اسٹین سوامی کی موت اور بھیما کورگاؤں کیس

Updated: July 11, 2021, 4:52 AM IST | Mumbai

اکثر لوگ کسی واقعہ کی زیادہ تفصیل نہیں جانتے۔ مجھے یقین ہے کہ بھیما کوریگاؤں کیس سے بھی کم ہی لوگ واقف ہیں۔ اُنہیں علم نہیں ہے کہ یہ کیس کیا تھا جس کے سبب اسٹین سوامی کو ضمانت نہیں دی گئی اور وہ انتقال کرگئے۔

Stan Swamy, who died a few days ago, was in custody due to lack of bail in the Bhima Koregaon case.Picture:INN
اسٹین سوامی جن کا چند روز قبل انتقال ہوا، بھیما کوریگاؤں کیس میں ضمانت نہ ملنے کے سبب حراست ہی میں تھےتصویر آئی این این

 سوامی جن کا چند روز قبل انتقال ہوا، بھیما کوریگاؤں کیس میں ضمانت نہ ملنے کے سبب حراست ہی میں تھے۔ شدید بیمار ہونے کے باوجود اُنہیں ضمانت نہیں ملی۔ یہ وہ شخص ہے جو تمل پادری تھا۔ اس نے کئی دہائیاں جھارکھنڈ کے ادیباسیوں کے ساتھ گزاریں تاکہ اُن کی حالت کو بہتر بنایا جاسکے۔ اس بڑے سماجی مقصد کو نصب العین بنانے سے قبل وہ بنگلور کے انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر تھے۔ سوال یہ ہے کہ پونے کے ایک جلسے کے سلسلے میں اُنہیں کیوں گرفتار کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا؟بہ الفاظ دیگر بھیما کوریگاؤں کیس کیا ہے؟ 
 بھیما کوریگاؤں کیس دراصل کئی علاحدہ علاحدہ اور ایک دوسرے سے قطعی غیر مربوط معاملات کا مجموعہ ہے۔ پہلا معاملہ یلغار پریشد کا وہ جلسہ ہے جو ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۷ء کو پونے میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس جلسے کے مقررین میں ہائی کورٹ کے سابق جج بی جی کولسے پاٹل اور سابق سپریم کورٹ جج پی بی ساونت کے علاوہ گجرات کے آزاد ایم ایل اے جگنیش میوانی اور جواں سال ایکٹیوسٹ عمر خالد شامل تھے۔ کبیر کلا منچ کے اراکین نے بھی اس میں شرکت کی جو فنکار بھی ہیں اور سماجی خدمتگار بھی۔
 دوسرا معاملہ یکم جنوری ۲۰۱۸ء کا ہے۔ یہ بھیما کوریگاؤں کی جنگ کی ۲۰۰؍ ویں سالگرہ کا دن تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پونے کے مضافات میں بھیماندی کے ساحل پر یکم جنوری ۱۸۱۸ء کو انگریزوں نے مراٹھا حکومت کی باقیماندہ فوجوں کو پسپا کیا تھا۔ برطانوی فوج میں بہت سے ایسے سپاہی تھے جو ہندوستانی اور مہار دلت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے برہمن پیشوا کی فوج پر غلبہ حاصل کیا جبکہ اس کی فوج بہت بڑی تھی۔ ۱۹۲۷ء میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے مذکورہ فتح پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے اس گاؤں میں تشریف لائے تھے۔ تب سے یہ ایک سالانہ جلسے میں تبدیل ہوگیا۔ ہر سال ہزاروں دلت کوریگاؤں بھیما آنے لگے تاکہ مذکورہ فتح کا جشن منائیں۔ اگر آپ اوپر بیان کی گئیں تاریخوں پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جشن فتح منانے کا سلسلہ برسوں پرانا ہے۔ یہ کوئی نیا جشن یا نیا جلسہ نہیں تھا مگر ۲۰۱۸ء میں جب یہ دن آیا تو ودھو بدروک نامی قریبی گاؤں میں ایک تقریب میں کافی لوگ جمع تھے جس کی وجہ سے یہاں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ سوال یہ تھا کہ کوریگاؤں بھیما کے قریب، شیواجی کے صاحبزادہ سمبھا جی کی آخری رسومات کس نے ادا کی تھیں۔ مہاروں کا دعویٰ تھا کہ یہ ذمہ داری انہی کی صفوں کے ایک شخص گوپال گووند کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ اس کی وجہ سے مراٹھوں میں ناراضگی پیدا ہوئی جن کا کہنا تھا کہ دو مراٹھوں نے آخری رسومات ادا کی تھیں۔ 
 گوپال گووند کی آخری رسوم کا مقام اسی علاقے میں ہے جہاں سمبھا جی کی آخری رسوم ادا کی گئی تھیں۔ ۲۸؍ دسمبر کوگوپال گووند کی آخری رسوم کی جگہ پر ایک بورڈ آویزاں کیا گیا جس پر لکھا تھا کہ انہوں نے سمبھا جی کی آخری رسوم ادا کی تھیں۔ دوسرے دن گووند کی یادگار کو نقصان پہنچایا گیا، بورڈ ہٹایا گیا اور مذکورہ جگہ پر تنی ہوئی ایک چھتری کو بھی مسخ کیا گیا۔ دلتوں نے اس واقعہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ اس دوران کوریگاؤں بھیما کی پنچایت نے یکم جنوری کے جلسے کے بائیکاٹ اور دکانیں بند رکھنے کی اپیل کی ۔ یکم جنوری کو تشدد رونما ہوگیا۔ اس سلسلے میں دلتوں کا کہنا تھا کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ تشدد میںایک مراٹھا شخص فوت ہوا۔ اس کے ساتھ ہی مغربی مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں بھی تشدد پھیل گیا ۔ ممبئی پولیس نے ۳۰۰؍ دلتوں کو جن میں نابالغ افراد بھی تھے، حراست میں لے لیا۔
 تیسرا معاملہ پولیس میں درج کی جانے والی ایک شکایت کا ہے جو مذکورہ واقعات کے چند روز بعد درج کرائی گئی تھی اور جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یلغار پریشد کے جلسے کا اصل مقصد دلتوں کو ماؤ نوازوں میں تبدیل کرنا اور سماج میں دشمنی پھیلانا تھا۔ پولیس میں شکایت تشار دمگڈے نامی شخص نے درج کرائی تھی جس کا کہنا تھا کہ وہ ہندوتوا کے جس اُصول پر عمل کرتا ہے وہ ہے ’’جو چیزیں ہندوؤں کے مفاد میں ہوں اُنہیں برقرار رکھا جائے اور بقیہ تمام چیزوں کو ترک کردیا جائے۔‘‘
  اس کی شکایت پر پولیس حرکت میں آئی اور اس نے ایسے سماجی خدمتگاروں کو بھی گرفتار کرنا شروع کیا جن کا یلغار پریشد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔وہ جلسے میں شریک بھی نہیں تھے۔ 
 چوتھا معاملہ ایک ایسی رپورٹ کا تھا جو آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم فورم فار انٹیگریٹیڈ نیشنل سیکوریٹی کی بنائی ہوئی تھی۔ اس کے جنرل سکریٹری شیشادری چاری کا تعلق بی جے پی سے رہا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جلسے کا مقصد عوام کو ماؤ وادیوں کے ایجنڈے سے مانوس کروانا اور اُنہیں ماؤو واد کی طرف راغب کرنا تھا۔ ۹؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسی تنظیمیں (یلغار پریشد) آگے چل کر لوگوں کو ماؤواد کیلئے منتخب کریں گی اور انہیں مسلح مزاحمت کیلئے تربیت دیں گی وغیرہ۔ یہ رپورٹ اپریل میں، مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو پیش کی گئی تھی۔
 یہ اور ایسی کئی باتوں یعنی دعوؤں کے پیش نظر جن شخصیات کو حراست میں لیا گیا ان میں سدھا بھاردواج، گوتم نولکھا، آنند تیلتمڑے، ارون فریرا، ویرنون گونسالوس، ورورا راؤ اور جیوتی جگتاپ جیسے لوگ شامل ہیں جن کا علمی اور سماجی مرتبہ کافی بلند ہے اور جو اپنے اپنے میدان کے شہسواروں میں سے ہیں۔ 
 ان میں سے کسی کا بھیما کوریگاؤں واقعہ یعنی تشدد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اس کیس کو اس لئے حساس کہا جاتا ہے کہ اس میں ملزمین کے خلاف جو الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ کافی سنگین ہیں مثلاً سیاسی قتل کا الزام۔ اس کے باوجود سماعت اب تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ سال بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جو اسٹین سوامی پر تھی۔ اس رپورٹ کی سرخی تھی: ’’ہندوستان میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار شدہ سب سے عمر رسیدہ شخص۔‘‘n 

stan swamy Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK