• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کے مسائل اور طلبہ کی تحریکیں

Updated: October 04, 2026, 12:28 PM IST | Mumbai

ہمارے ملک میں طلبہ کے مسائل اور دشواریوں کے ازالے کی کتنی ضرورت ہے، اس کا اندازہ گزشتہ ہفتوں میں خاص طور پر ہوا جب ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے دوران صورتِ حال واضح ہوئی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

عالمی تاریخ میں طلبہ کے ذریعہ چلائی جانے والی تحریکیں کم نہیں ہیں۔ ماضی بعید سے بھی اور ماضی قریب سے بھی ایسی تحریکوں کی مثالیں بہت آسانی سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ خود ہمارے ملک ہندوستان کی تاریخ طلبہ تحریکوں سے خالی نہیں ہے۔ ان میں سب سے نمایاں وہ تحریک تھی جسے جے پی موومنٹ کہا جاتا ہے۔ ہرچند کہ اس کی قیادت جے پرکاش نرائن کررہے تھے مگر بنیادی طور پر یہ طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک تھی۔ ۱۹۷۴ء میں یہ تحریک ہوسٹل فیس میں اضافے اور بدعنوانی کے خلاف گجرات میں شروع کی گئی تھی۔ جے پی کی قیادت میسر آنے کے بعد اس کو باقاعدہ تحریک بننے کا موقع ملا جو اس قدر مؤثر ہوئی کہ اُس وقت کی مرکزی حکومت متزلزل ہوئے بغیر نہیں رہ سکی تھی۔ اس سے قبل ہندی نافذ کرنے کے خلاف تمل ناڈو کے طلبہ نے تحریک شروع کی تھی، پھر آسام کے طلبہ کی کم و بیش چھ سال جاری رہنے والی تحریک ہے جس کی سربراہی آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (آسو) کررہی تھی۔ ۱۹۹۰ء کی منڈل مخالف تحریک بھی طلبہ ہی کی تحریک تھی۔ حکومتوں کو، خواہ وہ کہیں کی ہوں، کوئی بھی تحریک، احتجاج اور مظاہرہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ جب ایسا ہے تو جن وجوہات کی بناء پر احتجاج ہوتا ہے، اُن کے ازالے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ طلبہ کے مسائل کا فوری حل تلاش کرنے میں اہل اقتدار کو تردد ہونا چاہئے نہ دشواری مگر دیکھا گیا ہے کہ طویل عرصہ تک ان کے مسائل سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور اگر اُن کی جانب سے آواز اُٹھے تو اُسے دبانے یا کسی نام نہاد حل سے اُنہیں سمجھانے اور احتجاج سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ درست طریقۂ کار نہیں ہے۔ جب طلبہ ملک کا مستقبل ہیں تو اہل اقتدار مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی فکر کیوں نہیں کرتے؟ وہ قوم کیسے ترقی کرسکتی ہے جو ینگ جنریشن کے مفادات کی فکر نہ کرے؟ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ اہل اقتدار میں بصیرت کا فقدان ہوتا ہے؟ وہ بصیرت جو مسائل کے فوری حل کے ذریعہ طلبہ اور نوجوانوں کے جوش اور جذبے کو بہترین رُخ پر ڈالنے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ ملک ہمہ جہتی ترقی سے آشنا ہو؟
ہمارے ملک میں طلبہ کے مسائل اور دشواریوں کے ازالے کی کتنی ضرورت ہے، اس کا اندازہ گزشتہ ہفتوں میں خاص طور پر ہوا جب ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے دوران صورتِ حال واضح ہوئی۔ اسکول عمارتوں کا مخدوش ہونا، بیت الخلاء کی سہولت کا نہ ہونا، خاطر خواہ تعداد میں کلاس روم کا نہ ہونا، تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، کھیل کے میدان اور سائنسی تجربہ گاہ کا نہ پایا جانا وغیرہ پرانے مسائل ہیں۔ ان سے حکومتیں نا آشنا نہیں ہیں۔ اِن حالات میں تعلیم ہوگی تو اس کے نتیجہ خیز ہونے کی اُمید فضول ہے۔ اس کے باوجود کئی طلبہ شاندار کامیابیوں اور ملک و بیرون ملک بہتر کارکردگی کے ذریعہ ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔ یہ اُن کی اپنی محنت اور صلاحیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پھر اہل اقتدار کیوں بغلیں بجاتے ہیں ؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK