• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ٹیکنالوجی کی سہولت کے بدلے کہیں ہم اپنی خودمختاری تو نہیں کھو رہے؟‘‘

Updated: September 02, 2026, 9:33 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

ہارورڈ بزنس اسکول کی سابق پروفیسر ’شوشانہ زوبوف‘ کی عمیق تحقیق پرمبنی کتاب’دی ایج آف سروئیلانس کیپٹلزم‘ کا جائزہ، یہ کتاب سرمایہ داری کے ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعےانسانی تجربے کو خام مال بنا کر منافع پیدا کرتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہوشیار باش! آپ کی نگرانی ہو رہی ہے۔ اس کالم نویس کی بھی ہو رہی ہے اور پڑھنے والوں کی بھی، لیکن گھبرائیے مت ہمارا مقصد آپ کو ڈرانا نہیں، بس آگاہ کرنا ہے۔ 
اکیسویں صدی کو معلومات، رفتار، سہولت اور آسائش کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ مگر یہ بات صرف نصف سچ ہے۔ عصر حاضر کے سائے میں ایک اور دور بھی پنپ رہا ہے۔ نگرانی، پیش گوئی اور کنٹرول کا عہد! طاقت کی نئی صورتیں خاموشی سے جنم لے چکی ہیں۔ یہ قوتیں انسانوں کے رویوں، عادات اور خواہشات کے نہاں خانوں میں سرایت کر جاتی ہیں۔ ہماری عادتوں کو خود ہمارے ہی خلاف استعمال کرتی ہیں۔ امریکی مفکر اور ہارورڈ بزنس اسکول کی سابق پروفیسر شوشانہ زوبوف اسی رجحان کی نقاب کشائی کرتی ہیں۔ ان کی شہرۂ آفاق کتاب کاعنوان ہے، ’ دی ایج آف سروئیلانس کیپٹلزم‘ یعنی کڑی نگرانی کرنے والی سرمایہ داری کا عہد۔ یہ کتاب سرمایہ داری کے ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعےانسانی تجربے کو خام مال بنا کر منافع پیدا کرتا ہے۔ کتاب ایک تفتیشی رپورٹ کی مانند ہے جو بتاتی ہے کہ ہماری نجی زندگی کس طرح منڈی میں تولی جا رہی ہے، اور ہم کب کے انسان سے محض ڈیٹا میں بدل گئے ہیں ۔ 
نگرانی بطورِ کاروبار
شوشانہ ایک سیدھی مگر چونکا دینے والی بات کہتی ہیں : آج کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صرف خدمات فراہم نہیں کرتیں، وہ انسانی رویوں کا کاروبار کرتی ہیں۔ ان کی بات پر راقم الحروف آپ کی معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کررہا پھر بھی ذرا غور کیجئے:
انٹرنیٹ کے سمندر میں تیراکی کرتے ہوئے ہم کیا کیا تلاش کرتےہیں، بلکہ دن کے کس وقت اور کتنی دیر ہم کس طرح کا مواد ڈھونڈتے ہیں ؟ مذہبی، سیاسی، تفریحی یا دیگر ویڈیو وغیرہ دیکھنے کےکیا اوقات ہوتے ہیں ؟ 
ہمارا محل وقوع نہایت باریکی اور درستگی کے ساتھ ہمارے اپنے فون کے ذریعہ بیرون ملک کسی کارپوریٹ کے برقی گودام میں جمع ہورہا ہوتا ہے۔ 
اسمارٹ ٹی وی اور فون کے کئی ماڈلوں میں خودکاری سے ہماری بات چیت سن کر کسی اورمقام تک پہنچانے کی استعداد ہوتی ہے، شاید وہ ایسا کرتے بھی ہوں۔ 
ہوشمند گھڑیاں، رفتارِ نبض، ورزش اور سونے جاگنے کے اوقات کیا صرف ہمیں بتانے کیلئے ریکارڈ کرتی ہیں ؟
آن لائن یعنی برخط خریداری، ہوٹلوں سے منگوائی جانے والی غذا، سفر کے ٹکٹ، سب کچھ ریکارڈ ہوتا ہے۔ 
یہ تو محض چند نقاط تھے۔ ان سے زیادہ اور موثرتر آلات، ان سے زیادہ حساس معلومات جمع کرنے میں مسلسل مصروف ہیں۔ انٹرنیٹ پر تلاشیں، لوکیشن، پسند ناپسند، دوستیاں، سب خام مال ہے۔ اس خام مال سے ایسا ڈیٹا تیار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے یہ کمپنیاں ہماری آئندہ حرکتوں کی پیش گوئی کرتی ہیں اور پھر ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ پہرہ دار سرمایہ داری کا یہی بنیادی ماڈل ہے۔ نگرانی، کارپوریٹ منڈی کا بنیادی اصول بن چکی ہے۔ 
مہنگا سودا
مفت ڈیجیٹل سہولتوں کو آج کون استعمال نہیں کرتا ؟ لیکن یہ ایک ایسا دلفریب تحفہ ہے جس کی بھاری قیمت بعد میں وصول کی جاتی ہے۔ گوگل، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز کی زیادہ تر خدمات بظاہر تومفت ہیں مگراصل ادائیگی ہم اپنی نجی معلومات دے کر کرتے ہیں بلکہ کتنے تو ان خدمات کیلئے روپے پیسے بھی کٹواتے ہیں۔ یہ سب کچھ قانونی طریقہ سے، ہماری ایسی رضامندی کے ساتھ ہورہا ہے جس کا ادراک خود ہم میں سے اکثر کو نہیں ہے۔ کیا مسئلہ صرف اتنا ہی ہے؟ زوبوف کے مطابق مسئلہ محض ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نہیں بلکہ اس کے ذریعے انسانی خود مختاری کو کمزور کرنے کا ہے۔ جب الگورتھم یہ طے کریں کہ ہم کیا دیکھیں، کیا سوچیں اور کیا خریدیں، تو آزادیٔ انتخاب ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آلودہ اشیائے خور و نوش کے سبب اموات میں اضافہ

طاقت کی نئی شکل
اس کی وجہ سےایک نئی طاقت ابھری ہےجسےمصنفہ Instrumentarian Power کہتی ہیں۔ یعنی ایسی طاقت جو رویوں کی انجینئرنگ سے کام لیتی ہے۔ یہ خاموش ہے، نظر نہیں آتی، مگر بیحد گہرا اثر رکھتی ہے۔ بس چند نوٹیفکیشن، مسلسل پروسے جانے والے فیڈ اور اشتہارات کے ذریعے ذہنوں کی ترتیبِ نو کا کام جاری ہے۔ ہماری پسند ناپسند، ہماری ترجیحات میں زبردست تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ ہم اور ہماری نسلیں وہ سب استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں جو اپنے منافع کی خاطر یہ سرمایہ دار چاہتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ٹیکنالوجی سہولت سے آگے بڑھ کر کنٹرول کا آلہ بن جاتی ہے۔ 
معیشت میں اجارہ داری
سرویلانس کیپٹلزم نے چند کمپنیوں کو غیر معمولی معاشی طاقت بخشی ہے۔ ڈیٹا پر ان کی اجارہ داری اتنی ہے کہ کاروبار میں منصفانہ مقابلے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ ریاستی ضابطہ کاری کو کمزور کرتی ہے۔ اگر یہ رجحان یونہی جاری رہا تو ریاستیں پالیسی ساز نہیں بلکہ محض تماشائی بن کر رہ جائیں گی۔ 
جمہوریت دباؤ میں 
یہ کتاب جمہوریت کیلئے بھی ایک انتباہ ہے۔ شوشانہ یاد دلاتی ہیں کہ جب ووٹر کے جذبات، خوف اور تعصبات کو ڈیٹا کے ذریعے نشانہ بنایا جائے تو انتخاب آزاد نہیں رہتا۔ کیمبرج اینالٹیکا جیسے اسکینڈل محض حادثےنہیں بلکہ اس نظام کی علامت ہیں۔ رائے عامہ اب جلسوں ، مباحثوں سے نہیں بلکہ اسکرین کے پیچھے بیٹھے الگورتھمز سے تشکیل پا رہی ہے۔ خود ہمارے ملک میں آجکل انتخابات کے حیرت انگیز طور پر غیرمتوقع نتائج میں اسی طرح کے ڈیٹا کا استعمال ایک فیصلہ کن رول ادا کررہا ہے۔ حکومت اور کمپنیاں اکثر یہ دلیل دیتی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی، سلامتی، فراڈ کی روک تھام اور بہتر انتظام کیلئے ضروری ہیں۔ اصولی طور پر یہ دلیل منظور ہے لیکن ٹیکنالوجی کا یہ کیسا استعمال ہے جس کے باعث لاکھوں کا حق رائے دہی معطل پڑا ہے؟ ملک کی انتخابی فہرست کی تصحیح ضرور ہو لیکن معمولی خامیوں کی وجہ سے لوگ دفترں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ 
پرائیویسی کا اخلاقی سوال
سوچئے! کیا انسان کی زندگی کو کسی ڈیجیٹل کان میں جھونک دینا درست ہے؟ کیا ٹیکنالوجی کی ترقی کا مطلب یہ ہے کہ نجی زندگی قصۂ پارینہ بن جائے؟ پرائیویسی کا تحفظ آج ایک بڑا سوال ہے۔ ہر شخص کسی نادیدہ کارپوریٹ یا حکومت کے سامنے ننگا کھڑا ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں مگر بے لگام ٹیکنالوجی کے شدید مخالف ہیں۔ برتاؤ پر مبنی ان بازاروں میں بیحد دولت اور بےپناہ طاقت جمع ہے۔ ڈیٹا ہی کی تجارت تھی جس کی ہلاکت خیزی کے نتیجے ہم نے لبنان کے پیجر دھماکوں اور حالیہ جنگ میں ایران کے اعلی لیڈروں پرجان لیوا حملوں کی شکل میں دیکھے۔ عالمی امن شدید خطرے میں ہے۔ زوبوف کی کتاب ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو نجات دہندہ سمجھنے سے پہلے یہ سوال ضروری ہے: کیا ہم سہولت کے بدلے اپنی خودمختاری تو نہیں بیچ رہے؟ مصنفہ نے ۲۰۱۹ء میں یہ کتاب شائع کروائی اور زیادہ تر کنٹرول کے نفسیاتی، معاشی اورسماجی اثرات کا احاطہ کیا۔ انھوں اگلے مرحلے یعنی حکومتی جبر کی جانب بھی اشارہ کیا۔ 
اپنے وطن میں آج
ہمارے ملک کے تناظر میں سوچا جائے تو شوشانہ کی تنبیہ اور بھی معنی خیز ہو جاتی ہے۔ ہندوستان میں ڈیجیٹل انڈیا، آدھار اور بائیومیٹرک ڈیٹا نے بڑے پیمانے پر سہولتیں تو فراہم کیں پرساتھ ساتھ نگرانی کے خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیٹا تحفظ کے کمزور قوانین ایک نازک صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ ادارے دباؤ میں ہیں۔ ایسے میں اگر ڈیٹا، ریاست اور کارپوریٹ مفادات کے درمیان بلا روک ٹوک گردش کرتا رہا تو شہری آزادی مزید سکڑ سکتی ہے۔ چند برسوں قبل حزب مخالف اور حقوق انسانی کارکنوں کی جاسوسی کیلئے سرکار کے ذریعہ پیگاسس جیسے سافٹ ویئر کے مبینہ استعمال کا معاملہ اٹھا تھا۔ حکومت نے انکار کیا تھا لیکن آخر وہ کس کس معاملے کی تردید کرے گی؟ گزشتہ ماہ جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے دوران چہروں کی شناخت کرنیوالے مخصوص کیمروں کے ذریعہ فوٹو گرافی پر دہلی ہائیکورٹ نے پولیس کو پھٹکار لگائی تھی۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی اٹھا۔ ایسے کیمروں کے معنی یہ ہیں کہ ایک سافٹ ویئر کسی ڈیٹا بینک میں آپ کی تصویر سے موازنہ کرکے آپکا نام، موبائیل نمبر بلکہ آپ کا اس وقت کا حقیقی مقام تک ایجنسیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ ٹھیک ہے، ان کیمروں ذریعے سماج مخالف عناصر، بدمعاشوں اور دہشت گردوں وغیرہ کو قابو میں لایا جاسکتا ہے لیکن سنگ وخشت مقید ہیں اور سگ آزاد ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسی ٹیکنالوجی کو عوام کے پرامن طبقے کے خلاف بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسا طبقہ جو حکومت سے اختلاف رکھتا ہو، آئینی حق کے تحت احتجاج کر رہا ہو، کچھ لکھ رہا ہو کچھ بول رہا ہو، زیر عتاب آجاتا ہے۔ اس تناؤ کے پیش نظر، ڈیٹا تحفظ کے قوانین، عدالتی نگرانی اور شفاف پالیسیوں کی اہمیت دُگنی، سہ گنہ بلکہ چہارگنی ہو جاتی ہے تاکہ نگہ داری کا نظام جبر کے بجائے صارفین و شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بنے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK