• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کانگریس سے بیر، کانگریس کی پالیسیوں سے لگاؤ

Updated: November 19, 2023, 5:33 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

یو پی اے کی نیشنل مینوفیکچرنگ پالیسی کا مقصد ایک دہائی میں مینوفیکچرنگ کا جی ڈی پی میں حصہ ۲۵؍ فیصد تک لے جانا اور روزگار کے ۱۰۰ ؍ملین مواقع پیدا کرنا تھا۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

آپ کو یاد ہوگا کہ کانگریس کے لیڈر ششی تھرور نے اپنے ایک ٹویٹ میں شکایت کی تھی کہ بی جے پی نے کانگریس ہی کی بنائی ہوئی ۲۳؍ اسکیموں کو ’’ری لانچ‘‘ کیا ہے اور ان کے محض نام تبدیل کئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ (مودی حکومت) نام بدلنے والی حکومت ہے، تقدیر بدلنے والی نہیں۔ اس پر واویلا مچا تھا۔ بہتوں نے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ۱۹؍ اسکیموں کے بارے میں ششی تھرور کی رائے بالکل درست تھی۔ وہ یو پی اے کی بیسک سیونگ بینک ڈپازٹ اکاؤنٹ اسکیم ہی تھی جو پردھان منتری جن دھن یوجنا کے نام سے جاری کی گئی۔ نیشنل گرل چائلڈ ڈے پروگرام کا نام بدلا گیا اور اسے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کردیا گیا۔ کل تک جو راجیو گرامین ودیوتیکرن یوجنا تھی وہ اب دین دیال اپادھیائے گرام جیوتی یوجنا ہے، جواہر لال نہرو نیشنل اربن رنیول مشن کو اٹل مشن فار ریجوونیشن اینڈ اربن ٹرانسفارمیشن کا نام دیاگیا ہے۔ کئی نام ایسے بھی ہیں جو بدلے نہیں گئے، مثال کے طور پر بی جے پی کی اسکیم نیم کوٹیڈ یوریا وہی ہے جو کانگریس کی نیم کوٹیڈ یوریا اسکیم تھی۔ اب جو سوائل ہیلتھ کارڈ اسکیم ہے وہ نیشنل پر جیکٹ آن مینجمنٹ آف سوائل ہیلتھ اینڈ فرٹیلیٹی تھی۔ جو اٹل پنشن یوجنا ہے وہ سواولمبن یوجنا تھی۔ وزیر اعظم مودی کا محبوب’’میک ان انڈیا‘‘ کیا ہے؟ یہ وہی ہے جو کل تک نیشنل مینوفیکچرنگ پالیسی تھی۔ ایسا نہیں کہ جن اسکیموں کے نام بدلے گئے، ان میں کچھ ردوبدل بھی کیا گیا ہو۔ جی نہیں، بہت سی اسکیمیں پرانی اسکیموں کی گویا نقل نویسی تھی۔ یہ باتیں میری ذہنی اختراع ہیں نہ ہی میری فہم کا عکس، ڈپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ کی پریس ریلیز(۲۰۱۱ء) اور میک ان انڈیا کی ویب سائٹ کے باب ’’نیشنل مینوفیکچرنگ‘‘سے مستعار ہیں۔ یو پی اے کی نیشنل مینوفیکچرنگ پالیسی کا مقصد ایک دہائی میں مینوفیکچرنگ کا جی ڈی پی میں حصہ ۲۵؍ فیصد تک لے جانا اور روزگار کے ۱۰۰ ؍ملین مواقع پیدا کرنا تھا۔ میک ان انڈیا کا مقصد بھی کم و بیش لفظ بہ لفظ یہی ہے۔ یہ کس طرح مکمل ہوگا یہ بھی لفظ بہ لفظ وہی ہے چند الفاظ کے حذف و اضافہ کے ساتھ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ میک ان انڈیا کی ویب سائٹ کانگریس کی مینوفیکچرنگ پالیسی کا چربہ ہی نہیں ہے بلکہ دستاویز ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے جو لنک فراہم کی گئی ہے وہ آپ کو یو پی اے کے دور کی پالیسی سے متعلق ۲۰۱۱ء  کی ایک دستاویز تک رہنمائی کرتی ہے۔
 اس سے قبل ڈیجیٹل انڈیا بھی وہی تھا جو نیشنل ای گورننس پلان تھا۔ اسکل انڈیابھی وہی تھا جو نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام تھا۔مشن اندردھنش وہی ہے جو یونیورسل امیونائیزیشن پروگرام تھا۔ پہل نام سے جو اسکیم جاری کی گئی وہ پہلے ایل پی جی کے لئے ڈائریکٹ بینفٹ ٹرانسفرتھا۔ بھارت نیٹ وہی ہے جو نیشنل آپٹک فائبر نیٹ ورک تھا جسے ۲۵؍ اکتو بر ۲۰۱۱ء کو منظور کیا گیا تھا اور جس کا مقصد تمام پنچایتوں کو نیٹ ورک سے فراہم کرنا تھا۔ جب راجیو آواس یوجنا کو سردار پٹیل نیشنل اربن ہاؤسنگ مشن کا نام دیا گیا تب اس وقت کے مرکزی وزیر برائے ہاؤسنگ وینکیا نائیڈو نے اعلان کیا تھا کہ تب کیلئے رہائش ۲۰۲۲ء تک منظر عام پر آئے گی۔بیجو جنتا دل کے رکن  پناکی مشرا کی قیادت میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے حکومت سے سوال کیا تھا کہ محض نام بدلنے سے اسکیموں کے نفاذ میں تیزی کیسے آسکتی ہے۔ لیکن اس سوال کو میڈیا میں کہیں جگہ نہیں ملی۔ 
حقیقت یہ ہے کہ یوپی اے کی اسکیموں کے نام ایسے نہیں تھے کہ یاد رہ جائیںحالانکہ ان کا مقصد بھی وہی تھا جونام بدلے جانے کے بعد موجودہ اسکیموں کا ہے۔ وزیراعظم مودی کی اسکیمیں ایک پرکشش نام لے کر جاری ہوتی ہیں چونکہ وہ  ایسے الفاظ اور فقروں کو لازمی تصور کرتے ہیں جو زبان زدِ عام ہوجائیں۔ میرے ایک دوست نے بڑے پتے کی بات بتائی کہ مودی کی جن اسکیموں کا مقصد امیروں کو فائدہ پہنچانا تھا ان کے نام انگریزی میں ہیں۔ مثلاً ڈیجیٹل انڈیا، اسکل انڈیا،  اسٹارٹ اپ انڈیایا میک اِن انڈیا ، ان کے ذریعے آرزوئیں جگانا مقصود تھا۔ اس کے برخلاف جن اسکیموں کا ہدف غریب عوام ہیں ان کے نام ہندی میں رکھے گئے مثلاً اُجولا یوجنا، سوچھ بھارت ابھیان ، بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ، جن دھن، غریب کلیان وغیرہ ، ان کا مقصد برانڈئنگ تھا۔ اسکیمیں پرانی ہوں  اور ان کے نام نئے ہوں تب بھی اتنا قابل اعتراض نہیں ہے جتنا یہ کہ نفاذ کا کیا ہوا؟اس محاذ پر سست روی دیکھنے کو ملتی ہے۔ میک ان انڈیا کیلئے ۲۰۲۲ء کا ٹارگیٹ تھا لیکن اسے ۲۰۲۵ء تک ملتوی کردیا گیا۔ اس کا ایک اور ہدف ۲۵؍ فیصد جی ڈی پی حصہ داری تھا جو ۲۰۲۲ء تک پورا کرنا تھا۔ لیکن مینوفیکچرنگ کا بٹوہ گل ہوگیا اور اس کی حصہ داری جو ۲۰۱۴ء میں ۱۶؍فیصد تھی ۲۰۲۳ء میں کم ہوکر ۱۳؍ فیصد ہوگئی۔ اس کے باوجود میک اِن انڈیا کا لوگو آج بھی خوبصورت ہے۔ 
 آپ کو آدھار کی بھی کہانی یاد ہوگی۔ ۲۰۱۴ء کی انتخابی مہم کے دوران ایک انگریزی اخبار نے ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۴ء کی اشاعت میں بی جے پی کا یہ بیان نقل کیا تھا : ’’ آدھار ایک فریب ہے ، حکومت میں آئے تو اس پر نظرِ ثانی ہوگی۔ ‘‘پارٹی کا کہنا تھا کہ آدھار ایک مجرمانہ پروگرام ہے اور کوشش کی جائے گی کہ سی بی آئی اس کی جانچ کرے۔ اس سلسلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ایک خطرناک پروگرام ہے جس کے ذریعے غیر قانونی طور پر رہنے والے بیرونی ملکوں کے لوگ شہریت پاسکتے ہیں۔ یہ اور ایسی کئی باتیں بنگلور میں میناکشی لیکھی نے آدھار کے معمار کے خلاف انتخابی مہم چلاتے ہوئے کہی تھی۔ اس کے ایک ماہ بعد بی جے پی کے ا ننت کمار نے کہا تھا کہ آدھار کو ختم کر دیاجائے۔ مودی نے خود بھی کہا تھا کہ وہ آدھار کے خلاف ہیں، اس پر جو پیسہ خرچ ہوا ہے وہ برباد ہوگیا۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ نہ تو نریگا میں کوئی دم ہے اورنہ ہی آر ٹی آئی قانون فائدہ مند۔
لیکن آپ نے دیکھا کہ آدھار جو معتوب تھا وہ محبوب ہوگیا اور بہت سی اسکیمیں جن کا ذکر اوپر آچکا ہے این ڈی اے کے سماجی بہبود کے پروگراموں میں نئے ناموں کے ساتھ جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK