• Tue, 16 December, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انفاق: ’’اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھ کیونکہ جہاں تیرا مال رہے گا وہیں تیرا دل بھی رہے گا‘‘

Updated: November 21, 2025, 1:06 PM IST | Maulana Amin Ahsan Islahi | Mumbai

دنیا اور اسبابِ دنیا سے محبت کے سبب اللہ تعالیٰ سے جو غفلت  ہوتی ہے اس کا سب سے زیادہ مؤثر اور کارگر علاج انفاق فی سبیل اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا۔

It is a blessing of giving that the giver of the gift also establishes a proper connection with his society. Photo: INN
یہ انفاق کی برکت ہے کہ صاحب ِ انفاق کا اپنے معاشرے کے ساتھ بھی صحیح ربط قائم ہوجاتا ہے۔ تصویر: آئی این این
 دنیا اور اسبابِ دنیا سے محبت کے سبب اللہ تعالیٰ سے جو غفلت  ہوتی ہے اس کا سب سے زیادہ مؤثر اور کارگر علاج انفاق فی سبیل اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنا۔
یہ بات ملحوظ رہے کہ ہم نے انفاق فی سبیل اللہ کی اصطلاح استعمال کی ہے، زکوٰۃ کی اصطلاح نہیں استعمال کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تزکیۂ نفس اور احسان کے نقطۂ نظر سے دین میں جس چیز کی اہمیت ہے وہ انفاق کی ہے، صرف زکوٰۃ کی نہیں ہے۔ زکوٰۃ تو وہ کم سے کم مطالبہ ہے جو اسلام میں ایک صاحب ِمال سے کیا گیا ہے، اسلام کا اصلی مطالبہ تو انفاق کیلئے ہے جو سراً (ڈھکے چھپے انداز میں) بھی ہو، اعلانیہ بھی ، تنگی میں بھی ہو ، فراخی میں بھی ہو، دوست اور عزیز کیلئے بھی ہو اور مخالف اور دشمن کیلئے بھی۔
زکوٰۃ ادا کردینے سے آدمی ضرور بَری ہوجاتا ہے، لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کے مطالبہ کا تعلق ہے وہ صرف زکوٰۃ ادا کردینے سے پورا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس وقت پورا ہوتا ہے جب آدمی اپنی اور اپنے   اہل و عیال کی ناگزیر ضروریات کے سوا ہر مصرف سے اپنا مال بچا کر اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے جتن کرے۔ جو شخص اس اہتمام سے اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہی درحقیقت انفاق کا اصلی حق ادا کرتا ہے اور وہی ہے جو اس زندگی میں روح کی بادشاہی کا جلوہ دیکھتا ہے اور آخرت میں اپنے رب کی خوشنودی کی جنت دیکھے گا۔  ذیل میں انفاق کی برکات یعنی فائدوں پر مختصراً گفتگو کی گئی ہے: 
اللہ تعالیٰ کے ساتھ حقیقی لگاؤ
انفاق کی سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ یہ آدمی کے دل کو خدا کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتا ہے کہ اس کے لئے خدا سے غافل رہنا ناممکن ہوجاتا ہے۔آدمی کو مال سے جو محبت ہے اس کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ وہ جس جگہ اپنا مال رکھتا ہے یا جس کام میں بھی اپنا سرمایہ لگاتا ہے اسی جگہ یا اسی کام کے ساتھ اس کا دل بھی اٹکا رہتا ہے۔ اگر وہ اپنا مال کسی مخفی جگہ میں دفن کرتا ہے تو اس کا دل ہر وقت اسی گوشے اور اسی خرابے میں  رہتا ہے، اگر وہ کسی بینک میں رکھتا ہے تو اس بینک کے ساتھ اس کا دل بندھ جاتا ہے، اگر کسی کاروبار یا کسی کمپنی میں پیسہ لگاتا ہے تو رات دن اس کاروبار یا کمپنی کی فکر اس کے سر پر سوار رہتی ہے۔ الغرض جہاں آدمی اپنا سرمایہ لگاتا ہے، تجربہ گواہی دیتا ہے کہ وہیں اس کا دل بھی رہتا ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں دیکھئے تو واضح معلوم ہوجاتا ہے کہ جو شخص اپنا مال خدا کے راستے میں خرچ کرے گا اس کا دل بھی خدا ہی کے ساتھ رہے گا کیونکہ اس کا مال خدا ہی کے پاس ہے چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ ’’تو اپنا مال اپنے خداوند کے پاس رکھ کیونکہ جہاں تیرا مال رہے گا وہیں تیرا دل بھی رہے گا۔‘‘
معاشرے کے ساتھ حقیقی ربط
اس کی دوسری برکت یہ ہے کہ صاحب ِ انفاق کا اپنے معاشرے کے ساتھ بھی صحیح ربط قائم ہوجاتا ہے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ چیز بھی کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ فلسفہ  ٔ شریعت کے اعتبار سے یہ دین کی دو بنیادوں میں سے دوسری ہے۔ ایک بندے کے صحیح بندہ بننے کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں: ایک یہ کہ رب کے ساتھ اس کا تعلق بالکل ٹھیک ٹھیک قائم ہوجائے، دوسری یہ کہ خلق کے ساتھ وہ صحیح طور پر مربوط ہوجائے۔ پہلی چیز آدمی کو نماز سے حاصل ہوتی ہے اور دوسری چیز انفاق سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی رمز ہے کہ نماز اور زکوٰۃ کا ذکر قرآن میں ساتھ ساتھ ہوا ہے اور سورۂ بقرہ کے شروع ہی میں نماز کے ساتھ جس دوسری چیز کا ذکر ہوا ہے وہ انفاق ہے، فرمایا گیا: ’’جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ:۲)
یہ دونوں چیزیں درحقیقت وہ دو بنیادیں ہیں جن پر خلق اور خالق کے ساتھ آدمی کے سارے تعلقات کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یوں سمجھنا چاہئے کہ انہی دو چیزوں پر درحقیقت پورے دین و شریعت کی عمارت قائم ہے۔ پچھلے مذاہب میں بھی تمام نیکیوں کی جڑ انہی دو چیزوں کو  قرار دیا گیا تھا۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے ایک  مرتبہ ان کے ایک شاگرد نے پوچھا کہ تمام نیکیوں کی جڑ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تو تمام دل و جان سے اپنے خداوند سے محبت کر اور دوسری چیز یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے محبت کر۔ پھر فرمایا کہ انہی دو چیزوں پر تمام دین وشریعت قائم ہیں۔
پڑوسی سے محبت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ آدمی اس کے لئے اپنا مال خرچ کرے ، اس کے دکھ درد میں اس کا شریک بنے اور اس کی مشکلات میں اس کا ہاتھ بٹائے۔  
جس طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا اولین  مظہر نماز ہے  اسی طرح اس کی مخلوق کے ساتھ محبت کا اولین مظہر انفاق ہے۔
گو ظاہر میں یہ دونوں چیزیں الگ الگ ہیں لیکن ذرا گہری نظر سے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے دوسری چیز درحقیقت پہلی چیز کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ جو آدمی خالق  سے محبت کرے گا وہ اس کی مخلوق سے ضرور محبت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اپنی عیال سے تعبیر فرمایا ہے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ اگر اس کو کسی سے محبت ہوجائے تو اس کے متعلقین سے بھی محبت ہوجاتی ہے۔ اپنی اس فطرت کے تقاضے سے جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے وہ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرنے لگتا ہے اور یہ محبت قدرتی طور پر خلق کی ہمدردی اور ان کے لئے مالی ایثار کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں انسان کو اللہ تعالیٰ سے جو محبت ہوتی ہے وہ اس کے جذبۂ شکرگزاری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وہ جب اپنی ذات اور اپنے گرد و پیش پر حقیقت پسندانہ نظر ڈالتا ہےتو ہر پہلو سے اپنے آپ کو خدا کی نعمتوں سے گھرا ہوا پاتا ہے۔ ان نعمتوں کا احساس اس کو ایک طرف تو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے رب کی بندگی اور پرستش کرے ، چنانچہ اسی تحریک سے وہ نماز پڑھتا ہے اور پھر یہی جذبہ دوسری طرف اس کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ جس طرح اس کے رب نے اس کے اوپر احسان فرمایا ہے اسی طرح وہ اپنی استطاعت کے مطابق اللہ کے دوسرے بندوں پر احسان فرمائے۔
انفاق سے حکمت حاصل ہوتی ہے
انفاق کی تیسری برکت یہ ہے کہ یہ دین کے دوسرے تمام عقائد و اعمال کے لئے بمنزلہ غذا اور پانی کے ہے۔ اس سے آدمی کی وہ نیکیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں جو کمزور اور ناتواں ہوتی ہیں اور اس کے وہ عقائد مستحکم اور پائیدار ہوجاتے ہیں جو ابھی اچھی طرح دل میں راسخ نہیں ہوئے ہوتے ہیں۔ دین کے عقائد اور اعمال کا یہی رسوخ و استحکام ہے جس کو قرآن مجید میں حکمت سے تعبیر کیا گیا ہے اور قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکمت کے خزانہ کی کلید درحقیقت انفاق ہی ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ کے آخر میں انفاق کی برکتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ :
’’شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے  اور  اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، وہ جس کو حکمت ملی، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔‘‘  (البقرہ: ۲۶۸۔۲۶۹)
یہ اس انفاق کی برکت بیان ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے دل کو دین کے احکام پر جمانے کے لئے کیا جائے۔ چنانچہ اس کی تمہید یوں شروع ہوتی ہے: ’’اور جو لوگ اپنے مال اﷲ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے دل کو جمانے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے  جو اونچی سطح پر ہو اس پر زوردار بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے۔‘‘  (البقرہ:۲۶۵) 
’’اپنے دل کو جمانے کے لئے‘‘ یعنی دل کی خواہشات کے علی الرغم وہ اپنے مال اس  لئے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے لئے خدا کے احکام کی تعمیل اور اس راہ میں ہر قربانی آسان ہوجائے۔ جو لوگ اس مقصد سےمال خرچ کرتے ہیں ان کا صلہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ ان کو اپنی مغفرت اور اپنے فضل سے نوازتا ہے اور ساتھ ہی ان کو حکمت کا وہ خزانہ بھی عطا فرماتا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔
انفاق کی چوتھی برکت یہ ہے کہ اس سے آدمی کے مال میں برکت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اس برکت کی مثال اس طرح بیان فرمائی گئی ہے:  ’’جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں)، اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۶۱)
دوسری جگہ فرمایا گیا ہے:
’’اور اﷲ سود کو مٹاتا ہے (یعنی سودی مال سے برکت کو ختم کرتا ہے) اور صدقات کو بڑھاتا ہے (یعنی صدقہ کے ذریعے مال کی برکت کو زیادہ کرتا ہے)۔‘‘ (البقرہ:۲۷۶)
یہ برکت آخرت میں جو ظاہر ہوگی وہ تو ہوگی ہی، اس دنیا میں بھی اس شخص کے مال میں برکت ہوتی ہے جو خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے بے شمار بندے جو اس کے مال سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کیلئے دعا کرتے ہیں۔ یہ دعا کرنے والے بالعموم اہل حاجت ہوتے ہیں جو اپنی حاجتمندی کے سبب اس بات کے مستحق اور حقدار ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے بلکہ بعض روایات سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے لئے خدا کے فرشتے بھی برکت کی دعا کرتے ہیں۔ 
اس موضوع پر ایک حدیث کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ بندوں پر کوئی صبح بھی نہیں آتی ہے مگر دو فرشتے اترے ہیں، ایک  یہ دعا کرتا  ہے کہ اے اللہ تو اپنی راہ میں مال خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما، اور دوسرا یہ دعا کرتا ہے کہ تو بخیل کو بربادی اور نقصان عطا فرما۔‘‘ (متفق علیہ)
لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ برکت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے کی تجوریاں بھر جاتی ہیں یا اس کے بینک بیلنس میں اضافہ ہوجاتا ہے یا اس کی املاک و جائیداد کی تعداد کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے بلکہ برکت کا مفہوم یہ ہے کہ مال کا جو حقیقی فائدہ اور نفع ہے، جس مقدار میں وہ حاصل کرتا ہے اس کے مقابل میں دوسرے حاصل نہیں کرپاتے۔ خلق خدا کی جو خدمت اس کے مال سے انجام پاتی ہے، دوسروں  کے مال سے انجام نہیں پاتی۔ معاشرہ  اور تمدن کی اصلاح و ترقی میں جو حصہ اس کے مال کا ہوتا ہے ، دوسروں کے مال کا نہیں ہوتا۔ خدا کی خوشنودی کا جو لازوال خزانہ وہ اپنے مال کے بدلے میں حاصل کرلیتا ہے ، دوسرے اس سے محروم رہتے ہیں۔ خلق خدا کے دلوں میں عزت اور محبت کا جو مقام اسے ملتا ہے ، روپے کو گن گن کر رکھنے والے اور کوٹھیوں اور کاروں کے مالک اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جو فراغِ خاطر، جو سکونِ قلب، جو اعتماد علی اللہ، جو قلبی مسرت اور دل اور روح کی جو بادشاہی اس کو حاصل ہوتی ہے،  دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کو کبھی خواب میں بھی وہ چیز ملنا تو دور، نظر بھی نہیں آتی۔
اس برکت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انفاق کرنے والے کا مال چونکہ دوسروں کے دبائے ہوئے حقوق کی فاسد ملاوٹ سے پاک ہوتا ہے اس وجہ سے صالح بیج کی طرح اس کی قوت ِنشوونما میں بڑا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی قدر و قیمت کو مضاعف کردیتا ہے اور ان آفتوں سے وہ محفوظ ہوجاتا ہے جو آفتیں اندر اندر ان مالوں کو چٹ کرتی یا تلف کرتی رہتی ہیں  جن کے اندر دوسروں  کے حقوق کی آلائشیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔
انفاق کی یہ برکتیں نہایت واضح الفاظ میں قرآن اور حدیث میں بیان ہوئی ہیں اور ہر شخص اپنے ذاتی تجربے سے بھی ان کی صحت و صداقت کا اندازہ کرسکتا ہے۔ لیکن اگر انفاق کرنے والا کچھ باتوں کا خیال نہ رکھے اور اپنے انفاق کو پوری احتیاط کے ساتھ ان سے بچانے کی کوشش نہ کرے تو پھر اس کے انفاق کی ساری برکت برباد ہو کے رہ جاتی ہے اور وہ ان فوائد میں سے کوئی ایک فائدہ بھی حاصل نہیں کرپاتا جن کی طرف مذکورہ سطور میں اشارہ کیا گیا  ہے ۔ 
بہت سے لوگ خدا کی راہ میں خرچ تو کرتے ہیں لیکن دل کی فیاضی اور ولولہ اور حوصلہ کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے پیش نظر صرف ایک مطالبہ کو کسی نہ کسی طرح پورا کردینا ہوتا ہے۔ جس بے دلی، بددلی اور افسردگی  کے ساتھ  وہ حکومت کاعائد کردہ کوئی ٹیکس ادا کردیتے ہیں اسی بددلی اور افسردگی کے ساتھ کسی دینی و مذہبی کام کے لئے بھی کچھ مال وہ نکال دیتے ہیں۔ اس اکراہ اور تنگ دلی  کے سبب اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرتے وقت ان کی خواہش اور کوشش ہر پہلو سے یہ ہوتی ہے کہ خدا کی راہ میں وہ چیز دیں جس کا دینا ان کے دل پر گراں نہ گزرے، جو ان کی ضرورت سے بالکل فاضل ہو یا جس سے کم از کم ان کو کوئی بڑا فائدہ اٹھا سکنے کی توقع نہ ہو۔ اگر قربانی کریں گے تو ایسے جانور کی جو کم قیمت اور بے حیثیت ہو، صدقہ کریں گے تو ایسے مال کا جو انہیں خود قبول کرنا پڑے تو اس کو دیکھ کر ٹھٹھک جائینگے اور اگر کسی قومی یا مذہبی مقصد کے لئے اپنی کوئی چیز الگ کریں گے تو وہ ایسی چیز ہوگی جس کی فائدہ بخشی کی صلاحیت اب ختم ہورہی ہو۔
اس طرح کا انفاق نہ صرف یہ کہ کوئی خیر و برکت نہیں پیدا کرتا بلکہ وہ سرے سے اللہ کے ہاں شرف ِ قبولیت ہی نہیں پاتا۔ انفاق کے موجب ِ خیر و برکت ہونے کیلئے سب سے پہلی چیز آدمی کے دل کی آمادگی اور تیاری ہے۔ جو انفاق دل کی آمادگی کے ساتھ نہ کیا جائے وہ خدا کے ہاں قبول ہی نہیں ہوتا تو اس میں خیر و برکت کیا ہوگی؟
یہ آمادگی اور تیاری اس تصورکو بیدار رکھنے سے پیدا ہوتی ہے کہ خدا یا اس کا کوئی کام ہمارا یا ہمارے مال کا محتاج نہیں ہے بلکہ ہم خود ہر لمحہ اس کی عنایت و مہربانی کے محتاج ہیں۔ یہ محض اس کی طرف سے ہمارا ایک امتحان ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ سے ہمیں بخشتا ہے اور دوسرا کسی سائل یا مانگنے والے کی طرف سے  بڑھاتا ہے تاکہ دیکھے کہ ہم اسی کا بخشا ہوا مال خود اسی کو دیتے ہوئے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ فیاضی اور حوصلہ کے ساتھ دیتے ہیں یا تنگ دلی اور ترش روئی کے ساتھ۔ جو لوگ اس  آزمائش سے آگاہ ہیں وہ انفاق  کے ہرموقع کو خدا کی رضاجوئی کا ایک مغتنم (جو غنیمت ہو) موقع سمجھتے ہیں اور اس  کی راہ میں اپنے مال و متاع کا وہ حصہ پیش کرتے ہیں جو انہیں خود محبوب ہوتا  ہے۔محبوب اور پسندیدہ چیز خرچ کرنے ہی سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت ، فرمانبرداری اور وفاداری کا حق ادا ہوتا ہے۔ جو لوگ محض زبانی جمع خرچ سے اللہ تعالیٰ کی وفاداری کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں، ان کے بارے میں قرآن مجید کا یہ ارشاد ہے:
’’تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔‘‘ (آل عمران:۹۲)
جو لوگ خدا کی راہ میں اپنا ناپسندیدہ یا غلط راہوں سے آیا ہوا مال دے کر خدا کو ٹالنے کی خواہش رکھتے ہیں، ان کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد ہے:
’’اے ایمان والو! ان پاکیزہ کمائیوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اﷲ کی راہ میں) خرچ کیا کرو اور اس میں سے گندے مال کو (اﷲ کی راہ میں) خرچ کرنے کا ارادہ مت کرو کہ (اگر وہی تمہیں دیا جائے تو) تم خود اسے ہرگز نہ لو سوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی کر لو، اور جان لو کہ بیشک اﷲ بے نیاز لائقِ ہر حمد ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۶۷)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK