بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست مدھیہ پردیش میں ہو شنگ آباد کی ایڈیشنل ضلع جج تبسم خان کو ان کے ایک فیصلے کی بنا پر جن حالات و مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ یہ واضح کرتا ہے کہ عدلیہ کے احترام کا دعویٰ کرنا اور اس دعوے کو عملی شکل دینا اب اس ملک میں دو الگ چیزیں ہو کر رہ گئی ہیں۔
تبسم خان۔تصویر: آئی این این
کسی جرم کی سزا کے قانونی التزام کا بنیادی مقصد ایک ایسے پر امن معاشرہ کی تشکیل کو یقینی بنانا ہے جس میں بلا امتیاز آئینی حقوق و فرائض کی تعمیل ممکن ہو سکے۔ اس بنیادی مقصد کے حصول کی خاطر ایسے ادارے قائم کئے گئے جو جمہوری اقدار کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ہی شہریوں کو فکر و عمل کی سطح ایسے رویہ کا حامل بنائیں جس سے سماج میں قیام امن کے ساتھ ہی معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار ہو۔ سماج کی ترقی اور خوشحالی کا براہ راست تعلق سماج کی اس پرامن فضا سے ہے جو عوام کو مختلف شعبہ ٔ حیات میں بہتر کارکردگی کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہ یکسانیت ہی دراصل جمہوریت کی اساس ہے اور جمہوریت کو دیگر طرز حکومت کے مقابلے اسی بنا پر بہتر اور عوام دوست سمجھا جاتا ہے۔
لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران وطن عزیز میں ایسا ماحول تعمیر کر دیا گیا ہے جس میں یکسانیت پر مبنی جمہوریت سے وابستہ اصول و ضوابط بیشتر کاغذی حدود میں سمٹ کر رہ گئے ہیں اور عملی سطح معاشرہ میں ’اکثریت تمام آئینی ضوابط اور قانونی حدود سے بالاتر ہیں ‘ کے رجحان کو رائج کرنے کی پرزور کوشش کی جارہی ہے۔ اس کوشش کا اظہار مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں ان صورتوں میں ہوتا ہی رہتا ہے جس کا مقصد ملک کی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو مسلسل یہ احساس دلانا ہے کہ ان کی حیثیت اس ملک میں ایسے شہری کی ہے جو اکثریت کے رحم و کرم پر زندہ ہیں۔ اس احساس کو ارباب اقتدار اور انتظامیہ کے مختلف شعبوں میں برسر کار افسران کے امتیازی رویہ سے تقویت ملتی رہی ہے اور اب تو عدلیہ کو بھی ایک خاص مذہب کی تعظیم و تکریم کا پابند بنائے جانے کی کوشش (سازش) کی جا رہی ہے۔
ملک میں مذہبی فرقہ واریت کے لحاظ سے حساس مدھیہ پردیش میں نرمدا پرم (ہو شنگ آباد) کی ایڈیشنل ضلع جج تبسم خان کو ان کے ایک فیصلے کی بنا پر جن حالات و مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ یہ واضح کرتا ہے کہ عدلیہ کے احترام کا دعویٰ کرنا اور اس دعوے کو عملی شکل دینا اب اس ملک میں دو الگ چیزیں ہو گئی ہیں۔ عدلیہ سے وابستہ ایک ہی تصور کا دولخت ہو جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصول و عمل کا وہ اتحاد اب عنقا ہو تا جا رہا ہے جو جمہوریت کی پائیداری اور عوامی زندگی سے وابستہ مختلف شعبوں کی شفافیت کو اس حد تک یقینی بناتا ہے جو شہریوں کو جمہوریت کی عظمت اور تقدیس کا قائل بناتا ہے۔ سماج میں دھرم کی بنیاد پر جرم و خطا کے تصور کو رائج کرنے کی کوشش نہ صرف جمہوریت کی عظمت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے شہریوں میں تعصب اور امتیاز کے جس رجحان کو فروغ مل رہا ہے وہ وسیع تناظر میں معاشرے کے نظم و نسق اور ملک کی بین الاقوامی شناخت کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کوشش کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں ملوث نام نہاد دھارمک افراد نہ تو قانون کی پاسداری میں یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی انھیں ملک کے ان آئینی اداروں کے احترام سے کوئی غرض ہے جن کے قیام کا مقصد سماج میں امن و خوشحالی کا دوام اور جمہوریت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم کو عام کرنے کا زبانی دعویٰ اور تعلیمی شعبےکی حقیقی صورتحال
تبسم خان کو بھگوا عناصر کے ذریعہ جو دھمکیاں دی گئیں اور سوشل میڈیا پر انھیں جس نازیبا طریقہ سے ٹرول کیا گیا وہ بلاشبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سماج کا ایک طبقہ مذہبی بنیاد پر خود کو تمام آئینی حدود و قیود سے بالا تر سمجھتا ہے اور مذہبی یکسانیت کی بنیاد پر دوسروں کو بھی ان حدود و قیود سے مبرا سمجھتا ہے۔ اس طبقے کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ یہ دوسرے لو گ قاتل ہوں ، غنیم ہوں، مرتشی ہوں یا زانی ہوں ۔ یہ طبقہ جو خود کو تمام آئینی حدود و قیود سے بالاتر سمجھتا ہے وہ جرم و خطا کے اس تصو ر کا حامی ہے جو آئین و قانون کی بجائے دھرم کا زائیدہ ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری نظام میں اگر اس تصور کو تسلیم کرنے کا رجحان زور پکڑنے لگے تو امن و آشتی کے قیام سے متعلق تمام آئینی ضوابط بے اثر ہو جائیں گے۔
جج تبسم خان کے معاملے میں لائق اطمینان پہلو یہ ہے کہ مدھیہ پردیش کے ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کی پہل کی ہے اور اس معاملے کو انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ہے کہ ’ایسی حرکتیں براہ راست عدالتی خودمختاری اور عدلیہ سے وابستہ ملازمین کے بے خوف کام کرنے کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں ۔ ‘عدالت کا یہ تبصرہ ان شرپسند نام نہاد دھارمک افراد کے ذریعہ قانون کو سبوتاژ کرنے کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے جو مذہبی یکسانیت کی بنیاد پر مجرم کا دفاع کرتے ہیں۔ جج تبسم خان نے نذیر احمد کوقتل کرنے والے۱۴؍خاطیوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنانے کے عمل میں اگر قانونی ضوابط کی خلاف ورزی کی ہوتی تو اس پر تو بات ہو سکتی تھی لیکن اس فیصلے کی بنا پر انھیں صرف اسلئے گالیاں دینا اور جان سے مارنے کی دھمکی دینا کہ جنھیں سزا سنائی گئی اور جس نے سزا سنائی دونوں کا مذہب مختلف ہے، صریح طور پر قانون کی حکمرانی کے تصور کو مجروح کرتا ہے۔ ایسے حساس معاملے پر ارباب اقتدار کی خاموشی بھی باعث تشویش اور شرپسندوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔