اسلئے تمہیں یہاں سے جانا ہوگا۔ میں نے کہا کہ میرے پاس جنوبی افریقہ میں رہنے کے قانونی دستاویزات موجود ہیں، لیکن وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔‘‘ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف جنوبی افریقہ میں کئی ہفتوں سے جاری چھوٹے پیمانے کے احتجاج ہفتے کے آخر میں پرتشدد ہو گئے۔ ساحلی شہر موسل بے میں۵۵؍ جھونپڑیاں نذرِ آتش کر دی گئیں۔جنوبی افریقی پولیس کے مطابق موزمبیق کے دو شہری ہلاک ہوئے، تاہم پولیس نے ان ہلاکتوں کو تارکینِ وطن مخالف مارچ سے براہِ راست منسلک نہیں کیا۔
دوسری جانب موزمبیق کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے۵؍ شہری ’’زینوفوبک (غیر ملکی مخالف) حملوں‘‘ کے نتیجے میں مارے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق تقریباً۳۰۰؍ افراد سنیچر کے روز سرحد پار واپس موزمبیق چلے گئے، جبکہ مزید سینکڑوں افراد کے بھی جلد واپس جانے کی توقع ہے۔
یہ ہلاکتیں تارکینِ وطن مخالف ایک نئی مہم سے جڑی پہلی اموات ہو سکتی ہیں۔ اس مہم کی قیادت چند انتہا پسند گروہ کر رہے ہیں، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ غیر قانونی غیر ملکی جرائم میں ملوث ہیں اور مقامی لوگوں کی ملازمتیں اور وسائل چھین رہے ہیں۔ ایک گروہ نے غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو۳۰؍ جون تک ملک چھوڑنے کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد کوڑوں، لاٹھیوں، ڈنڈوں اور بعض اوقات کلہاڑیوں سے مسلح چھوٹے گروہ مختلف علاقوں میں گشت کرتے دیکھے گئے۔
خیال رہے کہ گھانا پہلے ہی اپنے۳۰۰؍ شہریوں کو واپس بلا چکا ہے جبکہ مزید سینکڑوں افراد اس ہفتے وطن لوٹیں گے۔نائیجیریا نے بھی ہنگامی واپسی کی پروازوں کا اعلان کیا ہے۔مقامی کونسلر مسا نوماتیٹی نے کہا کہ ’’لوگوں کو گھروں سے گھسیٹ کر باہر نکالا جا رہا تھا۔ چاہے وہ قانونی طور پر رہ رہے ہوں یا غیر قانونی طور پر، حملہ آوروں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بستیوں میں کسی بھی غیر ملکی کو برداشت نہیں کریں گے۔‘‘ نوماتیٹی کے مطابق پیر کو ۵۰۰؍ سے زائد افراد اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔منگل کی رات بھی چھوٹے چھوٹے گروہ بارش میں محفوظ مقامات کی جانب جاتے دیکھے گئے۔گینسبائی کی چھوٹی مسجد میں تقریباً۵۰؍ افراد اپنے سامان سمیت پناہ لیے ہوئے تھے۔قصبے کلائنمونڈ میں تقریباً۱۰۰؍ غیر ملکی، ایک کمیونٹی ہال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔