نفرتی بیان بازوں کیلئے سخت وارننگ لازمی

Updated: June 10, 2022, 10:34 AM IST | Mumbai

حکمراں جماعت بی جے پی نے نپور اور نوین کی گستاخانہ جرأت سے پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر پہلے تو ایک فہرست تیار کی جس میں پارٹی کے ایسے متعدد لیڈروں اور کارکنان کے نام ہیں جو نفرتی تقریر اور بیان بازی کے مرتکب ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

حکمراں جماعت بی جے پی نے نپور اور نوین کی گستاخانہ جرأت سے پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر پہلے تو ایک فہرست تیار کی جس میں پارٹی کے ایسے متعدد لیڈروں اور کارکنان کے نام ہیں جو نفرتی تقریر اور بیان بازی کے مرتکب ہیں۔ اس کے بعد گزشتہ روز دہلی پولیس نے کئی لیڈروں کے خلاف معاملہ درج کیا (جس میں چند مسلم  نام بھی ہیں)۔ کس کا بیان اور تقریر نفرتی تھی اور کس کی نہیں اس کا فیصلہ عدالت کرے گی مگر معاملہ درج کیا جانا بہرحال ایک پیش رفت ہے جسے کسی منطقی نتیجے تک بھی پہنچنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ کیس تو ہو مگر چند ماہ یا چند سال کے التواء کے بعد اس سے کوئی نتیجہ نہ نکلے۔ جہاں تک تیار کی گئی فہرست کا تعلق ہے، اس میں مزید کئی ناموں کی گنجائش ہے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ایک ایک لیڈر اور شخصیت کا نام اس فہرست میں شامل کیا جائے جس نے گزشتہ دنوں، گزشتہ مہینوں یا گزشتہ برسوں میں یا تو نفرتی تقریر کی یا منافرت آمیز نیز تشدد پر اُکسانے والا بیان دیا۔ اگر مکمل فہرست دیانتداری اور ایمانداری سے تیار کی جائے تو یقیناً ایک طویل فہرست مرتب ہوجائیگی جو بذات خود اس بات کی متقاضی ہوگی کہ فہرست میں شامل لوگوں سے باز پُرس کی جائے، آئندہ کیلئے اُن کی تنبیہ ہو اور ماضی کے بیانات کیلئے اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو یقینی بنایا جائے۔ کیا اتنا سب ہوگا؟ یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ نپور شرما اور نوین جندل کے خلاف ہونے والی کارروائی ایسی نہیں ہے کہ جس سے مستقبل کی ضمانت ملتی ہو۔ انہیں پارٹی سے معطل یا خارج کیا گیا ہے مگر اس سے یہ یقین دہانی نہیں ہوتی کہ انہیں آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں دوبارہ پارٹی میں شامل نہیں کرلیا جائے گا۔  ویسے، پارٹی سے معطل یا خارج کرنا ایک بات ہے، اُن کے خلاف قانونی کارروائی بالکل دوسری بات۔ اگر پارٹی چاہتی ہے کہ اس کیس کو دوسروں کی تنبیہ کے قابل بنایا جائے تو معمولی کارروائی سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہم کوئی مشورہ نہیں دیتے، پارٹی کو خود سوچنا چاہئے کہ اسے ایسا کیا کرنا ہوگا جس سے آئندہ ایسے حالات نہ بنیں جن میں حکومت کو شرمندہ ہونا پڑے۔ پارٹی کے علاوہ حکومت کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر اس نے گزشتہ برسوں کے منافرت آمیز بیانات کا سخت نوٹس لیا ہوتا اور ایسی حرکت کرنے والوں کی گوشمالی کی ہوتی تو یہ سب کے سب اتنے بے لگام نہ ہوگئے ہوتے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ حکومت نے خوفناک بیانات پر بھی خاموشی اختیار کی جس سے لوگوں کے حوصلے بلند ہوگئے بلکہ یہ فیشن سا بن گیا۔ اس دوران یہ بھی ہوا کہ جو لوگ خود کو متعارف کرانے یا شہرت پانے یا کسی اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کے خواہشمند تھے اُنہوں نے بھی حد سے بڑھی ہوئی بے باکی اور گستاخی کو اپنالیا تاکہ وہ بھی سرخیوں میں آسکیں۔ پارٹی اور حکومت دونوں کو ایسے افراد پر نگاہ رکھنی ہوگی۔  اتنا ہی نہیں، حکومت کو میڈیا کی بھی خبر لینی ہوگی کہ وہ کس طرح نفرتی بیانات کو روکنے کے بجائے اُن کی تشہیر کے ذریعہ ماحول کو خراب کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس دور میں جتنی خرابی متنازع اور نفرت آمیز بیانات اور تقریر کرنے والوں سے ہوئی ہے اُتنی ہی میڈیا کے ذریعہ اُن کی تشہیرسے ہوئی ہے۔ حکومت کی توجہ سے اب بھی حالات سنور سکتے ہیں مگر یہ توجہ مسئلہ سے نمٹنے کیلئے ہو، مخلصانہ ہو ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK