Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی احتجاج: ملکی اخبارات میں پولیس کریک ڈاؤن نمایاں، مظاہرین کا مؤقف محدود

Updated: July 21, 2026, 6:08 PM IST | New Delhi

دہلی میں احتجاجی مارچ کے دوران پولیس کارروائی کے بعد ملک کے بیشتر بڑے اخبارات نے واقعے کو نمایاں کوریج دی، تاہم زخمی مظاہرین کے مؤقف کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ صرف چند اخبارات نے پولیس کارروائی کے ساتھ ساتھ مظاہرین کے بیانات اور ان کے تحفظات کو بھی نمایاں انداز میں شائع کیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

پولیس کی جانب سے ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے داغے جانے کے ایک دن بعد، منگل کو شائع ہونے والے کئی بڑے اخبارات کے پہلے صفحات پر زخمی مظاہرین کی آوازوں کو نمایاں جگہ نہیں دی گئی۔ زیادہ تر انگریزی اور ہندی اخبارات نے اپنے صفحۂ اول پر اس بات پر توجہ مرکوز کی کہ پیر کو مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کی۔ اخبارات نے ان واقعات کی ترتیب بیان کی جن کے نتیجے میں احتجاج دہلی کے مرکزی علاقوں تک پھیل گیا۔ تاہم، دی انڈین ایکسپریس نے اپنے پہلے صفحے پر ایک خبر شائع کی جس میں زخمی مظاہرین کے بیانات بھی شامل تھے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ہزاروں مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا الزام ہے کہ مسابقتی امتحانات کے انتظام میں سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: بیرونِ ملک ہندوستانی مشنز کے ویزا ٹینڈر پر دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار

اس مہم کی جانب سے پیر کو، جب پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوا، پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اگرچہ پولیس نے احتجاجی قیادت کو مارچ سے روک دیا، لیکن کچھ مظاہرین رکاوٹیں عبور کرکے پارلیمنٹ کے قریب اور دہلی کے دیگر مرکزی علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ’’اسکرول‘‘ نے متعدد مظاہرین سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ بھاری پولیس نفری کے باعث انہیں محدود کر دیا گیا تھا۔ ایک مظاہر نے کہا کہ پولیس نے پہلے انہیں ’’بیٹھ جانے‘‘ کو کہا اور پھر اچانک لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ اتر پردیش سے آئے ایک مظاہر کے مطابق، احتجاج مکمل طور پر پُرامن تھا، لیکن سیکوریٹی فورسیز کی مداخلت کے بعد حالات بگڑ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: لکشمن ہاکے کا ’او بی سی جنتا پارٹی‘ کے قیام کا اعلان

دی انڈین ایکسپریس 
منگل کو دی انڈین ایکسپریس نے اپنی سرخی میں لکھا:’’مظاہرین دہلی کے قلب تک پہنچ گئے، مارچ روکنے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ‘‘اخبار نے یہ بھی نمایاں طور پر شائع کیا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں نے پیر کو مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پیش کئے۔ اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے نمائندوں کو کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ مہم کے ترجمان آشوتوش رانکا، جو اس ملاقات میں شریک تھے، نے بعد میں ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ’’یہ ملاقات بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ آئندہ ہم اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گے جب تک وہ خود احتجاجی مقام پر نہ آئیں۔ اگر وہ ہمارے وقت کی قدر نہیں کرتے تو ہم بھی ان کے وقت کی قدر نہیں کریں گے۔ ‘‘تاہم، منگل کے روز دی انڈین ایکسپریس کے پہلے صفحے پر رانکا کا یہ بیان شامل نہیں تھا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا کہ سڑکوں پر ہونے والا ہنگامہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا، میں بھی گونجتا رہا، جہاں پیر کو بار بار کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔

یہ بھی پڑھئے: مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بد ل جاتی: ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

ہندوستان ٹائمز
ہندوستان ٹائمز نے صفحۂ اول پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم، سماجی کارکن سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے اعلان، اور جے پی نڈا کی احتجاجی نمائندوں سے ملاقات پر توجہ دی۔ 
دی ہندو
دی ہندو نے اپنے پہلے صفحے پر لکھا کہ پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اخبار کے مطابق۳۸؍ زخمیوں کو لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج جبکہ ۶۵؍ کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دن ۶۰؍ مظاہرین اور۱۱۸؍ سیکوریٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: اندوہناک سڑک حادثہ، ۶؍ افراد ہلاک

ٹائمز آف انڈیا 
ٹائمز آف انڈیا نے دیگر بڑے انگریزی اخبارات کے مقابلے میں احتجاج کو اپنے پہلے صفحے پر کم جگہ دی۔ اس کی سرخی میں کہا گیا کہ پولیس نے پارلیمنٹ مارچ کو روک دیا جبکہ جے پی نڈا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ احتجاج کی تفصیلی رپورٹ اخبار کے چوتھے صفحے پر شائع کی گئی۔ 
دینک بھاسکر
دینک بھاسکر نے اس احتجاج کو گزشتہ۱۴؍ برسوں میں پارلیمنٹ کے باہر ہونے والا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا اور اس کا موازنہ۲۰۱۲ءکے نربھیا اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد دہلی میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں سے کیا۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ پر کریک ڈاؤن کیخلاف اپوزیشن کا شدید رد عمل

دینک جاگرن 
دینک جاگرن نے لکھا کہ احتجاج کی وجہ سے دہلی کی زندگی مفلوج ہو گئی۔ اخبار نے پولیس کے اس دعوے کا بھی ذکر کیا کہ مظاہرین نے لاٹھی چارج سے قبل پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ مظاہرین نے ایک عمارت کے اندر سے پولیس پر پتھر پھینکے اور ایک سرکاری دفتر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔ 
امر اجالا
امر اُجالا نے اپنی سرخی میں لکھا کہ پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی، جبکہ پولیس نے جنتر منتر کے احتجاجی مقام کو خالی کرا دیا۔ پیر کی شام احتجاجی مہم نے دوبارہ جنتر منتر پر دھرنا شروع کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔ 
نو بھارت ٹائمز
این بی ٹی نو بھارت ٹائمز نے بھی اپنے صفحۂ اول پر اس پیش رفت کا ذکر کیا اور لکھا کہ جیسے جیسے احتجاجی مقام پر بھیڑ بڑھتی گئی، مرکزی حکومت نے کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ بات چیت کا آغاز کر دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK