• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دماغی نکسل‘‘ اور اربن نکسل جیسے بیانات اور فلم ’بڈھا اِن ٹریفک جام‘ کا تعلق

Updated: September 02, 2026, 9:34 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ایک دہائی قبل ریلیز ہونے والی یہ فلم کب آئی اور کب گئی کسی کو معلوم نہیں تھا لیکن اس میں پیش کئے گئے خیالات کہیں نہ کہیں بی جے پی لیڈروں کے بیانات میں حاوی نظر آتے ہیں۔

Anupam Kher plays the role of Professor Batki in the film `Buddha in Traffic Jam`. Photo: INN
فلم ’بدھا ان ٹریفک جام‘ میں انوپم کھیر نے پروفیسر بٹکی کا کردار نبھایا ہے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی سیاست میں الفاظ کبھی کبھی صرف الفاظ نہیں رہتے۔ و ہ سیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں۔ ’’نکسل‘‘ ایک زمانے میں جنگلوں میں بندوق اٹھائے مسلح باغی کے لئےبولا جاتا تھا۔ پھر ’’اربن نکسل‘‘ آیا، جس نے اس دائرے کو شہروں، یونیورسٹیوں، دانشوروں اور کارکنوں تک پھیلا دیا۔ اب وزیراعظم مودی نے ۱۵؍ اگست کو لال قلعے سے ’’دماغی نکسل‘‘ کی اصطلاح استعمال کرکے اس تصور کو ایک اور قدم آگے بڑھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح نکسل ازم تقریباً ختم ہوچکا ہے لیکن ’’دماغی نکسل‘‘ اب بھی موجود ہیں اور انہیں شناخت کرکے الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ مودی نے کیا کہا۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی زبان کہاں سے آئی، اس کا بیانیہ کیسے تیار ہوا؟ اور کیسے اس کی زمین ہموار ہوئی؟ اسی تناظر میں وویک اگنی ہوتری کی۲۰۱۶ءکی فلم ’’بدھا اِن ٹریفک جام‘‘ کو دیکھنا خاصا معنی خیز ہوجاتا ہے۔ یاد رہے کہ وویک اگنی ہوتری وہی فلمساز ہیں جو کشمیر فائلز، بنگال فائلز اور تاشقند فائلز جیسی پروپیگنڈہ فلمیں بناچکے ہیں۔ یہ کہنا شاید درست نہ ہوگا کہ مودی کا ’’دماغی نکسل‘‘ براہ راست اگنی ہوتری کی فلم سے نکلا ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایک واضح بیانیاتی مماثلت ہے، مسلح نکسل جنگل میں ہے، مگر اس کی اصل طاقت اس نظریے میں ہے جو شہری معاشرے، یونیورسٹیوں اور دانشورانہ حلقوں میں پھیلایا جارہا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جسے ’’اربن نکسل‘‘ کی اصطلاح نے سیاسی مقبولیت دی اور جسے ’’دماغی نکسل‘‘ اب ذہن اور نظریے کی سطح تک لے جاتا ہے۔ 
’’بدھا اِن ٹریفک جام‘‘ ۲۰۱۶ءمیں ریلیز ہوئی تھی۔ فلم میں ارونودے سنگھ نے مینجمنٹ کے طالب علم وکرم پنڈت کا کردار ادا کیا، جبکہ انوپم کھیر نے پروفیسر بٹکی کا کردار ادا کیا۔ بٹکی ایک بااثر استاد ہے جو اپنے طالب علم کو سماجی اور سیاسی تبدیلی کے منصوبے کی طرف لے جاتا ہے۔ کہانی میں قبائلی علاقوں کی غربت، نکسل ازم، سیاست، سرمایہ داری، یونیورسٹی اور نظریاتی کشمکش کو آپس میں اس طرح سے گڈمڈ کیا گیا تھا کہ پوری فلم دائیں بازو کا زبردست پروپیگنڈہ محسوس ہوتی ہے۔ یہاں ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ انوپم کھیر کا کردار خود لفظی یا قانونی معنوں میں ’’اربن نکسل‘‘ نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے دانشور پروفیسر کا کردار ہےجو فلم کے نظریاتی بیانیے کا مرکزی ذریعہ ہے۔ البتہ فلم شہری دانشور طبقے کو جس انداز میں نکسل نظریے کے ممکنہ اڈے کے طور پر پیش کرتی ہے، وہ قابل اعتراض بھی ہے اور اسی وجہ سے بٹکی کا کردار بعد میں ’’اربن نکسل‘‘ کے وسیع تر سیاسی تصور کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ فلم کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ نکسل ازم پر تنقید کرتی ہے۔ کسی بھی فلم ساز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماؤ ازم، تشدد یا ریاست مخالف مسلح تحریک کو موضوع بنائے اور اس پر سخت موقف اختیار کرے۔ 
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب پیچیدہ سیاسی اور سماجی حقیقت کو پہلے سے طے شدہ اچھے اور برے کرداروں میں تقسیم کرکے پیش کیا جائے اور پھر اسے حقیقت کا مکمل تجزیہ سمجھا جائے بلکہ اسے ہی حقیقت قرار دینے کی کوشش کی جائے۔ ’’بدھا اِن ٹریفک جام‘‘ کے بارے میں اس وقت کے کئی فلمی ناقدین نے بھی اسی مسئلے کی نشاندہی کی تھی۔ ہندوستان ٹائمز کے فلم نقاد سرت رے نے اسے ’’سینما کے بھیس میں پروپیگنڈہ‘‘ قرار دیا اور لکھا کہ فلم میں نکسل ازم کو حکومت، دانشور طبقے، تعلیمی اداروں اور مالیاتی اداروں تک پھیلے ہوئے ایک وسیع نیٹ ورک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ’’کوئی موئی ‘‘ کی تنقید نے بھی فلم کے مواد کو ’’پروپیگنڈسٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں معروضیت کے بجائے ایک مخصوص ذہنیت فروخت کرنے کی کوشش نمایاں ہے۔ یہ تنقید محض اس لئے اہم نہیں کہ کسی فلمی نقاد نے فلم کو پسند نہیں کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ فلم کی ساخت ہی ایسی ہے جس میں ناظرین کو سوال قائم کرنے کی مہلت دینے کے بجائے ایک مخصوص نتیجے تک پہنچایا جاتا ہے۔ فلم میں نکسل ازم ایک پیچیدہ تاریخی، اقتصادی اور سیاسی مسئلہ نہیں رہتا وہ ایک ایسی سازش بن جاتا ہے جو معاشرے کے مختلف اداروں میں داخل ہوچکی ہے۔ یوں ناظرین کو یہ سوچنے کا موقع کم ملتا ہے کہ قبائلی محرومی کیوں پیدا ہوئی، ریاستی پالیسیوں نے کیا کردار ادا کیا؟ مسلح نکسل تحریک کی تاریخی جڑیں کیا ہیں ؟ یا مختلف بائیں بازو کی تحریکوں میں کیا فرق ہے۔ اس کے بجائے ایک سادہ سا پیغام سامنے آتا ہے’’مسئلہ ان لوگوں کا ہےجو پردے کے پیچھے بیٹھ کر نوجوانوں کے ذہن خراب کررہے ہیں۔ یہی پروپیگنڈے کی بنیادی تکنیکوں میں سے ایک ہے، پیچیدہ حقیقت کو ایک آسان دشمن میں تبدیل کردینا۔

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات کا موضوع: گھاٹ کوپر سانحہ، ڈرائیورز کا مراٹھی جاننا اور جین زی

۲۰۱۸ءمیں ’’اربن نکسل‘‘ کی اصطلاح قومی سیاست میں زیادہ نمایاں ہوئی تھی خصوصاً بھیما کوریگاؤں اور یلغار پریشد سے متعلق پولیس کارروائیوں کے بعد۔ بعد میں بی جے پی نے اس اصطلاح کو سیاسی زبان میں باقاعدگی سے استعمال کیا۔ ۲۰۱۸ء میں خود مودی نے چھتیس گڑھ کے ایک انتخابی جلسے میں ’’اربن نکسل‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ شہر کے آرام دہ گھروں میں رہنے والے لوگ قبائلی نوجوانوں کو ریموٹ کنٹرول کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگل میں بندوق اٹھائے شخص کو شناخت کرنا نسبتاً آسان ہے۔ لیکن ’’اربن نکسل‘‘ کون ہے؟ وہ یونیورسٹی کا استاد ہوسکتا ہے، طالب علم ہوسکتا ہے، وکیل، صحافی، شاعر، کارکن یا حکومت کا ناقد بھی۔ پھر ’’دماغی نکسل‘‘ اس دائرے کو اور وسیع کردیتا ہے: اب کسی کے ہاتھ میں بندوق یا کسی مسلح تنظیم سے تعلق کا ثبوت بھی ضروری نہیں، اس کا ’’ذہن‘‘ اور اس کے نظریات ہی موضوع بحث بنادئیے جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی اصطلاح خطرناک حد تک مبہم ہوجاتی ہے اور اس کے دائرے میں اختلاف رائے رکھنے والے بھی آجاتے ہیں۔ 
کانگریس کے جے رام رمیش نے مودی کے حالیہ بیان پر یہی سوال اٹھایا کہ’دماغی نکسل‘ کا مطلب کیا ہے اور اس کی کوئی واضح تعریف کہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ’اربن نکسل‘ کوئی باقاعدہ قانونی کیٹیگری نہیں ہے۔ یہاں وویک اگنی ہوتری کی فلم کا اصل سیاسی مطالعہ شروع ہوتا ہے۔ فلم نے ایک ایسی دنیا تخلیق کی جس میں نظریہ خود ایک خطرہ ہے۔ یونیورسٹی صرف تعلیم کی جگہ نہیں بلکہ ذہن سازی کی جگہ ہے ۔ یہ ایک نہایت طاقتور سیاسی فریم ہے کیونکہ اس میں دشمن کی سرحد مستقل طور پر پھیلائی جاسکتی ہےلیکن یہی اس کا سب سے بڑا خطرہ بھی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں حکومت سے اختلاف کوئی جرم نہیں ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا، قبائلی حقوق کی حمایت کرنا، پولیس کارروائی پر سوال اٹھانا، سرمایہ داری کے خلاف مضمون لکھنا یا کسی احتجاج میں شرکت کرنا اپنے آپ میں مسلح کارروائیوں کی حمایت نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ’’اربن نکسل‘‘ اور ’’دماغی نکسل‘‘ جیسے الفاظ ان دونوں دائروں کے درمیان فرق دھندلا سکتے ہیں۔ یہیں پروپیگنڈہ سیاست کا کردار شروع ہوتا ہے۔ جب کسی سیاسی مخالف کو ’’اربن نکسل‘‘، ’’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘‘ یا ’’دماغی نکسل‘‘ کہا جاتا ہے تو بحث اس کے اصل موقف سے ہٹ کر اس کی شناخت پر منتقل ہوجاتی ہے۔ اب یہ سوال نہیں رہتا کہ اس شخص نے کیا کہا؛ سوال یہ بن جاتا ہے کہ یہ شخص ’’کون‘‘ ہے۔ یہ سیاست میں انتہائی مؤثر لیکن خطرناک تکنیک ہے۔ مودی کے حالیہ بیان میں یہی تکنیک زیادہ واضح شکل میں نظر آتی ہے۔ وزیراعظم نے ایک طرف مسلح نکسل ازم کے خلاف اپنی حکومت کی کامیابی کو نمایاں کیا اور دوسری طرف کہا کہ ’’دماغی نکسل‘‘ اب بھی موجود ہیں اور انہیں شناخت کرکے الگ تھلگ کرنا ہوگا۔ اگر مسلح نکسل ازم کم ہوگیا ہے تو پھر حکومت کو ایک نیا دشمن درکار ہے تاکہ ’’جنگ‘‘ کا بیانیہ جاری رہے۔ ’’دماغی نکسل‘‘ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہاں تنقید کا اصل نکتہ یہی ہونا چاہئے، کیا قومی سلامتی کے ایک حقیقی مسئلے کو سیاسی نظریاتی دشمن کی تلاش میں تبدیل کیا جارہا ہے؟اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر مسئلہ نکسل ازم سے زیادہ بڑا ہوجاتا ہے کیونکہ اس کا دائرہ مسلح تنظیم سے نکل کر معاشرے کے ذہن تک پہنچ جاتا ہے۔ یہاں ’’پروپیگنڈہ‘‘ کی ایک عام غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے۔ پروپیگنڈہ لازماً جھوٹ نہیں ہوتا۔ ایک فلم یا سیاسی تقریر میں بیان کیا گیا ہر واقعہ درست بھی ہوسکتا ہے لیکن اگر حقائق کو اس طرح منتخب، ترتیب اور جذباتی رنگ دیا جائے کہ ناظر ین صرف ایک خاص نتیجے تک پہنچیں تو وہ پروپیگنڈےکہلاتا ہے۔ ’’بدھا اِن ٹریفک جام‘‘ کی تنقید اسی زاویے سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ فلم کا یہ کہنا کہ نکسل ازم ایک خطرہ ہے، بذات خود پروپیگنڈہ ہےنہیں لیکن جب وہ نکسل ازم کی پیچیدہ سماجی تاریخ کو ایک وسیع ’’اندرونی سازش‘‘ کے قالب میں ڈھالتی ہے اور کرداروں کو زیادہ تر دو خانوں میں تقسیم کردیتی ہے تو فلم دلیل کے بجائے ذہنی سمت متعین کرنے لگتی ہے اور شاید اس پورے معاملے کا سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا حکومت کو نکسل ازم کے خلاف لڑنا ہے، یا نکسل ازم کے نام پر ایک ایسا خیالی دشمن تخلیق کرنا ہے جس کے خلاف جنگ کبھی ختم نہ ہو؟پہلا کام ریاست کی ذمہ داری ہے۔ دوسرا پروپیگنڈے کی سیاست۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK