Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہر گائوں کے کنارے پُلیا آج بھی ہوتی ہیں مگر سب کی الگ الگ کہانیاں ہیں

Updated: July 10, 2026, 9:59 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

پیدل سفر کرنے والے مسافر اکثر تھک کر پُلیا پر رُکتے، وہاں  پانی سے ہاتھ منھ دھوتےکچھ دیر وہاں سستانے کے بعد تازہ دم ہوکر آگے کے سفر پر نکل پڑتے۔

The bridge built over the canal outside the village is still in place, but the number of people sitting on it has decreased. Photo: INN
گاؤں کے باہرنہر پر تعمیر پُلیا اب بھی اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس پر بیٹھنے والوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

ہر گائوں کے کنارے ایک پُلیا ضرور ہوتی ہے۔ کہیں نہر تو کہیں بڑے نالے پر بنی ہوتی ہے۔ شام کو وہاں بھی ایک محفل سجتی تھی، جس میں بڑے، بوڑھے اوربچے سبھی عمر کے لوگ ہوتے تھے۔ ہر گائوں میں آج بھی پُلیا ہے اور سب کی اپنی الگ کہانیاں  ہیں۔ اس پر اگر تفصیل سے بات کی جائے تو لمبی گفتگو ہو سکتی ہے۔ گائوں کی اس پُلیا پر دن بھر کے تھکے ماندے کسان شام کو بیٹھ کر گرمیوں میں آج بھی ٹھنڈی ہوا لیتے ہیں جو اُن کی تھکن مٹا دیتی ہے اور انہیں اگلے روز کیلئے ترو تازہ بھی کردیتی ہے۔ یہاں گرمیوں کی شامیں رونق بھری ہوتی ہیں اور سردیوں کی صبح یہاں بیٹھ کر گنگنی دھوپ لی جاتی ہے۔ ڈھلتی ہوئی شام کے ساتھ یہاں لوگوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں کی ہوا میں مٹی اور فصلوں کی خوشبو گھلی ہوتی ہے۔ نہر کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا ہے، لیکن اب پُلیا پر بیٹھنے والے بدل گئے ہیں ۔ 
پہلے بیٹھنے والوں کے اپنے قصے کہانیاں تھیں۔ اُن کے ہاتھوں میں موبائل نہیں تھے، اُن کے پاس صرف باتیں تھیں۔ کوئی اپنے دن بھر کے قصے سناتا، کوئی گاؤں کی خبروں پر تبصرہ کرتا۔ نوجوان دوستوں کی ٹولیاں بنا کر جمع ہوتے وہ کھیل کود کی باتیں کرتے۔ بزرگ حضرات اپنے تجربات اور پرانے قصے سناتے، جسے نوجوان بڑی دلچسپی سے سنا کرتے تھے۔ بعض لوگ خاموش بیٹھے پانی کی لہروں کو تکتے رہتے اور اپنے خیالوں کی دنیا میں گم ہو جاتے تھے۔ گرمیوں کی شاموں میں پُلیا پر بیٹھنا گویا قدرت کی آغوش میں چند لمحے گزارنے کے مترادف تھا۔ نہر کی پُلیا صرف ایک راستہ نہیں تھی بلکہ لوگوں کی یادوں، باتوں اور فرصت کے لمحوں کا ایک خوبصورت ٹھکانہ تھی۔ شام ڈھلے کھیتوں سے لوٹتے کسان، اسکول سے واپس آتے بچے اور فارغ وقت گزارنے والے نوجوان وہاں جمع ہوتےتھے۔

یہ بھی پڑھئے: باغ کے کونے میں اینٹیں جوڑ کر بچے اپنا چولہا بناتے ہیں اور پکوان تیار کرتے ہیں

اُس روز نہر کی پٹری پر چلتے ہوئے دیکھا تو... دور دور تک کھیت پھیلے تھے۔ زائد کی فصل تیارتھی۔ دھان کی روپائی کیلئے کھیت تیار کئے جارہےتھے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی بارش سے کھیتوں میں چہل پہل تھی۔ دور کچے راستے پر بکریوں کا ریوڑ گزر رہاتھا۔ ان کے پیچھے چلنے والا چرواہا جلدی جلدی اُن کو گھر کی طرف ہانک رہا تھا...یہ مناظر دیکھ کر بچپن کے وہ دن یاد آگئے جب ہم بچوں  کیلئے نہر کی پُلیا ایک دلچسپ تفریح گاہ تھی۔ وہاں پانی میں تیرتے۔ کبھی چھوٹی چھوٹی کنکریاں پانی میں پھینک کر دائروں کا کھیل کھیلتے اور کبھی پُلیا کے ارد گرد دوڑتے پھرتے رہتے۔ بچوں  کے قہقہے نہر کے بہتے پانی کے ساتھ دور تک سنائی دیتے تھے۔ باغوں سے ڈھیر سارا آم اور جامن توڑ کر اسی نہر کے پانی سےدھویا جاتا اور آپس میں مل بانٹ کر کھاتے بھی تھے۔ اُس وقت دوپہر کا کھانا گھر پر نہیں کھایا جاتا تھا۔ اِسی پھل سے پیٹ بھر جایاکرتا تھا۔ نہر میں آم پھینک کر اُس کو تلاش کرتے، جس کے ہاتھ میں وہ کھویا ہوا آم لگ جاتا وہ ہوا میں ہاتھ لہراتا شورمچاتا فاتحانہ انداز میں باہر آتا۔ سب دوست حلقہ بنا کر بیٹھتے اور آم و جامن کے ساتھ پورا انصاف کرتے۔ کئی مرتبہ آم کے رس کپڑوں میں لگ جاتے، مگر اُس وقت کس کو کپڑے خراب ہونے کی پروا ہوتی۔ دوستوں کے ساتھ کھانے پر آم کا ذائقہ دوبالا ہو جاتا تھا۔ 
پیدل سفر کرنے والے مسافر اکثر تھک کر پُلیا پر رُکتے، وہاں  پانی سے ہاتھ منھ دھوتےکچھ دیر وہاں سستانے کے بعد تازہ دم ہوکر آگے کے سفر پر نکل پڑتے۔ پُلیا کے آس پاس رہنے والے لوگ ایسے مسافروں کی خیرت دریافت کرتے، یوں نہر کی پُلیا صرف گاؤں والوں کی نہیں بلکہ راہ گیروں کی بھی آرام گاہ بن جاتی تھی۔ برسات کے دنوں میں نہر کے پانی کا بہائو تیز ہو جاتا۔ کسان اُسے دیکھ کر اندازے لگاتے کہ اس بار فصل کیسی ہوگی۔ پانی کی رفتار جب زیادہ تیز ہوتی تو وہاں موجود بزرگ آپس میں   باتیں کرتے ہوئے کہتے کہ فلاں علاقے میں جم کر پانی برسا ہوگا... جس کا اثر نہر کے پانی پر صاف نظر آرہا ہے۔ نوجوان ان باتوں پر مسکراتے، لیکن بعد میں اکثر اُن بزرگوں کے یہ دعوے سچ ہوا کرتے تھے۔ 
گائوں کے لوگوں کی بہت سے یادیں پُلیا سے وبستہ ہیں۔ کسی کی دوستی یہیں پروان چڑھی، کسی نے پہلی بار سائیکل چلانا یہیں سیکھا، کسی نے امتحان کے نتائج پر دوستوں کے ساتھ خوشیاں منائیں اور کسی نے اپنے دل کا بوجھ کم کرنے کے لئے یہیں تنہائی میں وقت گزارا۔ پُلیا ہر ایک کی کہانی کی خاموش گواہ ہے۔ آج گاؤں بدل چکے ہیں۔ پکی سڑکیں بن گئی ہیں، موبائل فون نے محفلوں کی جگہ لے لی ہے اور لوگوں کے پاس فرصت کے لمحات کم رہ گئے ہیں۔ نہر کی وہ پُلیا اب بھی اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس پر بیٹھنے والوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ اب جو نوجوان پُلیا پر بیٹھتے ہیں اُن کی آپس میں  گفتگو کیلئے زبان کم چلتی ہے بلکہ موبائل پر اُنگلیاں زیادہ دوڑتی ہیں۔ سب اپنے موبائل کے اسکرین میں  مست نظر آتے ہیں۔ آس پاس سے کون گزررہا ہے اور کون آرہا ہے اُن کو اس کا احساس بھی نہیں  ہوتا ہے۔ ہمارے علاقے میں بہت سی پُلیا ہیں۔ جب کبھی اُن پر بیٹھنے کا موقع ملےگا... پھر انشاء اللہ اُس پُلیا کی بات چھڑے گی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK