• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقوامِ متحدہ میں صومالیہ کے سفیر کی اسرائیل پر تنقید

Updated: January 02, 2026, 8:00 PM IST | New York

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں صومالیہ کے سفیر ابوکار دہیر عثمان نے اسرائیل کی صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی پالیسی پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اسرائیل کو انسانیت، انسانی حقوق اور جمہوریت پر لیکچر دینے والے کے بجائے انسانی قتل اور حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس بیان نے عالمی ردعمل اور مذمت کو جنم دیا ہے۔

Somalia`s Ambassador to the United Nations Abukar Dahir Osman. Photo: X
اقوام متحدہ میں صومالیہ کے سفیر ابوکار دہیر عثمان۔ تصویر: ایکس

اقوام متحدہ میں صومالیہ کے سفیر ابوکار دہیر عثمان نے ۲۹؍ دسمبر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی، اور اسے فلسطینی عوام کے خلاف انسانیت سوز اقدامات کا حصہ قرار دیا۔ ان کی تقریر نے عالمی سطح پر بڑی توجہ حاصل کی اور متعدد ممالک نے اس پر ردِ عمل کا اظہار کیا۔ صومالیہ کے نمائندے نے کہا کہ ’’وہ (نیتن یاہو) ایک ایسی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے جس نے ۷۰؍ ہزار سے زیادہ افراد کو قتل کیا ہے، اور یہاں آ کر ہمیں انسانیت، نسل کشی، انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت پر لیکچر دینا، ہماری توہین ہے۔‘‘ خیال رہے کہ یہ خطاب اُس ہنگامی اجلاس میں سامنے آیا جسے اقوامِ متحدہ نے اس وقت بلایا جب اسرائیل نے خود مختار ریاست کے طور پر صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ صومالی لینڈ وہ علاقہ ہے جس نے ۱۹۹۱ء میں خود کو وفاقی صومالیہ سے الگ کر لیا تھا، تاہم اسے عالمی سطح پر زیادہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ 

عثمان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اسرائیل کا یہ قدم نہ صرف صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کے خلاف ہے بلکہ اس سے پورے قرنِ افریقہ اور بحیرہ احمر کے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے جو محرکات ہیں، وہ عالمی امن اور انسانی حقوق کے اصولوں کے بالکل منافی ہیں۔ صومالیہ نے اجلاس میں خاص طور پر اس خدشے کا اظہار کیا کہ اسرائیل کا یہ اقدام فلسطینیوں کے خلاف کئے جانے والے ممکنہ جبری منتقلی کے منصوبوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ عثمان نے کہا کہ اگر کوئی منصوبہ بنایا جا رہا ہے جس کے تحت غزہ سے فلسطینیوں کو صومالی لینڈ منتقل کیا جائے تو اسے ہر صورت مسترد کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ 
یہ رویہ عالمی سطح پر سخت ردعمل کا باعث بنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں الجزائر، سیئرا لیون، گائنا اور صومالیہ کے نمائندوں نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے صومالیہ کی علاقائی سالمیت کیلئے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے تمام ممبر ممالک سے اس فیصلے کی واضح اور یکساں مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسلامی ممالک اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں نے بھی اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ پاکستان، ترکی، چین، سعودی عرب، افریقی یونین اور متعدد دیگر ممالک نے اسرائیل کے فیصلے کو غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور اس بات پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی ضابطوں اور قوانین کا احترام پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہم نے اسرائیل کیلئے مسئلہ نہیں پیدا کیا، وہ اپنے مسائل ہمارے پاس نہ لائے:صومالیہ

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بعد دفاع میں کہا کہ یہ اقدام فلسطین اور دیگر خطوں کے تنازعات سے الگ ہے، اور یہ اس کے علاقائی تعلقات کو بڑھانے کے مقصد کے تحت ہے۔ تاہم بیشتر ممالک نے اس دلیل کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی قوانین کے منافی ہے کیونکہ صومالی لینڈ کو کسی بھی رکن ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد صومالی عوام میں بھی شدید ردعمل دیکھا گیا ہے۔ ملک بھر میں مظاہرے ہوئے اور ہزاروں لوگوں نے اسرائیل کے فیصلے کو اپنی سُپر ریاست کی خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ جنوبی، مشرقی اور وسطی افریقہ کے دیگر ملکوں میں بھی اس موضوع پر بحث جاری ہے۔
صومالیہ کے سفیر کا خطاب اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اسرائیل کے فیصلے پر تنقید کی بلکہ عالمی برادری کو بھی انسانیت، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر کئے جانے والے مبینہ تضادات کی نشاندہی کی۔ ان کے لہجے سے یہ واضح ہوا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے فورمز پر مضبوط اور فعال موقف اپنانا چاہتے ہیں تاکہ عالمی قوانین کے تحت ظلم اور انتشار کو روکا جا سکے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK