Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ دلیل کہ پاسپورٹ یا ووٹر کارڈجعلی بن سکتے ہیں، کمزور اور غیر معقول ہے

Updated: July 10, 2026, 10:01 PM IST | S. Y. Quraishi | Mumbai

یہ اعتراض توکسی بھی دستاویز پر کیا جا سکتا ہے، جعلسازی کا امکان کسی دستاویز کو مسترد کرنے کی دلیل نہیں بلکہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تصدیق کا نظام زیادہ مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔

Every document is scrutinized when a passport is issued, yet it is not proof of citizenship. Photo: INN
پاسپورٹ بنواتے وقت ہر دستاویز کی باریکی سے جانچ ہوتی ہے، پھر بھی یہ شہریت کا ثبوت نہیں۔ تصویر: آئی این این

حال ہی میں وزارتِ خارجہ نے ازخود ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے، نہ کہ شہریت کا قطعی اور حتمی ثبوت۔ اس وضاحت نے ایک پرانا مگر نہایت اہم سوال پھر سے زندہ کر دیا ہےکہ کیا ہندوستان کو شہریت کیلئے ایک ایسی واحد اور حتمی دستاویز کی ضرورت نہیں جو ہر قسم کے ابہام کا خاتمہ کر سکے؟اس بیان پر عوامی ردعمل حیرت پر مبنی تھا۔ اگر پاسپورٹ شہریت کا قطعی ثبوت نہیں تو پھر کون سی دستاویز ہے؟ کیا آدھار کارڈ شہریت کا ثبوت ہے؟ کیا ووٹر شناختی کارڈ اس مقصد کیلئے کافی ہے؟ کیا کوئی ایسی دستاویز موجود ہے جو اس سوال کا ہمیشہ کیلئے فیصلہ کر دے؟مختصر جواب ہےکہ ’نہیں۔ ‘ ہندوستان میں آج تک ایسی کوئی واحد اور ہمہ گیر دستاویز موجود نہیں جو ہر صورت میں شہریت کا حتمی ثبوت سمجھی جائے۔ اصل الجھن اسلئے پیدا ہوتی ہے کہ ہم اکثر شناخت، رہائش اور شہریت جیسے تین الگ الگ تصورات کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ باہم مربوط ضرور ہیں، مگر ایک دوسرے کے مترادف نہیں۔ 
آدھار کسی شخص کی شناخت اور رہائش کی تصدیق کرتا ہے۔ پاسپورٹ بین الاقوامی سفر کیلئے جاری کیا جاتا ہے جبکہ ووٹر شناختی کارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ حامل شخص ووٹ ڈالنے کا اہل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی دستاویز بذات خود ہر قانونی مقصد کیلئے شہریت کا حتمی ثبوت نہیں، اگرچہ پاسپورٹ اور ووٹر کارڈ صرف ہندوستانی شہریوں ہی کو جاری کئے جاتے ہیں۔ یہاں شہریت کا تعین شہریت ایکٹ، ۱۹۵۵کے تحت ہوتا ہے، جس کے مطابق شہریت پیدائش، نسب، رجسٹریشن یا نیچرلائزیشن کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کسی فرد کی شہریت کا تعین ایک ہی سند سے نہیں بلکہ مختلف سرکاری ریکارڈز کے مجموعے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ 
دنیا کے بہت سے ممالک میں شہریوں کا باقاعدہ رجسٹر موجود ہے یا پھر ایسے قومی شناختی کارڈ جاری کیے جاتے ہیں جو شہریت کا بنیادی ثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ سمیت بیشتر یورپی ممالک میں یہی نظام ہے۔ اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا جیسے ممالک پیدائشی اندراج، پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات پر انحصار کرتے ہیں۔ ہندوستان بھی اسی دوسرے ماڈل سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے، جہاں شناخت کے متعدد نظام موجود ہیں، مگر شہریت کا کوئی واحد، عالمگیر ثبوت نہیں۔ آدھار کا تجربہ اس سلسلے میں خاصا سبق آموز ہے۔ ۲۰۰۹ءمیں اس منصوبے کا مقصد ہر رہائشی کو منفرد شناخت فراہم کرنا، فلاحی منصوبوں کی مؤثر ترسیل یقینی بنانا اور نقل و تکرار کا خاتمہ تھا۔ اسے جان بوجھ کر شہریت سے الگ رکھا گیا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ آدھار کا اندراج شہریت نہیں بلکہ رہائش کی بنیاد پر کیا گیا، اسی لیے یہ کبھی بھی شہریت کا ثبوت نہیں بن سکا۔ میرے نزدیک یہ ایک ضائع شدہ موقع تھا۔ بہتر ہوتا کہ اسے ابتدا ہی سے دہری حیثیت رکھنے والی دستاویز کے طور پر تیار کیا جاتا۔ 
شہریت کا مسئلہ سب سے پہلے آسام میں سامنے آیا۔ آسام کا قومی رجسٹر برائے شہریت (این آرسی ) دراصل شناختی مہم نہیں بلکہ شہریت کی جانچ کا ایک عمل تھا، جس کی بنیاد آسام کی غیر قانونی ہجرت سے متعلق تاریخی صورتحال پر تھی۔ آسام معاہدہ ۱۹۸۵ء کے مطابق ہر شخص کو یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ یا اس کے آباء و اجداد ۲۴ مارچ۱۹۷۱ سے پہلے ہندوستان میں تھے۔ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہونیوالے اس عمل میں ہزاروں سرکاری اہلکار شریک ہوئے، ۱۵۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے اور تقریباً پانچ برس تک یہ کام جاری رہا لیکن اس کا نتیجہ شدید تنازع کا باعث بنا۔ ۲۰۱۹ءمیں شائع ہونے والی حتمی فہرست سے تقریباً۱۹؍ لاکھ افراد خارج کر دیئے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں مکمل ہونے والا یہ عمل کامیاب کیوں نہیں ہو سکا؟

یہ بھی پڑھئے: سنیل تٹکرے نے ایساہی ٹویٹ کبھی سنگرام جگتاپ کے بیان پر کیوں نہیں کیا؟

اس کا جواب ماضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر شہریت ثابت کرنے کی پیچیدگی میں پوشیدہ ہے۔ لاکھوں غریب افراد، مزدور، نقل مکانی کرنے والے خاندان، خواتین، بے زمین کسان اور سیلاب یا دریا بردی کے باعث بے گھر ہونے والے لوگ کئی دہائیوں پرانے دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے۔ ناموں کی مختلف ہجے، گم شدہ ریکارڈ اور شادی کے بعد خواتین کے ناموں میں تبدیلی جیسے عوامل نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ جب تین کروڑ سے زائد افراد سے نصف صدی پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر اپنی شہریت ثابت کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو غلطیوں کا ہونا تقریباً ناگزیر ہے۔ یہ دلیل کہ پاسپورٹ یا ووٹر شناختی کارڈ جعلی بن سکتے ہیں، کمزور اور غیر معقول ہے، کیونکہ یہی اعتراض این آر سی میں پیش کیے جانے والے کسی بھی دوسرے دستاویز پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ جعل سازی کا امکان کسی مخصوص دستاویز کو مسترد کرنے کی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تصدیق کا نظام زیادہ مضبوط اور مؤثر بنایا جائے۔ آسام کا تجربہ ایک اور بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔ اگر صرف ۳ء۳؍ کروڑ آبادی والی ایک ریاست میں اتنی دشواریاں پیش آئیں، تو ۱۴۵؍کروڑ آبادی والے پورے ملک میں ایسا عمل عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیے بغیر کیسے مکمل کیا جا سکتا ہے؟یہ مسئلہ صرف انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ الیکشن کمیشن میں چھ برس کی خدمت کے دوران میں نے یہ بخوبی دیکھا کہ عوام ہر اس عمل پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں جسے وہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ یا امتیازی سمجھتے ہوں۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری یہ ہونی چاہئے کہ عوام کو سہولت فراہم کرے، نہ کہ انہیں غیر ضروری زحمت اور پریشانی میں مبتلا کرے۔ 
پارلیمنٹ اس حوالے سے پہلے ہی راستہ متعین کر چکی ہے۔ شہریت ایکٹ میں ۲۰۰۳کی ترمیم کے تحت ہر شہری کا لازمی رجسٹریشن، قومی رجسٹر برائے ہندوستانی شہری (این آر آئی سی)کی تیاری اور قومی شناختی کارڈ کے اجرا کی گنجائش فراہم کی جا چکی ہے۔ متعلقہ قواعد میں پہلے قومی آبادی رجسٹر، پھر تصدیق کے عمل اور پھر این آر سی کی تیاری کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔ میرے خیال میں اس حکمت عملی کی بنیاد دو اصولوں پر ہونی چاہیے۔ 
اوّل۱۹۶۹ء کے قانون کے تحت لازمی قرار دیا گیا پیدائش کا رجسٹریشن کو مستقبل کے شہریت ریکارڈ کی بنیاد بنایا جائے۔ میری تجویز ہے کہ اس کیلئے دو رُخی طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔ پہلا، جن افراد کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ موجود ہے اور ان کی تعداد تقریباً ۸۰؍ کروڑ (یعنی ۶۵؍سے ۷۰؍ فیصد آبادی) ہے انہیں بلا تاخیر شہریت کارڈ جاری کر دیا جائے۔ دوسرا، پرانی نسلوں کے معاملے میں ریاست بنیادی طور پر اپنے ہی موجودہ سرکاری ریکارڈ پر اعتماد کرے، مثلاً انتخابی فہرستیں، پاسپورٹ، سرکاری ملازمت کا ریکارڈ، ٹیکس گوشوارے، پنشن ریکارڈ اور تعلیمی اسناد۔ یہ تمام دستاویزات کئی دہائیوں سے خود ریاست کی جانب سے لوگوں کو شہری تسلیم کیے جانے کا ثبوت ہیں۔ عام شہریوں پر بار بار اپنی شہریت ثابت کرنے کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہونی چاہئے کہ وہ صرف ان معاملات میں، جہاں واقعی قابل اعتماد شواہد موجود ہوں، کسی شخص کی شہریت پر سوال اٹھائے۔ اگر اس عمل میں پانچ یا دس برس بھی لگ جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں، کیونکہ یہ جمہوریہ سات دہائیوں سے شہریت کے کسی الگ سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی کامیابی سے چل رہی ہے۔ غیر قانونی ہجرت یقیناً ایک حقیقی مسئلہ ہے اور اس کا سنجیدہ حل تلاش کرنا ضروری ہے، لیکن اس کیلئے ایسے اہداف اور شواہد پر مبنی اقدامات کیے جانے چاہئیں جو چند غیر قانونی افراد کو پکڑنے کیلئے لاکھوں حقیقی شہریوں کو غیر ضروری سرکاری کارروائیوں اور اذیت میں مبتلا نہ کر دیں۔ شہریت دراصل فرد اور ریاست کے درمیان سب سے بنیادی اور مضبوط تعلق کا نام ہے۔ ریاست کو یقیناً یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے شہری کون ہیں، مگر یہ کام ایسے انداز میں ہونا چاہئے جو خوف نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرے، اخراج نہیں بلکہ شمولیت کو فروغ دے اور شہری و ریاست کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط بنائے۔ 
(مضمون نگار سابق چیف الیکشن کمشنرہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK