Inquilab Logo Happiest Places to Work

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تُو

Updated: July 10, 2026, 9:57 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

ہماری یہ بڑی خوش بختی رہی کہ ہمیں بڑے ہی اچھے اساتذہ نصیب ہوئے۔ لگ بھگ نصف صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم اُنہیں بڑے ادب و احترام سے یاد کر رہے ہیں اور اُن کی باتیں، نصیحتیں، حکایتیں سب کچھ اعصاب پر حاوی ہیں اور وہ سب اے آئی اور جدید پُرکشش الیکٹرانی چیزوں پر بھاری ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ان دنوں مصنوعی ذہانت اور سیٹیلائٹ ٹیکنا لوجی کا غلغلہ ہے، دھوم، شہرہ اور ہنگامہ ہے۔ نئی نسل اس کی اسیر بن چکی ہے۔ میں اُس دَور میں شاعرِ مشرق کی مدعا کا متمنی ہوں مگر کیا کیجئے دل کی بے چینی کو کہ یہ ساری ٹیکنا لوجی اور اے آئی وغیرہ بے روح نظر آتی ہیں۔ جب جب بے حِسی، نفسانفسی اور خود غرضی کے نظارے ہوتے ہیں، تب تب صرف ایامِ گزشتہ یاد آتے ہیں اور شدّت سے آتے ہیں۔ اس سلسلے کی اہم مثال ہیں، ہمارے اساتذہ۔ 
استاد کا احترام
ہماری یہ بڑی خوش بختی رہی کہ ہمیں بڑے ہی اچھے اساتذہ نصیب ہوئے۔ لگ بھگ نصف صدی کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ہم اُنہیں بڑے ادب و احترام سے یاد کر رہے ہیں اور اُن کی باتیں، نصیحتیں، حکایتیں سب کچھ اعصاب پر حاوی ہیں اور وہ سب اے آئی اور جدید پُرکشش الیکٹرانی چیزوں پر بھاری ہیں۔ کس کس بات کا ذکر کریں ؟ ہمیں سب سے پہلے یاد آرہے ہیں ہماری پرائمری اسکول کے ایک اُستاد۔ آج حکومت اقدار کی تعلیم و اخلاقیات کے دروس کا بڑا واویلا مچاتی ہے کہ اس ملک کے تعلیمی نظام میں یہ کیا ہورہا ہے، یہاں صرف ڈاکٹر، انجینئر تو بن رہے ہیں لیکن یہ نظام قدروں سے کوسوں نہیں بلکہ میلوں دُور ہے۔ 
 یہ ستم ظریفی ہی ہے یہ سب صرف واویلامچانے کی حد تک ’فکر مندی‘ ہے ورنہ حقِ تعلیم ایکٹ جو ۲۰۰۹ء میں وجود میں آیا، اُس میں اقدار کی تعلیم کیلئے کوئی ہفتہ وار پریڈ تک مختص نہیں کیا گیاہے۔ ۲۰۲۰ء کی نئی قومی تعلیمی پالیسی میں تو اقلیتوں کی دلآزاری ہی کو اقدار قرار دیا گیا ہے۔ افسوس کہ معصوم ذہنوں پر اخلاقیات کے اثرات مرتب کرنے کیلئے اس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں نصف صدی سے بھی قبل ہمارے پرائمری اسکول کے اُستاد محترم کا ویژن اور ان کی فکر ملاحظہ فرمائیں۔ انہوں نے اسکول شروع ہونے سے قبل روزانہ ۳۰؍منٹ اقدار کی تعلیم کیلئے مختص کر رکھے تھے۔ اس دُعائیہ اجلاس میں قرآنی آیات مع ترجمہ سنائی جاتی تھی۔ اُس کے بعد ۴۔ ۳ ؍بچّے ایک ایک قول زرّین پیش کرتے تھے۔ اُس کے بعد اُس روز کے اخبار سے نوٹ کی ہوئی تین اہم خبریں سنائی جاتی تھیں ، پھر روزانہ ایک ضرب المثل اور ایک محاورہ مع جملے کے بیان کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد اسکول کے سارے طلبہکیلئے ایک ساتھ ہمارے پرائمری اسکول کے استاد کا۲۵؍ منٹ کا اخلاقی اقدار کا پریڈ شروع ہوتا تھا۔ صحابہ ؓ سے لے کر دیگر عظیم انسانوں کے حیات و کارنامے کچھ اس انداز میں بیان کئے جاتے تھے کہ ابھی تک وہ ساری باتیں ذہن پر نقش ہیں اور آج بھی رہنمائی کرتی رہتی ہیں۔ 
روزنامچہ
 اُسی اُستاد نے پرائمری اسکول ہی میں ہمیں روز نامچہ یا ڈائری لکھنے کی ترغیب و تحریک دی تھی۔ ہر طالب علم کو روزانہ کم و بیش ۵؍سطروں پر مشتمل ڈائری لکھنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ ہمیں یہ بھی ہدایت دی گئی تھی کہ ہر روز کوئی ایک نیک کام کیا جائے اور اُس روز کی ڈائری میں لکھا جائے اور ہم اُس سلسلے میں کوئی فرضی بات نہیں لکھتے تھے بلکہ باہر نکل کر راستے سے ایک آدھ پتھر اُٹھاکر کنارے کرتے یا راستے پرپڑے کانٹے اُٹھا کر وہاں سے ہٹا دیتے تھے۔ 
 نصف صدی قبل ایک پرائمری اسکول کے اقدار کی تعلیم کی اہمیت سمجھنے والے اوراُس کیلئے ایک خصوصی پریڈ تخلیق کرنے والے، نیز پرائمری اسکول کے طلبہ کو ڈائری لکھنے کی ترغیب و تربیت دینے اور ہر روز ایک نیکی کرنے پر آمادہ کرنے والے اُس اُستادمحترم کی ماہانہ تنخواہ تھی: ۱۱۲؍ روپے اور اُن کی کل کائنات تھی کتابوں کی ایک الماری اور ایک سائیکل !

یہ بھی پڑھئے: دوبارہ نیٹ: یہ طلبہ کے ساتھ ہی والدین اور انتظامیہ کا بھی امتحان ہے

مراٹھی تقریری مقابلہ
ہمارے انتہائی لائق اساتذہ میں ہمیں ہمارے مراٹھی کے استاد محترم بھی یاد آ رہے ہیں جنھوں نے سب سے پہلے ہمیں تقریری مقابلے میں حصہ لینے کی تحریک دی۔ ملک کی آزادی کی سلور جبلی کے جشن کے موقع پر ہمارے یہاں کے اسکولوں کے مابین تقریری مقابلے کاانعقاد کیا گیا تھا۔ عنوان تھا :’مذہبی رواداری ہی اس ملک کی بقا کی ضامن ہے۔ ‘یہ تقریری مقابلہ مراٹھی زبان میں تھا۔ مقابلے میں حصہ لینے والے سبھی اسکول مراٹھی میڈیم کے تھے، صرف ہمارا سکول اُردو ذریعۂ تعلیم کا تھا۔ ہم نے اپنے استاد محترم سے کہا کہ’’مقابلہ مراٹھی میں ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے والے سبھی طلبہ مراٹھی ذریعہ تعلیم کے ہیں .... ‘‘ ہماری بات کاٹتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’’زبان کسی کی میراث نہیں ، جس طرح اُردو زبان صرف مسلمانوں کی زبان نہیں، اُسی طرح مراٹھی زبان بھی صرف مرہٹوں کی زبان نہیں ہے۔ ‘‘ پھر خوب جم کر تیاری کروائی اور پھر ناظم جلسہ (جو ضلع کے ایک نامور مراٹھی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے) نے نتیجہ کا اعلان کچھ اس طرح کیا:’’گیارہ مراٹھی میڈیم اور واحد اُردو میڈیم ہائی اسکولوں کے مابین تقریری مقابلے میں اُردو میڈیم کے طالب علم نے اوّل مقام حاصل کیا۔ ‘‘
سارا کریڈیٹ جاتا ہے ہمارے اسکول کے اُس اُستاد محترم کو جنہوں نے ہمیں مائیک پکڑنا سکھایا۔ آج وائس موڈیولیشن کی ٹریننگ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ ہمیں آواز کے اتار چڑھاؤ کے اہم گُر انہی اُستاد محترم نے سکھائے تھے۔ مراٹھی کے ہمارے وہ اُستاداب اس دنیا میں نہیں ہیں مگر جنّت الفردوس میں اُن کے بلند درجات کیلئے ہم بارگاہ الٰہی میں ہمیشہ دعا گو رہتے ہیں۔ 
حوصلہ افزائی
ہمیں توہمارے ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب بھی یاد آتے ہیں۔ ۱۸؍ جولائی۱۹۷۱ء کو جب روزنامہ انقلاب کے سنڈے ایڈیشن میں نصف صفحہ پر مشتمل ہمارا مضمون بعنوان ’سماج کو بدل ڈالو ‘ شائع ہوا تھا تو ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب نے ہر کلاس میں کچھ اس طرح اس کا تحریری اعلان بھیجاتھا کہ ’’ہمارے اسکول کے طالب علم کا ایک مضمون انقلاب میں شائع ہوا ہے، اُس کا تراشہ نوٹس بورڈ پر آویزاں ہے، تمام طلبہ اُسے پڑھیں۔ ‘‘ درمیانی چھٹی میں طلبہ کا ہجوم نوٹس بورڈ اور لائبریری میں مضمون پڑھ رہا تھا۔ حوصلہ افزائی کرنے والے وہ ہیڈ ماسٹرحیات ہیں، اللہ اُنھیں سلامت رکھے۔ 
اسکول کی سالانہ گیدرنگ میں ہر سال ہم اپنے اُنہی اُستاد کی نقل اُتار اکرتے تھے۔ ہمارے اساتذہ وہ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنستے تھے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ بچّے ہمیشہ اپنے رول ماڈل کی نقل کیا کرتے ہیں !
کتاب
اِسمارٹ فون، اے آئی کے دَور میں ایک چیز جسے نئی نسل مکمل بھولے جارہی ہے وہ ہے ’کتاب‘۔ کتاب کیسے اور کیونکر کھوسکتی ہے؟ نوجوانو! کتاب کا مفہوم ہی الگ ہے۔ آئیے سمجھیں اِسے، اس کائنات میں چار آسمانی کتابیں اور بے شمار صحیفے نازل ہوئے۔ ان میں سے ایک بھی کتاب کاغذ، قلم اور روشنائی پر مشتمل نہیں تھی مگر قرآن نے اپنے آپ کوہمیشہ کتاب ہی کہا۔ یہ کلام کاغذ، روشنائی، پرنٹنگ پریس یا بائنڈنگ کا محتاج نہیں تھا بلکہ درختوں کی چھال، پتھر کی تختیوں بلکہ چمڑے کے ٹکڑوں پر محفوظ کیا جاتا رہا۔ پھر اُس کلام کو لوگوں نے اپنے قلب میں اُتارنا شروع کیا اور اس کائنات کی سب سے عظیم کتاب زیر و زبر کی صحت کے ساتھ آج لاکھوں دِلوں میں محفوظ ہے۔ کتاب بہر حال کتاب ہے، درخت کے پتّوں کی شکل میں ہو یا پتھر کی تختی کی صورت میں ، کاغذپر ہو یا سی ڈی، پی ڈی ایف ہو یا کسی دوسری شکل میں مگر وہ کتاب ہے۔ 
تین استاد
دوستو! ہمارے تین اُستاد ہوتے ہیں : والدین، اساتذہ اور کتابیں۔ کئی کتابیں میری خاموش اُستاد رہی ہیں۔ کس کس کتاب کا ذکر کروں اور کس کس مصنف، مولف، شاعر یا تخلیق کار کا شکر کروں ؟ برسہا برس کے اُن کے مشاہدات، تجربات، اُن کی فکر و دانائی سے جو جو استفادہ کیا ہے، اُس کے تو بس ہم مقروض ہیں۔ 
اسکرین و اسمارٹ فون زدہ نسل کے اس دَور میں نو جوانو! آپ کو جہاں بھی اچھی کتاب ملے اپنے عزیز و اقارب، دوست و احباب یا شناسا کسی نہ کسی کے گلے پڑو اور اُسے وہ پڑھنے دو۔ یہ بھی نیکی ہے، صدقہ ہے۔ اب یہاں پر یہ خیال کہ ہمیں کیا پڑی ہے؟ ایک پُر فتن خیال ہے۔ دراصل کتاب وہ اچھی لگتی ہے جو ہمیشہ سفر میں ر ہے یعنی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جائے کیونکہ کتابیں ہماری محسن و غم خوار ہیں اسلئے جن کے گھر میں چھوٹا موٹا کتب خانہ نہ ہو، اُن سے تعلق رکھ کر آپ کیا حاصل کریں گے؟  کتابوں کا کتب خانے سے، الماریوں سے، دِلوں سے اور ذہنوں سے نکل کر سڑک پر اور فٹ پاتھ پر آجانا کسی بھی قوم کا بڑا المیہ ہے۔ دراصل جب کتاب کی تخلیق، اشاعت، مطالعہ اور اُس پر تبصرے کا عمل رُک جاتا ہے، وہ قوم زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ میں تو اسے اپنا بہترین دوست سمجھتا ہوں جو مجھے وہ کتاب تحفے میں دے جو میں نے پڑھی نہیں ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK