سول سوسائٹی کا استحکام ضروری

Updated: May 07, 2022, 11:23 AM IST | Agency | Mumbai

کم از کم آدھ درجن خواتین تنظیموں نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انیل بیجل اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو ایک خط روانہ کیا ہے جس میں راجدھانی کے علاقہ جہانگیر پوری کے غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم نہ کرنے بلکہ مسئلہ کا انسانی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کم از کم آدھ درجن خواتین تنظیموں نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر انیل بیجل اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو ایک خط روانہ کیا ہے جس میں راجدھانی کے علاقہ جہانگیر پوری کے غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم نہ کرنے بلکہ مسئلہ کا انسانی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کی اپیل کی گئی ہے۔ جن خواتین تنظیموں کے نام، مع دستخط ِ نمائندگان، اس میں شامل ہیں اُن میں نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن، آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس اسوسی ایشن، آل انڈیا پروگریسیو ویمن اسوسی ایشن، آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینس اور ایسی ہی کئی ممتاز تنظیمیں شامل ہیں۔ خط میں غیر قانونی انہدام روکنے کی اپیل کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اس بات کا یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ اُن کا تعلق بھی اُسی قانون اور آئین سے ہے جو تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔  ان کالموں میں اس خط کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی اور احساس کیلئے کیا گیا ہے کہ اِس ملک میں جب جب بھی اقلیتی طبقات کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، اُنہیں پریشان کیااور ستایا جاتا ہے یا اُن کی حق تلفی کی جاتی ہے، تب تب برادران وطن اُن کے درد کو نہ صرف محسوس کرتے ہیں بلکہ اُن کا دفاع ضروری سمجھتے ہوئے جس کسی ذریعہ سے اپنی بات اعلیٰ حکام تک پہنچا سکتے ہیں، پہنچاتے ہیں۔ اس فرض کی ادائیگی سے برادران وطن نے کبھی منہ نہیں موڑا۔ اس میں دیر سویر ہوسکتی ہے مگر یہ کارِ خیر انجام ضرور دیا جاتا ہے۔
  ’’نیوز کلک‘‘ کی ایک رپورٹ (مورخہ ۵؍ مئی) میں بتایا گیا ہے کہ متعدد تنظیموں اور ۱۰۰؍ سے زائد ذمہ دار شہریوں نے ایک اعلامیہ جاری کرکے کرناٹک میں پائی جانے والی ’’غذائی عدم رواداری‘‘ کی مذمت کی اور کہاکہ ملک کے مختلف حصوں میں گوشت اور انڈوں کے خلاف جو طومار باندھا جارہا ہے اور بیوپاریوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے، وہ نہایت تکلیف دہ تو ہے ہی، غذا اور تغذیہ کے حق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس پر جن تنظیموں نے دستخط کئے ہیں اُن میں اہارا نمو حقو، بہاتوا کرناٹکا، کمپین اگینسٹ ہیٹ اسپیچ اور ملانا کرناٹک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جن ۱۰۲؍ ذمہ دار شہریوں نے اس بیان پر دستخط کئے ہیں اُن میں مسلمان اکا دکا ہیں، باقی سب برادران وطن ہیں۔ گزشتہ ماہ سابق ججوں اور سابق اعلیٰ سرکاری افسران نے بھی وزیر اعظم مودی کو ایک خط لکھ کر اُن کی توجہ ’’نفرتی بیانات اور تقاریر‘‘ کی جانب مبذول کرائی تھی۔  یہاں محض تین مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ یاد کیجئے تو مزید کئی مثالیں فوری طور پر یاد آجائینگی جن کے ذریعہ برادران وطن نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا دفاع کیا۔ سی اے اے کے خلاف شاہین باغ تحریک کے دوران بھی برادران وطن کا غیر معمولی تعاون اور حمایت مظاہرین کو حاصل ہوئی تھی۔اس سے بحث کی جاسکتی ہے کہ تعاون کتنا ملا اور کتنا مل سکتا تھا یا تعاون کی مؤثر ترین شکل کیا ہوسکتی تھی۔ اس سے بھی بحث کی جاسکتی ہے کہ سو دو سو تنظیمیں یا اتنے ہی افراد کیوں فعال ہوتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں مگر جو تعاون ملتا ہے اُس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہی جمہوریت ہے۔ یہ جذبۂ یکجہتی کو فروغ دینے کی پہلی منزل ہے اس کا اعتراف کرنا جبکہ دوسری منزل ہے اسے تقویت بخشنا۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ جذبۂ یکجہتی کو پروان چڑھانے کی منظم کوششیں ہوں اور سب ایک دوسرے کی فکر کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK