Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات نے بارش کے واقعات، پیپر لیک اور سیاسی جوڑ توڑ کو موضوع بنایا

Updated: July 10, 2026, 9:59 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

مانسون کی شدید بارش کے دوران ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں پیش آنے والے المناک حادثات، شہری بدانتظامی، تعلیمی نظام کی خامیوں اور سیاسی وفاداریوں کی بدلتی صورتحال نے غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں نمایاں جگہ حاصل کی۔

Uddhav and Aaditya Thackeray are worried today due to Sachin Ahir`s disloyalty, knowing that he was in the NCP till yesterday. Photo: INN
سچن اہیر کی بے وفائی سے ادھو اور آدتیہ ٹھاکرے آج پریشان ہیں جبکہ یہ جانتے ہیں کہ وہ کل تک این سی پی میں تھے۔ تصویر: آئی این این

مانسونکی شدید بارش کے دوران ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں پیش آنے والے المناک حادثات، شہری بدانتظامی، تعلیمی نظام کی خامیوں اور سیاسی وفاداریوں کی بدلتی صورتحال نے غیر اردو اخبارات کے اداریوں میں نمایاں جگہ حاصل کی۔ مختلف اخبارات نے بارش کے دوران رونما ہونے والے جانی نقصانات کوبلدیاتی اداروں کی ناکامی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شہری انتظامیہ پر سخت سوالات اٹھائے جبکہ بار بار امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کو تعلیمی نظام کیلئے لمحۂ فکریہ بتایا۔ اسی طرح مغربی بنگال حکومت کی جانب سے مڈ ڈے میل میں طلبہ کو انڈے فراہم نہ کرنے کے فیصلے کو مضحکہ خیز اور غیر دانشمندانہ قرار دیا گیا جبکہ ادھو ٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی ساتھی سچن اہیر کی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کو موقع پرستی اور ابن الوقتی کی علامت سے تعبیر کیا گیا۔ 
عالمی شہر کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے
نوشکتی( مراٹھی، ۳؍جولائی)
’’تاخیر سے ہی آنے والے مانسون نے وقتی طور پر زرعی شعبہ اور آبی ذخائر کو ضرور سہارا دیا مگر دوسری جانب انہی بارشوں نے ملک کے معاشی دارالحکومت ممبئی کے شہری انتظامی ڈھانچے کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ چند گھنٹوں کی بارش نے یہ ثابت کر دیا کہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی دعوؤں کے باوجود شہر کا بنیادی انفراسٹرکچر آج بھی انتہائی کمزور اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران پیش آنے والے المناک حادثات نے صورتحال کی سنگینی مزید واضح کر دیا ہے۔ چمبور میں ایک معصوم اسکولی طالبہ پر درخت گرنے کا واقعہ ہو یا نوی ممبئی کے نیرول میں بارش کے پانی میں کرنٹ دوڑنے سے نوجوانوں کے بے ہوش ہونے کا سانحہ۔ یہ محض قدرتی آفات نہیں بلکہ انتظامی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور بدعنوانی کے وہ تلخ نتائج ہیں جن کی قیمت بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ادا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سال مانسون کی آمد سے قبل صفائی اور نکاسیٔ آب کے منصوبوں کے نام پر کروڑوں روپے کا بجٹ منظور ہوتا ہے۔ کاغذوں پر بڑے بڑے دعوے اور منصوبے پیش کیے جاتے ہیں مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ امسال بھی مانسون کی پہلی ہی شدید بارش نے انتظامیہ کی تمام تیاریاں بے نقاب کر دیں۔ زیادہ تشویشناک مسئلہ کھلے مین ہول کا ہے جو ہر مانسون میں شہریوں کیلئے موت کے کنویں ثابت ہوتے ہیں۔ ہائی کورٹ نے واضح ہدایت دی تھی کہ شہر کے تمام مین ہول پر اسٹین لیس اسٹیل کی مضبوط حفاظتی جالیاں نصب کی جائیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے مگر افسوس کہ میونسپل کارپوریشن نے اس حکم پر بھی سنجیدگی سے عمل نہیں کیا۔ شہر بھر میں ۷۴۶۸۲؍ مین ہول میں سے صرف ۱۹۰۸؍ پر حفاظتی جالیاں نصب ہیں جو مجموعی تعداد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نمائشی منصوبوں اور کاغذی کامیابیوں سے نہ شہریوں کی جانیں محفوظ ہو سکتی ہیں، نہ ہی عالمی شہر کی ساکھ برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: موسلا دھار بارش سے سیلاب کا خطرہ، شہریوں کو الرٹ رہنے کا مشورہ

اقتدار کی ہوس کے سامنے ساری اخلاقیات ہیچ ہیں 
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۲؍جولائی)
’’مہاراشٹر کی سیاست میں جوڑ توڑ اور وفاداریاں بدلنے کا کھیل نیا نہیں ہے لیکن حالیہ دنوں میں جو کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے وہ سیاسی اصولوں اور اخلاقیات کے جنازے کے مترادف ہے۔ سچن اہیر کا قانون ساز کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب ہونا بظاہر ایک عام سیاسی عمل نظر آتا ہے لیکن اس کے پیچھے چھپی چالیں اور سیاسی موقع پرستی جمہوری روایات پر کئی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہیں۔ ماضی کی روایتوں پر نظر ڈالیں تو یہ ایک مسلمہ اصول رہا ہے کہ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر اور قانون ساز کونسل میں ڈپٹی چیئرمین کے عہدے حزبِ اختلاف کو دیئے جاتے تھے لیکن موجودہ دور میں روایات اور جمہوری اقدار کی حیثیت سیاسی طاقت اور اقتدار کی ہوس کے سامنے ہیچ ہوکر رہ گئی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اقتدار کو کسی بھی طریقے سے حاصل کرنا اور برقرار رکھنا اب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ منشور بن چکا ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے تلخ اور تنقیدی پہلو شیو سینا (یو بی ٹی) کی اندرونی قیادت اور سچے کارکنوں کی مایوسی ہے۔ ورلی حلقہ سے شیو سینا کے مخلص لیڈر سنیل شندے کا یہ بیان کہ ہماری قیادت کو کچھ چیزیں وقت پر سمجھ لینی چاہئے تھیں، پارٹی اعلیٰ کمان کیلئے ایک کھلا آئینہ ہے۔ سنیل شندے جیسے وفادار شیو سینک نے جس حلقے میں نیشنلسٹ کانگریس کے اسی سچن اہیر کوشکست دے کر شیو سینا کا پرچم لہرایا تھا، اسی حلقے کو انہوں نے پارٹی کے یوراج آدتیہ ٹھاکرے کے سیاسی آغاز کیلئے قربان کر دیا، لیکن سیاست کی ستم ظریفی دیکھیے کہ کل تک جس سچن اہیر کے خلاف شیو سینا برسرِپیکار تھی وہی اہیر بعد میں ادھو اور آدتیہ کے اتنے قریب ہو گئے کہ آدتیہ کو آج انتہائی مایوسی اور صدمے کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اہیر تو کل پرسوں تک میرے ہی ساتھ تھے۔ ‘‘
طلبہ کا اعتماد اور بھروسہ مجروح ہوتا ہے
نوبھارت( ہندی، ۲۹؍جون)
’’ملک میں امتحانات کی شفافیت اور ساکھ پر بار بار لگنے والا پیپر لیک کا داغ اب ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو یہ پورے تعلیمی اورانتظامی نظام کو مفلوج کر دے گا۔ یہ انتہائی تشویشناک اور شرمناک امر ہے کہ چند ضمیر فروشوں کے کالے دھندے اور لالچ کی وجہ سے امتحانات ملتوی کرنے کی نوبت آتی ہے جس کا سیدھا خمیازہ ان ایماندار اور محنتی امیدواروں کو بھگتنا پڑتا ہے جو دن رات ایک کر کے تیاری کرتے ہیں۔ جب ان کی محنت پر پانی پھرتا ہے تو کئی نوجوان ذہنی تناؤ اور شدید مایوسی کا شکار ہو کر خودکشی جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ دراصل ہمارے پورے انتظامی ڈھانچے کی ناکامی اور بدعنوانی کا ننگا ناچ ہے۔ حالیہ دنوں میں ٹی ای ٹی کا سوالنامہ لیک ہونا، اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں دہلی سے سوالنامے کے۴؍ سیٹ لے کر بھیونڈی پہنچنے والے تین عناصر کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے اس کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے لگائی تھی۔ اس حرکت نے لاکھوں امیدواروں کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے جنہیں اب نئے سرے سے امتحانات کی تیاری کرنی ہوگی۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے یہ دلاسہ دیا جا رہا ہے کہ دوبارہ امتحان کیلئے کوئی فیس یا رجسٹریشن نہیں کرانی ہوگی لیکن انتظامیہ یہ کیوں نہیں سمجھتی کہ امتحانات کا بار بار ملتوی ہونا نوجوانوں کے اعتماد اور بھروسے کو جڑ سے ہلا دیتا ہے۔ ‘‘
مڈڈے میل میں انڈوں کی فراہمی سے انکار
دی ٹائمز آف انڈیا( انگریزی، ۳؍جولائی )
’’مغربی بنگال کی موجودہ حکومت اس وقت احتیاط کے ساتھ ایک نازک صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاست بھر میں اسکولوں کے مڈ ڈے میل کا نیا ٹھیکہ سنبھالنے والی تنظیم ’اسکون‘ کا انڈے نہ دینے کی سخت پالیسی نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے اور اسکولی بچوں کے لیے انڈے کی فراہمی کو یقینی بنانے کی خاطر حکومت کو اضافی فنڈ جاری کرنے پڑ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ’اسکون‘ اپنی ماتحت تنظیم ’اکشیا پاترا فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے طویل عرصے سے ملک کی مختلف ریاستوں میں مڈ ڈے میل فراہم کر رہی ہے، لیکن اپنے خالص سبزی خور کھانوں کے ایجنڈے کے باعث وہ اکثر تنازعات کی زد میں بھی رہتی ہے۔ سال ۲۰۱۹ء میں کرناٹک میں بھی اُس وقت شدید عوامی غم و غصہ دیکھا گیا تھا جب ’اکشیا پاترا فاؤنڈیشن‘ نے روایتی سانبھر میں پیاز اور لہسن تک شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پورا معاملہ محض انڈوں بمقابلہ سبزی خور پروٹین کا ہے؟ حقیقت اتنی سادہ نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ کئی تہیں پوشیدہ ہیں۔ اسکول کے غذائی مینو میں انڈوں کو شامل رکھنے کا فیصلہ کسی جذباتی وابستگی کا نہیں بلکہ خالصتاً سائنسی اور منطقی بنیادوں پر مبنی ہے۔ انڈے انسانی جسم کو اعلیٰ معیار کا پروٹین، صحت بخش چکنائی اور انتہائی ضروری وٹامن اور معدنیات فراہم کرتے ہیں۔ اس وقت پورا ہندوستان پروٹین کی شدید کمی کے بحران سے گزر رہا ہےجو نئی نسل کی گرتی ہوئی صحت کی صورت میں ایک بڑا قومی بوجھ بن چکا ہے۔ مڈ ڈے میل میں انڈوں کی جگہ پودوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کو دینے کا سب سے بڑا عملی چیلنج معیار اور مقدار میں یکسانیت کو برقرار رکھنا ہے۔ انڈے ایک ایسی قدرتی غذا ہیں جن میں ملاوٹ کرنا، پانی ملانا یا ان کا معیار گرانا ناممکن ہے جبکہ اس کے برعکس دالوں یا دیگر اشیاء میں آسانی سے ڈنڈی ماری جا سکتی ہے۔ انڈے فطری طور پر ایک مقررہ مقدار میں دستیاب ہوتے ہیں جنہیں پورے ملک میں حاصل کرنا اور اسکولوں تک پہنچانا انتہائی آسان ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK