مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلانے والوں پر سخت کارروائی ہو

Updated: September 06, 2020, 12:11 PM IST | Jamal Rizvi

سدرشن ٹی وی کا پروگرام ’نوکر شاہی جہاد‘ اگر چہ مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانے کی غرض سے تیار کیا گیا تھا لیکن اس کے ذریعہ ملک کے ایک معتبر ادارے پر جو حرف آتا ہے اس کیلئے حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا آزادیٔ رائے کے نام پر کسی کو کچھ بھی کہنے کی چھوٹ حاصل ہے؟پروگرام پر پابندی عائد کر دینے ہی سے معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو اس پر سختی سے نوٹس لینے کی بھی ضرورت ہے

Library
لائبریری

ہندوستانی مسلمان اس وقت ایسے نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں اسے سماجی سطح پر دو طرفہ دباؤکا سامنا ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برسوں کے دوران سماج میں اس کے خلاف کبھی لوجہاد، کبھی گئو کشی اورکبھی کسی دوسرے عنوان سے نفرت میں جو اضافہ ہوا، اس کے سبب اس کی زندگی مختلف قسم کے سماجی مسائل میں مبتلا ہو گئی ہے۔اس نفرت نے جب تشدد کی شکل اختیار کر لی تو ملک گیر سطح پر ہجومی تشدد کے واقعات ہوئے اور ایک ایساماحول بن گیا کہ ہر مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگا۔ ہجومی تشدد کے واقعات میں کئی مسلمانوں کو اپنی جان بھی گنوانی پڑی۔ ملک میں سماجی سطح پر ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تشدد کا یہ کھیل چلتا رہا اور حکمراں طبقے کی جانب سے اس کے سد باب کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کیا گیا۔ ہجومی تشدد کے ان واقعات پر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایک گائڈ لائن جاری کی جس میں تمام ریاستوں کی حکومتوں اور پولیس شعبہ کو بعض ایسے اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی جو ہجومی تشدد کے واقعات کی روک تھام میں معاون ہو ں۔ اس گائڈ لائن کے جاری ہونے کے بعد بھی بعض ریاستوں میں  ہجومی تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہے اورتشدد کے ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہوئی۔مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا یہ رجحان اب اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے توسط سے باقاعدہ مسلمانوں کو ہد ف بنایا جا رہا ہے ۔
 گزشتہ دنوں سدرشن ٹی وی کے ذریعہ ایسی ہی ایک کوشش کی گئی تھی۔اس کوشش میں مسلمانوںکے خلاف نفرت پیدا کرنے کیلئے ایک ایسی اصطلاح گڑھی گئی جو ملک کے ایک بڑے ادارے کی شفافیت کو مشکوک بناتی ہے۔ ’نوکر شاہی جہاد‘ جیسی اس عجیب و غریب اصطلاح کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ ’یوپی ایس سی‘ جیسا ادارہ ،جو ملک میں آئی اے ایس اور اس درجہ کی دیگر ملازمتوں کیلئے انتخاب کرتا ہے وہ بھی مسلمانوں کی منظم سازش کی زد پر ہے ۔ اس ادارے سے ملازمت حاصل کرنے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ دراصل اسی سازش کا حصہ ہے۔ سدرشن ٹی وی نے دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کو بھی اس سازش میں شامل بتایا اور اس تعلیمی ادارے کی امیج کو مشکوک بنانے کی کوشش کی۔دہلی کی یہ وہی یونیورسٹی ہے جسے فاشسٹ عناصر نے سی اے اے مخالف مظاہروں کے بہانے بدنام کرنے کی کوشش کی تھی اور یہاں کے کئی طلبہ کو پولیس کے عتاب کا شکار بھی ہونا پڑا تھا۔ اس کے باوجود حکومت کی طرف سے ملک گیر سطح پر یونیورسٹیوں کی جو درجہ بندی کی گئی ہے اس میں یہ یونیورسٹی سرفہرست ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیمی سطح پر بہتر اور معیاری تعلیم کا جو نظم اس یونیورسٹی میں قائم ہے وہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے مقابلے کافی اچھا ہے۔شدت پسند ہندوتوا کی ترویج میں یقین رکھنے والے عناصر اس حقیقت کو برداشت نہیںکر پاتے اور کوئی نہ کوئی ایسا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں کہ ایسے اداروں کو ہدف بنایا جائے جو ملک کے مسلمانوں کی کاوش اورجدو جہد سے قائم ہوئے اور آج ملک کے قومی وقار کا ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔
 ’نوکر شاہی جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں کو ہدف بنانے کا اہم مقصد ان مسلم طلبہ کونفسیاتی طور پر پریشان کرنا ہے جو یوپی ایس سی کے ذریعہ ہونے والے امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔تعلیم ہی وہ ذریعہ ہے جس کے دم پر اس ملک کے مسلمان اپنی شناخت اور وقارکو باقی رکھ سکتے ہیں۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے قومی اتحاد و یکجہتی کے دشمنوں نے اس شعبے کو بھی اس طور سے ہدف بنایا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ایسا ماحول تعمیر کیا جائے کہ وہ ایسی ملازمتوں کے حصول کیلئے کوشش کرنے کے بجائے اپنی توانائی ان شعبوں میں صرف کریں جہاں سے دووقت کی روٹی کا بندوبست تو ہو سکتاہے لیکن سماجی عزت و تکریم حاصل کرنے میں یہ شعبے کوئی اہم رول نہیں ادا کرتے۔دوسرے یہ کہ یوپی ایس سی کے ذریعہ ملازمت کیلئے منتخب ہونے والے افراد نوکر شاہی میں بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور ان عہدوں پر رہتے ہوئے وہ ملک اور معاشرہ سے متعلق اقتدار کے ذریعہ کئے جانے والے اقدامات سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ان اقدامات کے تحت جو پالیسیاں اور منصوبے بنائے جاتے ہیں، ان کی نزاکت اور پیچیدگیوں سے بھی یہ واقف ہوتے ہیں۔
 مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کا خیال ہے کہ اگر مسلمان ایسی اعلیٰ درجہ کی ملازمت کیلئے منتخب ہوں گے تو نہ صرف ان کے سماجی رتبہ میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ اقتدار کے ان فیصلوں اور منصوبوں سے بھی بخوبی آگاہ ہوں گے جن سے اقلیتوں کے مفاد کے متاثر ہونے کا امکان ہوگا۔اس میں کسی طرح کے تردد کی گنجائش نہیں کہ اس وقت ملک کے ارباب اقتدار ایک خاص مذہبی آئیڈیالوجی کو اپنی سیاسی طاقت کی بنا پر پورے ملک میں مقبول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کوشش کے تحت ہی گزشتہ کچھ برسوں کے دوران ایسے فیصلے کئے گیے جو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ایسے حالات میں اگر مسلمان خاصی تعداد میں اعلیٰ درجہ کی ملازمتوں میں ہوں گے تو اقتدار کو ایسے فیصلے کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے گا۔یہی سبب ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں نے اس مرتبہ اس شعبہ کو ہدف بنایا ہے۔
 سدرشن ٹی وی نے اپنے جس پروگرام میں ’نوکر شاہی جہاد‘ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرنے کی کوشش کی تھی ، اگر چہ وہ پروگرام نشر نہیں ہوا لیکن اس کے متعلق جو گفت و شنید ہوئی اس سے بہرحال ان عناصر کو مسلمانوں کے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا جو یہ نہیں چاہتے کہ ہندوستانی مسلمان سماجی اعتبار سے متمول اور خوشحال رہیں اور سماجی عزت اور مرتبہ میںبھی انہیں دوسروں کے برابر کھڑے رہنے  کے مواقع ملیں۔یہ پروگرام اگر چہ مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھانے کی غرض سے تیار کیا گیا لیکن اس کے ذریعہ ملک کے ایک معتبر ادارے پر جو حرف آتا ہے اس کیلئے حکومت کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا آزادی ٔ رائے کے نام پر کسی کو کچھ بھی کہنے اور اس کی تشہیر کرنے کی چھوٹ حاصل ہے بھلے ہی آزادی ٔ رائے کایہ عمل ملک کے اداروں کی شفافیت کو مشکوک بناتا ہو؟مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے ایسے پروگرام کے نشر ہونے پر پابندی عائد کر دینے ہی سے معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو سختی سے اس بات کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے قومی اداروں کا وقار محفوظ رہ سکے۔
  اس معاملے پر حکومت کی طرف سے اب تک کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے عناصرکے خلاف کارروائی کرنے کے موڈ میں ہے۔حکومت اگر اس ملک کے مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کرنے میں یقین نہیں رکھتی تو اسے کم از کم اس پہلو پر تو غور کرنا چاہیے کہ نفرت کے اس کاروبار سے ملک کے قومی وقار کو کیا نقصان پہنچ رہاہے؟یوپی ایس سی اور ملک کے معتبر اعلیٰ تعلیمی ادارے کے خلاف پروپیگنڈہ کوئی چھوٹی یامعمولی بات نہیں ہے اور اگر اس معاملے کو بھی یوں ہی سرد بستے میں جانے دیا گیا تو اس کی کیاگارنٹی ہے کہ دوبار ہ اس طرح کی کوشش شر پسندوں کے ذریعہ نہیں کی جائے گی ؟اقتدار کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
 اس وقت ہندوستانی مسلمان جس طرح کے حالات کا شکار ہیں ان میں خود کو نفسیاتی اور جذباتی طور سے منتشر ہونے سے بچائے رکھنا بہت ضروری ہے ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی فکر و احساس کے دائرے میں ان خیالات کو نہ آنے دیا جائے جو جد وجہد زندگی کو مزید پیچیدہ بنا تے ہوں۔شر پسند عناصر کی ایسی کوششوں کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتاکہ تعلیم ہی وہ شعبہ ہے جس میں نمایاں کارکردگی کے ذریعہ اپنی سماجی زندگی کو بہتر اور معیاری بنایا جا سکتا ہے ۔ہندوستانی مسلمانوں کو اس پہلو پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور اس کے لیے پورے اخلاص اور دیانت داری سے کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان شرپسندوں کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے جو یہ نہیں چاہیے کہ اس ملک کے مسلمانوں کے سماجی مرتبہ میں اضافہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK