• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: میئر ظہران ممدانی کے فیصلے پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی تنقید

Updated: January 02, 2026, 10:03 PM IST | New York

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے آئی ایچ آر اے تعریف کو ہٹانے اور اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق پابندیاں نرم کرنے کے فیصلے پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے تنقید کی ہے۔ تاہم ممدانی اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یہودی مخالفت کی حمایت نہیں بلکہ آزادیٔ اظہار، آئینی حقوق اور جمہوری اختلافِ رائے کے تحفظ کیلئے کیا گیا ہے۔

Zohran Mamdani as mayor of New York. Photo: INN
ظہران ممدانی بطور نیو یارک کے مئیر۔ تصویر: آئی این این

ظہران ممدانی کے نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر منصب سنبھالتے ہی ایک اہم اور متوقع پالیسی بحث نے جنم لیا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے میئر ممدانی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کے پہلے ہی دن اپنی ’’اصل سوچ‘‘ ظاہر کر دی۔ خیال رہے کہ انہوں نے آئی ایچ آر اے (انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس) کی جانب سے پیش کردہ یہود مخالف کی تعریف کو شہر کی پالیسی سے ہٹا دیا اور اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق بعض پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ تاہم میئر ظہران ممدانی کے حامیوں اور شہری آزادیوں کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ آئینی حقوق، آزادیٔ اظہار اور سیاسی اختلاف کی حفاظت کیلئے کیاگیا ہے۔ ان کے مطابق آئی ایچ آر اے کی تعریف پر طویل عرصے سے یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ اس کا استعمال اسرائیلی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کو دبانے کیلئے کیا جا سکتا ہے، جس سے جائز سیاسی مکالمہ محدود ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کی پہلی تقریر، ٹرمپ پر تنقید، قرآن مجید کے ۳؍ نسخوں پر حلف کیوں؟

میئر ممدانی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کا مؤقف بالکل واضح ہے: یہودی مخالفت ایک سنگین اور ناقابلِ قبول نفرت ہے، مگر اس کی آڑ میں کسی ریاست کی پالیسیوں پر تنقید کو جرم قرار دینا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ممدانی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ نیویارک جیسے متنوع شہر میں تمام برادریوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہریوں کو پرامن سیاسی احتجاج اور بائیکاٹ جیسے آئینی ذرائع استعمال کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ میئر کا یہ قدم یہودیوں کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔ اس کے برعکس، نیویارک میں انسانی حقوق کے کارکنوں، سول لبرٹیز گروپس اور کئی منتخب نمائندوں نے میئر ممدانی کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یہودی برادری کے خلاف نہیں بلکہ آزادیٔ اظہار کے حق میں ہے، اور اس کا مقصد کسی بھی کمیونٹی کو نشانہ بنانا نہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، بائیکاٹ سے متعلق پابندیاں ہٹانا بھی ایک آئینی اصولی فیصلہ ہے۔ امریکہ میں عدالتیں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہیں کہ بائیکاٹ سیاسی اظہار کی ایک جائز شکل ہے، چاہے وہ کسی بھی ملک یا پالیسی کے خلاف ہو۔ میئر ممدانی کے ناقدین جہاں اسے متنازع قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں ان کے حامی اسے جمہوری روایت کی مضبوطی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ میئر ممدانی، جو اپنی سیاست میں سماجی انصاف، اقلیتوں کے حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی بات کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں، نے واضح کیا ہے کہ ان کی ترجیح نفرت کے ہر مظہر کی مخالفت اور انصاف پر مبنی خارجہ پالیسی مباحثے کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق، کسی بھی ریاست کو تنقید سے بالاتر سمجھنا نہ جمہوریت کے حق میں ہے اور نہ ہی عالمی امن کیلئے مفید۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ ہم سب تمہارے بارے میں سوچ رہے ہیں‘‘ ظہران ممدانی کا عمر خالد کو خط

نیویارک کے متعدد یہودی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی اس بحث میں متوازن مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ یہودی مخالفت اور اسرائیلی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہر تنقید کو نفرت کے زمرے میں ڈال دیا جائے تو اس سے اصل نفرت کی نشاندہی اور اس کے خلاف جدوجہد کمزور پڑ جاتی ہے۔ ظہران ممدانی کے حامیوں کے مطابق، ان کے پہلے ہی دن کے فیصلے نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ طاقتور دباؤ کے باوجود آئینی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نیویارک جیسے عالمی شہر میں صحت مند مکالمے، اختلافِ رائے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ اس تمام تر تنقید کے باوجود، میئر ممدانی اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ یہودی مخالفت کے خلاف جدوجہد اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید دو الگ چیزیں ہیں، اور دونوں کو خلط ملط کرنا نہ انصاف کے حق میں ہے اور نہ ہی جمہوریت کے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK