Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ: بیرونِ ملک ہندوستانی مشنز کے ویزا ٹینڈر پر دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار

Updated: July 21, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے بیرونِ ملک ہندوستانی سفارت خانوں میں قونصلر، پاسپورٹ اور ویزا (CPV) خدمات کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق ٹینڈر منسوخ کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے مرکز کی اپیل مسترد کر دی۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی ٹینڈرنگ مکمل ہونے تک خدمات متاثر نہیں ہونی چاہئیں، اس لیے حکومت عبوری انتظامات کر سکتی ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے پیر کو بیرونِ ملک واقع ہندوستانی سفارتی مشنز میں قونصلر، پاسپورٹ اور ویزا (CPV) خدمات کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق ایک اہم مقدمے میں مرکزی حکومت کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت ابوظہبی، کویت، سنگاپور اور کینبرا میں خدمات کی فراہمی کے لیے جاری ٹینڈر عمل کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے مرکز کی خصوصی اجازت کی درخواستیں (SLPs) مسترد کی جاتی ہیں۔ تاہم عدالت نے عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی ہدایت دی کہ نئی ٹینڈرنگ مکمل ہونے تک پاسپورٹ، ویزا اور قونصلر خدمات میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: مذہب تبدیل کرنے سے ذات نہیں بد ل جاتی: ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

عدالت نے مرکزی حکومت کو اجازت دی کہ وہ عبوری مدت میں موجودہ سروس فراہم کنندگان کو خدمات جاری رکھنے دے یا ضرورت پڑنے پر کوئی اور مناسب انتظام کرے، تاکہ بیرونِ ملک ہندوستانی مشنز میں روزمرہ خدمات بلا رکاوٹ جاری رہیں۔ ساتھ ہی عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ تین ماہ کے اندر دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق شفاف طریقے سے نیا ٹینڈر عمل مکمل کیا جائے۔ یاد رہے کہ ۱۵؍ جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ٹینڈر کے دوران بولیوں کی تکنیکی جانچ کا عمل من مانا، غیر شفاف اور انصاف و مساوات کے اصولوں کے خلاف تھا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا تھا کہ جانچ کے معیار واضح نہیں تھے، بعض امیدواروں کے نمبر بلاجواز کم کیے گئے اور فیصلوں کی وجوہات بھی ریکارڈ پر نہیں لائی گئیں، جس سے پورا عمل مشکوک ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے: خلیل شیخ خود کشی معاملے میں نام آنے کے بعد رویندر دھنگیکر غائب

سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد متعلقہ سفارت خانوں میں خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ سفارتی عملہ اضافی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے حکومت کی یہ دلیل قبول نہیں کی اور واضح کیا کہ انتظامی دشواری کے باوجود شفاف اور منصفانہ ٹینڈر عمل سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ عوامی مفاد کے پیش نظر عبوری انتظامات کی اجازت دی گئی تاکہ بیرونِ ملک ہندوستانی شہریوں کو پاسپورٹ، ویزا اور دیگر قونصلر خدمات حاصل کرنے میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK