• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مصنوعی ذہانت ایک عظیم انقلاب ہے، اس کو روکنا نہ ممکن ہے، نہ ہی ضروری

Updated: September 29, 2026, 10:03 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

مصنوعی ذہانت کے دَور میں استاد اب صرف اُستاد نہیں رہے گا بلکہ سرپرست کا کردار بھی ادا کرے گا۔

Technology is not harmful to teachers; it is beneficial. Photo: INN
ٹیکنالوجی ٹیچر کیلئے نقصاندہ نہیں، مفید ہے۔ تصویر: آئی این این

آج ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا اے آئی اُستاد کی جگہ لے سکتی ہے؟ 
مستقبل کا اُستاد ٹیکنالوجی سے خوف زدہ نہیں ہوگا
جو استاد مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ ہوگا، وہ اپنے طلبہ سے پیچھے رہ جائے گا۔ آج کے استاد کو یہ سوچنا ہوگا:’’اے آئی میرے لیے خطرہ نہیں، اگر میں اسے اپنے تعلیمی مقصد کیلئے استعمال کرنا سیکھ لوں ‘‘ایک جدید استاد اے آئی کی مدد سے(الف) سبق کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ (ب) مختلف سطح کے طلبہ کے لیے الگ مواد تیار کر سکتا ہے۔ (ج) سوالنامے تیار کر سکتا ہے۔ (د) طلبہ کی تحریروں کا ابتدائی تجزیہ کر سکتا ہے۔ (و) زبان سیکھنے کے لیے مشقیں بنا سکتا ہے۔ (ہ) تخلیقی سرگرمیاں تیار کر سکتا ہے۔ لیکن آخری فیصلہ اُستاد ہی کا ہونا چاہیے۔ 
اُستاد سے سرپرست تک 
مصنوعی ذہانت کے دَور میں استاد اب صرف اُستاد نہیں رہے گا بلکہ سرپرست کا کردار بھی ادا کرے گا۔ وہ طالب علم کو صرف یہ نہیں بتائے گا کہ کیا پڑھناہے بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ : کیا سوچنا ہے، کیسے سوچنا ہے، کیوں سوچنا ہے اور اپنی سوچ کو زندگی میں کیسے استعمال کرناہے۔ 
کیا اے آئی اُستاد کی جگہ لے سکتی ہے؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ میری نظر میں مصنوعی ذہانت استاد کے کچھ کاموں کی جگہ لے سکتی ہے لیکن استاد کی مکمل جگہ نہیں لے سکتی۔ (الف) اے آئی معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ (ب)اے آئی سبق کی تیاری میں مدد کر سکتی ہے۔ (ج)اے آئی امتحانی سوالات تیار کر سکتی ہے۔ (د) اے آئی طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ کر سکتی ہے۔ (و)اے آئی ذاتی نوعیت کی تعلیمی مشقیں فراہم کر سکتی ہے لیکن اے آئی ماں کی طرح شفقت نہیں کر سکتی۔ اے آئی استاد کی طرح کردار سازی نہیں کر سکتی۔ اے آئی انسانی تعلق کی وہ گرمی نہیں دے سکتی جو ایک اچھے استاد اور طالب علم کے درمیان قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے مستقبل کا مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ: اے آئی استادکی جگہ، بلکہ اصل سوال ہوگا:اے آئی کے ساتھ بہتر استاد کیسے پیدا کیے جائیں ؟ 
اُستاد کو خود بھی سیکھنا ہوگا
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اب استاد کیلئے صرف اپنی پرانی معلومات پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ اگر ٹیکنالوجی بدل رہی ہے تو استاد کو بھی بدلناہوگا۔ جو استاد خود سیکھنا چھوڑ دیتا ہے، وہ دوسروں کو سیکھنے کی تحریک نہیں دے سکتا۔ مستقبل کا کامیاب استاد وہ ہوگا جو: (الف) نئی ٹیکنالوجی سیکھے۔ (ب)اے آئی ٹولز سے واقف ہو۔ (ج) ڈیجیٹل وسائل کو سمجھتا ہو۔ (د) تنقیدی اور تخلیقی سوچ پیدا کرے (و) جدید تدریسی طریقے اختیار کرے(ہ) مسلسل اپنی مہارتوں کو بہتر بنائے۔ 
 کتاب، استاد اور اے آئی کا نیا مثلث
مستقبل کی تعلیم میں شاید تین اہم ستون ہوں گے:کتاب + اُستاد+ مصنوعی ذہانت۔ کتاب علم کا خزانہ ہوگی۔ اے آئی علم تک رسائی اور اسے استعمال کرنے کا طاقتور ذریعہ ہوگی، اور استاد اِن دونوں کو صحیح سمت دینے والا رہنما ہوگا۔ اگر طالب علم کے پاس صرف اے آئی ہو اور استاد نہ ہو تو وہ معلومات کے سمندر میں بھٹک سکتا ہے۔ اگر استاد ہو مگر جدید ٹیکنالوجی سے ناواقف ہو تو وہ نئی دنیا کے بہت سے مواقع سے محروم ہو سکتا، لہٰذا مستقبل کی کامیاب تعلیم انسان اور ٹیکنالوجی کے متوازن امتزاج میں ہے۔ 
اُستاد کا سب سے بڑا مقابلہ اے آئی نہیں، پرانا طریقۂ تدریس ہے
یہ بات شاید سب سے زیادہ غور طلب ہے۔ استاد کو اے آئی سے نہیں بلکہ اپنے فرسودہ تدریسی طریقوں سے مقابلہ کرنا ہے۔ اگر استاد صرف کتاب پڑھائے گا، طالب علم سے رٹنے کو کہے گا، ہر سوال کا ایک ہی جواب مانگے گا اور تخلیقی سوچ کو نظر انداز کرے گا تو طالب علم یقیناً اے آئی کی طرف زیادہ راغب ہوگا، لیکن اگر استاد کلاس روم کو ایسا مقام بنا دے، جہاں :(الف) سوال پوچھنے کی آزادی ہو، (ب) اختلاف رائے کی گنجائش ہو، (ج) تخلیقی صلاحیت کو فروغ ملے(د) تجربات کیے جائیں (و)) گفتگو ہو، (ہ)کردار سازی ہو تو اے آئی استاد کا حریف نہیں بلکہ اس کا معاون بن جائے گی۔ 
امتحانات کا نظام بھی بدلنا ہوگا
اے آئی کے دَور میں روایتی امتحانی نظام بھی بڑے متاثر ہورہے ہیں۔ اگر طالب علم گھر بیٹھ کر اے آئی کی مدد سے مضمون لکھ سکتا ہے تو صرف مضمون لکھوانا اس کی حقیقی قابلیت کو جانچنے کیلئے کافی نہیں ہوگا۔ اے آئی کے منفی استعمال سے امتحان کے نظام میں مزید ابتری بلکہ تباہی برپا ہوسکتی ہے البتہ اجتماعی ذمہ داری سے امتحانی پرچے لیٖک ہونا بھی بند ہوسکتے ہیں۔ مستقبل میں امتحان میں شاید زیادہ اہمیت ہوگی:سوچنے، تجزیہ کرنے، مسئلہ حل کرنے، گفتگو کرنے، تخلیق کرنے اور عملی طور پر کام کرنے کی صلاحیت کو۔ یہ تبدیلی استاد کے کردار کو مزید اہم بنا دے گی۔ 
انسانی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہوں گی
جتنا زیادہ دنیا مشینی ہوتی جائے گی اتنا ہی انسانیت کی اہمیت بڑھتی جائے گی۔ اگر مشینیں حساب کریں گی تو انسان کو احساس پیدا کرنا ہوگا۔ اگر مشینیں معلومات دیں گی تو انسان کو حکمت پیدا کرنا ہوگی۔ اور اگر اے آئی ذہانت فراہم کرے گی تو استاد کو دانائی پیدا کرنی ہوگی۔ 
اُستاد مستقبل کا قطب نُما ہوگا
مصنوعی ذہانت معلومات کا ایک بہت بڑا سمندر ہے مگر سمندر میں سفر کیلئے صرف پانی کافی نہیں ہوتا، سمت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اے آئی معلومات کا سمندر ہے، استاد سمت کا قطب نُما۔ طالب علم کے سامنے مستقبل کے بے شمار راستے ہوں گے۔ استاد اسے یہ سمجھانے میں مدد دے گا کہ کون سا راستہ اس کی صلاحیت، شخصیت، اقدار اور مقصد زندگی کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی دَور میں استاد کی ضرورت ختم نہیں ہوگی بلکہ اچھے استاد کی ضرورت مزید بڑھ جائے گی۔ 
اُستاد کی نئی تعریف
مصنوعی ذہانت کے دَور میں شاید استاد کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے:’’استاد وہ شخص نہیں جو طالب علم کو ہر سوال کا جواب دے، بلکہ وہ شخص ہے جو طالب علم کو زندگی کے صحیح سوالات پوچھنا سکھائے۔ ‘‘وہ طالب علم کو صرف روزگار کیلئے تیار نہ کرے بلکہ زندگی کیلئے تیار کرے۔ وہ صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ اچھا انسان بنانے کی کوشش کرے۔ 
نتیجہ
مصنوعی ذہانت تعلیم کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب ہے۔ اس انقلاب کو روکنا نہ ممکن ہے، نہ ہی ضروری۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے سمجھیں، اس کے فوائد حاصل کریں اور اس کے خطرات سے اپنے طلبہ کو محفوظ رکھیں۔ استاد کیلئے مستقبل کا راستہ ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نیا راستہ کھلا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم اے آئی کو کلاس روم میں لے آئیں، اصل کامیابی اس میں ہے کہ ہم اُسے صحیح تعلیمی مقصد کیلئے استعمال کرنا سیکھیں۔ ایک بہترین تعلیمی کلاس روم وہ نہیں ہوگا جہاں اے آئی اُستاد کی جگہ لے بلکہ وہ ہوگا جہاں کتاب طالب علم کو کسی موضوع یا مضمون کی گہرائی دے، اے آئی اُسے نئے امکانات سے متعارف کرائے اور اُستاد اُس کی سوچ بلکہ منتشر خیالی کو بھی صحیح سمت عطا کرے۔ 
آخری بات
اے آئی شاید بہترین معلومات فراہم کرنے والا معاون بن جائے، لیکن بہترین انسان بنانے والا استاد ہی رہے گا۔ اور آنے والے دَور کا سب سے کامیاب استاد وہ نہیں ہوگا جو اے آئی سے مقابلہ کرے گا، بلکہ وہ ہوگا جواے آئی کو اپنا معاون بنا کر اپنی انسانیت اپنی بصیرت اور اپنی تدریسی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK