جہاں مارچ تا جولائی ۵؍ مہینوں میں انسٹا گرام، فیس بک اور یوٹیوب سے تقریباً ۲؍لاکھ پوسٹس ہٹوائے گئے وہیں بہار میں یوٹیوب پر حکومت کے کاموں کی تعریف کرنےوالے ویڈیوز کو ماہانہ ۱۰؍ ہزار سے ایک لاکھ تک دینے کی اسکیم سب کچھ بیان کررہی ہے
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 9:35 PM IST | Asim Jalal | Mumbai
جہاں مارچ تا جولائی ۵؍ مہینوں میں انسٹا گرام، فیس بک اور یوٹیوب سے تقریباً ۲؍لاکھ پوسٹس ہٹوائے گئے وہیں بہار میں یوٹیوب پر حکومت کے کاموں کی تعریف کرنےوالے ویڈیوز کو ماہانہ ۱۰؍ ہزار سے ایک لاکھ تک دینے کی اسکیم سب کچھ بیان کررہی ہے
جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران پہلی بار اس بات پر مہر لگی کہ وہ میدان جس کا ۲۰۱۴ء میں بی جےپی نے اقتدار میں آنے کیلئے بھر پور استعمال کیا اور جس پر دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے اس کی بالادستی برسوں سے قائم تھی، وہ اب اس کے کنٹرول سے نکل رہا ہے۔ اس پس منظر میں وزیراعظم مودی کے انسٹا گرام پوسٹ کو غلطی سے چند گھنٹوں کیلئے بلا ک کئے جانے پر میٹا کی بین الاقوامی ٹیم کا طلب کرلیا جانا، بہت گہرے معنی رکھتا ہے۔ یہ بات چھپی ہوئی نہیں ہے کہ مودی سرکار سوشل میڈیا پلیٹ فارمس سے کیا چاہتی ہے۔ گزشتہ دنوں ’انڈین ایکسپریس‘ کی چشم کشار پورٹ نے اسے مزید واضح کردیا۔ رپورٹ کے مطابق مار چ سے جولائی کے دوران یعنی صرف ۵؍ مہینوں میں مودی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو ایک لاکھ ۹۵؍ ہزار پوسٹس ہٹانے کی ہدایت جاری کی، یعنی ہر روز ایک ہزار ۲۷۵؍ احکامات جاری کئے گئے۔ اس طرح حکومت ہند کی ہدایت پر مذکورہ ۵؍ مہینوں میں ہر روز ۶۸؍ سیکنڈ میں فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوب پوسٹ ہٹانے کا حکم جاری کیاگیا۔
سوشل میڈیا پر پیغامات اور پوسٹس کو بلاک کرنے کے حکم میں اضافہ کس قدر غیر معمولی تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اسی حکومت نے اکتوبر ۲۴ء سے اکتوبر ۲۵ء کے دوران پورے ایک سال میں ۲؍ ہزار ۳۱۲؍ پوسٹ ہٹانے کا حکم جاری کیاتھا۔ بہرحال زیر بحث ۵؍ مہینوں میں سب سے زیادہ پوسٹس نوجوانوں کا پلیٹ فارم کہلانےوالے انسٹا گرام سے ہٹوائی گئیں۔ ان کی تعداد ایک لاکھ کےقریب ہے۔ دوسرے نمبر پر فیس بک ہےجس پر ۸۰؍ ہزار پوسٹ ہٹانے کا حکم دیاگیا جبکہ یوٹیوب کو ۱۵؍ ہزار پوسٹ ہٹانے کا ہی حکم دیاگیا۔ یہ وہی وقت ہے جب نیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں نوجوانوں کی برہمی دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی اور پھر وہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج پر منتج ہوئی جو ۶؍ جون کو شروع ہوا اور ۲۵؍ جولائی کو دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ہی ختم ہوا۔ یہ بات اب مصدقہ ہے کہ اس احتجاج کیلئے نوجوانوں کو متحرک کرنے میں انسٹا گرام کے پوسٹس کا کلیدی رول تھا۔ ’ انڈین ایکسپریس‘ نے اپنی رپورٹ میں حکومت میں موجود اپنے مصدقہ ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ۵؍ مہینوں میں جن ۲؍ لاکھ پوسٹس کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی ان میں سے قابل قدر تعداد مظاہروں کے وقت کی ہے۔
ڈجیٹل پلیٹ فارمس پر حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت جمہوریت اور آزادی ٔ اظہار رائے کیلئے ایک سنگین سوال ہے۔ وزیر اعظم کا ویڈیو غلطی سے کچھ دیر کیلئے بلاک ہونے پر میٹا کے افسران کی طلبی کو اسی پس منظر میں دیکھا جاسکتاہے۔ مذکورہ طلبی کی وجہ بھلے ہی وزیراعظم مودی کے ویڈیو کی بلاکنگ رہی ہو مگر مودی سرکار نے کبھی بھی اپنی اس منشا کو مخفی نہیں رکھا کہ وہ جنتر منتر کے مظاہروں کے حوالے سے پوسٹس کو دبایا جائے۔ تجزیہ نگاروں اور حکومت کے طرز عمل پر گہری نظر رکھنے والوں کا اندیشہ ہے کہ وزیراعظم مودی کے ویڈیو کو بلاک کرنے کی وجہ سے دباؤ میں آنے والی کمپنی میٹا کے اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ میں بعید نہیں کہ ان سے الگوردھم میں کچھ ایسی تبدیلیوں کا بھی مطالبہ کیاگیا ہو جن کے تحت حکومت مخالف مشمولات کا پھیلاؤ کم ہو اور حکومت نواز پوسٹ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے سامنے آئیں۔ ویسے بھی ۲۰۲۱ء میں انفارمیشن ٹیکنالوجی رُولس میں ترمیم کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کو اس بات کا پابند کیا جاچکا ہے کہ حکومت کی ہدایت ملنے کے بعد ۳؍ گھنٹوں کے اندر اندر انہیں مذکورہ ’’غیر قانونی پوسٹ ‘‘ کو ہٹا دینا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل کی حمایت بڑھ رہی ہے اور مذاق اڑانے والوں کا طبقہ سکڑ رہا ہے
حکومت کیلئے یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ جنتر منتر کے احتجاج نے یہ بات بھی ثابت کردی ہے کہ خود کو مین اسٹریم میڈیا کہلانےوالاٹی وی چینلوں پر مبنی میڈیا عوام میں اپنا اعتبار کھو چکا ہے۔ اس لئے حکومت کی اب ساری توجہ سوشل میڈیا اور بطور خاص انسٹا گرام پر اپنی مثبت شبیہ پیش کرنے پر مرکوز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار سرکار نے سوشل میڈیا پر حکومت کے کاموں کی تعریف میں ویڈیو بنانےوالوں کیلئے اُن کی رسائی کی بنیاد پر ہر ویڈیو پر ۱۰؍ ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ماہانہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ویڈیو میں حکومت کی تعریف کی گئی ہے اوراسے کم از کم ایک لاکھ افراد نے دیکھا ہو۔ دھیرے دھیرے اگر بی جے پی کے اقتدار والی دیگر ریاستیں بھی اگر اسی طرح کی اسکیمیں متعارف کرائیں تو حیرت انگیز نہیں ہوگا کیوں کہ وزیراعظم تو پہلے ہی کسی نہ کسی انداز میں ریٖل کو بھی روزگار مان چکے ہیں۔
سوشل میڈیا پوسٹس کو بلاک کرنے کیلئے حکومت کے احکامات حیرت میں نہ ڈالیں اگر یہ احکامات منصفانہ طور پر جاری کئے جائیں۔ ا گر وزیراعظم مودی کی ریل کا بلاک کیا جانا سنگین مسئلہ ہے تو عام شہریوں کی وہ ریلس جن میں ہم وطنوں کیلئے کوئی پیغام ہے، کا بلاک کرنا بھی اتنا ہی سنگین مسئلہ ہونا چاہئے۔ اگر حکومت یا برسراقتدار لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے شائستگی کی حد کو پار کرنے والی ریلس کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹایا جانا ضروری ہے تو اُن ریلس اور پیغامات کے ساتھ بھی یہی برتاؤ ہونا چاہئے جن میں اپوزیشن کے لیڈروں کے تعلق سے ناشائستگی کا مظاہرہ کیاگیاہے۔ انسٹاگرام ریلس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم آج عوامی رائے کے اظہار کا اہم ذریعہ ہیں۔ اگر حکومتیں ان پر سیاسی اظہار کو اپنی مرضی کے مطابق محدود کرنے کی کوشش کریں گی تو اس کے دور رس نتائج کا اندیشہ ہے۔ اگر بغیر عدالتی جانچ کے محض اعتراض کی بنیاد پرمشمولات کو ہٹانا معمول بن گیا تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں اور مستقبل کی ہر حکومت انہیں اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کر سکتی ہے اور شکاری خود شکار بھی ہوسکتاہے۔