• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: Digital Ghost: فوت شدہ فردکی ’شخصیت‘ کا مالک کون ہوگا؟

Updated: September 02, 2026, 9:34 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

مارچ ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کے ایک امیر تاجر نے اپنے مرحوم والد کا اے آئی ویڈیو بنوایا جو شادی کی تقریب میں دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں وہ جوڑے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔

In today`s era, emotions are the raw material, technology is the craftsman, and digital memories are the product. Photo: INN
دورِ حاضر میں جذبات خام مال ہیں، ٹیکنالوجی کاریگر ہے اور ڈجیٹل یادگار مصنوع۔ تصویر: آئی این این

کبھی وراثت میں لواحقین کو مکان، زمین، زیور اور بینک اکاؤنٹ منتقل ہوتے تھے۔ اب تصور کیجئے کہ ان کے ساتھ کسی شخص کی آواز، تصاویر، ویڈیوز، پیغامات اور گفتگو کے انداز بھی اگلی نسل تک پہنچ جائیں، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ان سب سے ایسی ڈجیٹل شخصیت بنا دے جو نئی باتیں بھی کر سکے۔ ’’یادوں ‘‘ اور مشین کے درمیان یہ نیا رشتہ اب سائنس فکشن نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ مرنے کے بعد آپ کے چہرے، آواز اور شخصیت کا مالک کون ہوگا؟ اے آئی نے کسی انسان کی موجودگی کو اس کی زندگی سے آگے لے جانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اسے ’’ڈجیٹل گھوسٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کوئی بھوت نہیں بلکہ فوت ہوجانے والی شخصیت کا ڈجیٹل اوتار ہے جو اپنی اصل آواز اور انداز میں بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 
مارچ میں ہالی ووڈ کے آنجہانی اداکار ویل کلمر کو فلمAs Deep as the Grave میں جنریٹو اے آئی کے ذریعے دوبارہ پیش کیا گیا۔ ان کا انتقال ۲۰۲۵ء میں ہوا تھا۔ انہوں نے فلم کی شوٹنگ نہیں کی مگر فلمسازوں نے ان کے خاندان کی رضا مندی سے ان کا ڈجیٹل اوتار تیار کیا اور یوں وہ فلم کا حصہ بن گئے۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا مظاہرہ نہیں، مستقبل کی فلمی معیشت کا ایک نمونہ بھی ہے۔ 
مارچ ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کے ایک امیر تاجر نے اپنے مرحوم والد کا اے آئی ویڈیو بنوایا جو شادی کی تقریب میں دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں وہ جوڑے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر موقع پر موجود سبھی افراد جذباتی ہوگئے۔ جب یہ ویڈیو وائرل ہوا تو انٹرنیٹ صارفین بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے۔ درجنوں تصاویر کی مدد سے تیار ایک منٹ کے ویڈیو کیلئے مقامی تخلیق کار کو تاجر نے تقریباً ۵۰؍ ہزار روپے ادا کئے تھے۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ ڈجیٹل وراثت پہلے ہی ایک حقیقی مارکیٹ بن چکی ہے اور اب اس رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔ کسی خاندان کو مرحوم کی آواز میں سالگرہ کا پیغام چاہئے، کسی کو شادی میں دادا کی دعاؤں کی آرزو ہے، اور کسی کو پرانی خاندانی کہانیوں سے بات چیت کرنے والا چیٹ بوٹ بنانا ہے۔ جنوبی کوریا میں ایسی خدمات کیلئے کمپنیاں تصاویر اور آوازوں سے متوفی کے ویڈیوز تیار کر رہی ہیں ؛ اور صارفین انہیں آخری یادگار کے طور پر خرید رہے ہیں۔ یہاں جذبات خام مال ہیں، ٹیکنالوجی کاریگر ہے اور ڈجیٹل یادگار مصنوع (پروڈکٹ)۔

یہ بھی پڑھئے: جب Logo صرف ’لوگو‘ نہ رہے، کہانیوں کیلئے بدلے، کہانیاں سنائے

کاروباری امکان اس سے کہیں بڑا ہے۔ اداکار کی آواز اشتہار میں استعمال ہو سکتی ہے، چہرہ فلم یا گیم میں، موسیقار کی آواز نئی تخلیقات میں اور کسی مشہور شخصیت کی ڈجیٹل شخصیت برانڈ مہم میں۔ نتیجتاً لائسنسنگ، رائلٹی، ڈیٹا اسٹوریج، شناخت کی تصدیق اور اجازت کے انتظام کا نیا کاروبار پیدا ہو رہا ہے۔ خاندانی یاد آج تجارتی اثاثہ بن سکتی ہے، مگر یہیں سے اصل پیچیدگی شروع ہوتی ہے۔ اگر کسی مرحوم فنکار کی ڈجیٹل نقل ایک فلم سے کروڑوں کمائے تو رقم کس کو ملے گی؟ خاندان کو، اسٹیٹ کو، اسٹوڈیو کو یا اے آئی کمپنی کو؟ اگر زندگی میں اس شخص نے ایسی نقل بنانے کی اجازت نہیں دی تھی تو مرنے کے بعد فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر وارث آپس میں متفق نہ ہوں تو ڈجیٹل شخصیت کس کی سمجھی جائے گی؟
قانون، ٹیکنالوجی کی رفتار سے قدم نہیں ملا پارہا ہے۔ کیلیفورنیا کے نئے قانون میں مرحوم کی آواز، مشابہت اور تصاویر کی ڈجیٹل نقل پر بعض حالات میں کم از کم ۱۰؍ ہزار ڈالر یا حقیقی نقصان، جو زیادہ ہو، کے برابر ہرجانے کی گنجائش ہے۔ ہمارے ملک میں بھی عدالتیں شخصیت کے تجارتی حقوق کو واضح طور پر تسلیم کر رہی ہیں۔ اس سال بالی ووڈ کی درجنوں شخصیات نے اپنی شخصیت کے قانونی حقوق محفوظ کروائے ہیں۔ عام آدمی کیلئے اس کا کیا مطلب ہے؟ 
آپ کے فون میں موجود ۳؍ ہزار تصاویر اور سیکڑوں وائس نوٹس آج شاید صرف یادیں ہیں۔ کل یہی مواد کسی ڈجیٹل شخصیت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسی لئے مستقبل کی وصیت میں صرف مکان اور بینک اکاؤنٹ کا ذکر کافی نہیں ہوگا۔ ممکن ہے لکھنا پڑے کہ میری آواز کون استعمال کر سکتا ہے، میرا چہرہ کہاں دکھایا جا سکتا ہے اور میری ڈجیٹل شخصیت سے جو آمدنی ہوگی وہ کس کو ملے گی۔ 
یہیں اے آئی کی نئی معیشت کا اصل سوال کھڑا ہوتا ہے: انسان مر سکتا ہے، اس کی شناخت نہیں۔ 
جب چہرہ، آواز اور شخصیت قابلِ تخلیق، قابلِ لائسنس اور قابلِ فروخت بن جائیں تو موت کے بعد بھی ایک معاشی اثاثہ زندہ رہ سکتا ہے۔ اگلی نسل کو وراثت میں شاید صرف مکان کی چابی نہیں ملے گی؛ اسے ایسی ڈجیٹل شناخت بھی مل سکتی ہے جس کی قیمت یادوں سے زیادہ اور قانونی پیچیدگیاں جائیداد سے بھی زیادہ ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK