• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

Updated: December 01, 2023, 9:49 AM IST | Shamim Tariq | Mumbai

یہ حقیقت تو اب واضح ہوچکی ہے کہ حماس نے فوجی، معاشی اور نفسیاتی طور پر اسرائیل کو وہ شکست دی ہے کہ دنیا حیران رہ گئی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کی ناکامی کا اعتراف تو عالمی سطح پر پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اسرائیل جھوٹی خبریں پھیلانے کے بعد شکایات پر بھی اتر آیا ہے۔

Gaza. Photo: INN
غزہ ۔ تصویر : آئی این این

غزہ پر حملہ روکنے سے پہلے اسرائیل نے بمباری تیز کر دی تھی، جنوب میں پرچے گرائے تھے کہ ادھر کے لوگ شمالی غزہ کا رخ نہ کریں، حماس کے بحریہ کمانڈر کو بھی مار گرایا تھا اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اسرائیل میں قید کئے گئے فلسطینیوں اور غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے تبادلے کے لئے دیئے گئے وقفے کو ’جنگ بند‘ نہ سمجھا جائے، وقفہ ختم ہوتے ہی وہ دوبارہ حملہ آور ہوگا اس لئے وقفے کو جنگ بندی کہنا تو غلط ہوگا مگر جس طرح اسرائیل جس کو ’دہشت گرد‘ کہتا تھا اسی سے بات کرنے اور اپنے ایک یرغمال کو چھڑانے کے لئے غزہ کے تین قیدیوں کو چھوڑنے پر راضی ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ کسی ملک پر حملہ کرنا دہشت گردی ہے مگر کیا مقبوضہ فلسطین کے لوگوں کا اسرائیل پر حملہ آور ہونا ’دہشت گردی‘ کہا جاسکتا ہے۔ فیصلہ کوئی بھی کرسکتا ہے کہ
٭ اقوام متحدہ نے ۵۵؍ فیصد فلسطین کو اسرائیل اور ۴۵؍ فیصد فلسطینی رقبہ کو مملکت فلسطین تسلیم کیا تھا۔
٭ بار بار جنگ میں قبضہ کئے ہوئے علاقوں کو خالی کرنے کی قرار داد پاس کی تھی۔ اور
٭ مسئلہ فلسطین کے دو مملکتی حل پر اصرار کیا تھا۔
 مگر وہ اپنی ہی پاس کی ہوئی قرار داد کو کبھی نافذ نہیں کراسکا۔ فلسطینی جن ملکوں میں تھے وہاں سے انہیں مار مار کر بھگا دیا گیا عرب خصوصاً اُن عرب ممالک نے جن کی سرحدیں اسرائیل سے ملی ہوئی ہیں اپنے مفادات کو ترجیح دی یا اسرائیل نواز امریکہ کے دباؤ میں آکر ایسا رویہ اختیار کیا گویا مسئلہ فلسطین کچھ ہے ہی نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مغربی طاقتوں کی مدد اور جھوٹے پروپیگنڈے نے اسرائیل کو ناقابل شکست بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی لیکن حماس نے پندرہ ہزار کی شہادت پیش کرکے ایک طرف تو اسرائیل کو ڈیڑھ ہزار لوگوں کی میت اٹھانے پر مجبور کیا اور دوسری طرف دنیا کو پیغام بھی دے دیا کہ ’ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے‘۔
 ایک مغالطہ اور دیا جاتا رہا کہ جو بھی خونریزی ہو رہی ہے وہ اس علاقے میں ہے جہاں حماس کا قبضہ ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ اموات وہاں بھی ہو رہی ہیں جس کو مغربی کنارہ کہا جاتا ہے اور جہاں محمود عباس کی نمائشی حکومت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ اور مغربی کنارہ کو الگ الگ ثابت کرکے فلسطینیوں میں انتشار ثابت کرنے کی جو کوشش کی جاتی رہی ہے وہ ناکام ہوئی ہے۔ فلسطینی تو اسرائیل کو غاصب سمجھتے ہی ہیں دنیا بھر کے امن پسند عوام بھی جن میں ’یہودی‘ مذہب کو ماننے والے عوام بھی شامل ہیں اسرائیل کو غاصب و ظالم سمجھتے ہیں ایسے میں حماس نے ’تنگ آمد بجنگ آمد‘ کا حوصلہ نہ دکھایا ہوتا تو بیشتر مسلم اور عرب ممالک اسرائیل کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے۔ اسرائیل نے حماس کے حملوں کو بہانہ بنا کر بے گناہ فلسطینیوں پر حملے شروع کئے تھے۔ اسپتالوں، بیماروں، بچوں اور ان کی پناہ گاہوں پر بم برسائے تھے مگر تمام تر مظالم اور جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود وہ فلسطینیوں کے عزائم کو کم کرسکا نہ اپنے ساتھیوں یا ہم نواؤں کو اپنے ساتھ رکھ سکا۔ مثلاً ۷؍ اکتوبر کو حماس کے حملہ آور ہونے کے ساتھ ہندوستانی وزیراعظم نے اسرائیل کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا تھا مگر جب اسرائیل نے حماس کو جارح اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کرکے اس کو بدنام کیا اور اپنی غاصبانہ اور توسیع پسندانہ منصوبہ بندی کی اقوام متحدہ سے منظوری چاہی تو ہندوستان نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
 غزہ اور مغربی کنارہ میں ایک ہی لہر چلنے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ۲۵؍ نومبر کی ایک خبر کے مطابق مغربی کنارہ کے ایک پناہ گزیں کیمپ میں ۳؍ مخبر پکڑے اور قتل کئے گئے جو اسرائیلی فوجیوں کو اطلاعات فراہم کر رہے تھے۔ ایسے ’مخبر‘ اور فلسطین دشمن مغربی کنارہ پر ہی نہیں دنیا بھر میں ہیں اور خود کو ایک خاص وضع قطع میں چھپائے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حقیقت تو اب واضح ہوچکی ہے کہ حماس نے فوجی، معاشی اور نفسیاتی طور پر اسرائیل کو وہ شکست دی ہے کہ دنیا حیران رہ گئی ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کی ناکامی کا اعتراف تو عالمی سطح پر پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے اسرائیل جھوٹی خبریں پھیلانے کے بعد شکایات پر بھی اتر آیا ہے۔ اسرائیل کے نئی دہلی سفارت خانہ نے شیوسینا لیڈر سنجے راؤت کے بیان پر اعتراض کیا ہے۔ لیکن اس اعتراض یا اسرائیل کے تلملانے کے باوجود یہ تو طے ہے کہ اسرائیل نے مغرب کی پشت پناہی، عرب ملکوں میں پھیلے ہوئے مخبروں اور اپنی فوجی طاقت کی بنیاد پر غزہ اور عرب اردن میں اپنی بستیاں بسانے، مسجد الاقصیٰ کو اپنے قبضہ میں لینے اور مسئلۂ فلسطین کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کا جو منصوبہ بنایا تھا وہ ناکام نہیں تو کمزور ضرور ہوگیا ہے اسی لئے اتوار کو اسرائیل فوجیوں نے ایک بار پھر مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بولا۔ مگر عوام کا رخ یہ ہے کہ اب نیتن یاہو کی ہی نہیں دنیا کے کسی ایسے سربراہ یا حکومت کی خیر نہیں جو ظلم و جارحیت کی حمایت کر رہا ہو۔ غزہ کے بڑے بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کی استقامت تو قابلِ رشک ہے۔ یوٹیوب پر ایک عورت کا یہ بیان سن کر آنکھیں چھلک گئیں کہ ہم حجاب پہن کر رات میں سوتے ہیں کہ مر جائیں تو بے حرمتی نہ ہو۔ اس جذبے کو کون مار سکتا ہے۔ ادھر اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اسرائیل میں سیاحوں کا آنا بند ہوگیا ہے، معیشت پٹری سے اتر گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے جہاں بہت کچھ کہا ہے وہیں یہ بھی کہا ہے کہ چار دن کا وقفہ ختم ہو جانے کے بعد دس یرغمالوں کی رہائی کے بعد بھی اس کے ۱۹۰؍ افراد اور فوجی یرغمال کے طور پر حما س کے پاس رہیں گے۔ اسی لئے معاہدے میں توسیع کی بات بھی ہو رہی ہے۔ اس کا نتیجہ جو بھی ہو مگر یہ تو طے ہے کہ فلسطینیوں میں اپنی جان دینے اور ظالموں کے ساتھ ظالموں کے مخبروں کو انجام تک پہنچانے کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔ انہیں سمجھ میں آگیا ہے کہ ’ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے‘۔ دنیا بھی اس حقیقت کو سمجھ رہی ہے مگر ہماری سمجھ اور حقیقت کے درمیان کچھ لوگوں کی جادوئی شخصیتیں اور ان سے جھوٹی عقیدیتیں حائل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK