• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوسمرتی کی پول کھلنے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں

Updated: September 30, 2026, 9:20 PM IST | Amitabh Dube | Mumbai

کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی جانب سے خواتین کی آزادی اور ذات پات پر مبنی سوچ کے خلاف دیے گئے حالیہ بیانات کے بعد منوسمرتی ایک بار پھر سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ مضمون میں منوسمرتی کے تاریخی اثرات، ذات پات کے نظام اور خواتین کی سماجی حیثیت کے حوالے سے اس کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

۲۲؍ اگست کو پونے میں ایک تقریب کے دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی طرف سے خواتین پر ’پدرانہ نظام کو توڑنے‘ اور’منوسمرتی طرز کی سوچ‘ کو مسترد کرنے کے بعد منوسمرتی ایک بار پھر سے روشنی میں آ گئی ہے۔ ایک ہفتے بعد، انہوں نے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی تقریر کے بعد اس جگہ کی ہونے والی ’شدھی کرن‘ کی رسم کی مذمت کرنے کیلئے ایک پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ ایسا اسلئے ہوا کہ کھرگے دلت ہیں۔بی جے پی،آر ایس ایس نے فوری طور پر اپنے منوادی بیانیہ کی توثیق بھی کردی۔ جے پی نڈا کی بادل ناخواستہ معافی کے باوجود، بی جے پی کے سینئر لیڈروں نے بھرپور طریقے سے تقریب کا دفاع کیا۔ حد یہ کہ ایف آئی آر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ راہل گاندھی کے خلاف درج کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: Pinterest Mood Board قائم کر رہا ہے آج کا بزنس ماڈل

یہ سب اسلئے ہو رہا ہے کہ گاندھی نے نوجوان خواتین سے اپنی تقریر میں کھل کر اظہار کیا جو عام طور پر کھل کر نہیں بولا جاتا۔ انہوں نے خواتین کے تجربات کو ایک ذہنیت اور روایت سے جوڑ دیا جو ان کے جبر اور محکومی کا جواز پیش کرتی ہے۔قانون اور اخلاقیات پر تقریباً۲؍ہزار سال پرانی تحریر مانوسمرتی کو آج شاید بڑے پیمانے پر نہیں پڑھا جاتا ہے، لیکن اس کی درجہ بندی کی سوچ ہمارے معاشرے کی ساخت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ واٹس ایپ پر علم بگھارنے والے اور دباؤ بنانے خاندانوں کی عام سوچ بن گئی ہے۔ یہ انسانوں کو پیدائش ہی سے ایک درجہ بندی میں رکھتا ہے، ہر ذات کیلئے الگ الگ قوانین اور سزاؤں کا تعین کرتا ہے۔ متن کے مطابق، شودر، اتی شودر اور عورتیں برہمنوں، کشتریوں اور ویشیوں کی خدمت کیلئے پیدا ہوئے ہیں۔یہ دلتوں کو معاشرے سے خارج کرتا ہے، اور ان کی حیثیت کو کتوں اور دوسرے جانوروں کے مقابلے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ انہیں دیہات سے باہر رہنے اور مرنے والوں کے کپڑے پہننےکے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک برہمن کسی اور برہمن کو غلام نہیں بنا سکتا، لیکن وہ ایک شودر کو غلام بنا سکتا ہے۔ اسے قواعد و ضوابط کی کتاب مانا جاتا ہے۔ ایسے میںتعجب کی کوئی بات نہیں کہ یہ ذات مخالف تحریک میں طویل عرصے سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ تقریباً سو سال پہلے مہاڈ ستیہ گرہ کے دوسرے اجلاس میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی موجودگی میں منوسمرتی کو علامتی طور پر جلا یا گیا تھا۔راہل گاندھی نے ایک بار پھر منوسمرتی کی خامیوں کا انکشاف کرکے بی جے پی ا ور آر ایس ایس کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔

اگر آزاد ہندوستان کے آئین اور جمہوری اداروں کو اس خیال پر بنایا گیا ہے کہ تمام ہندوستانیوں کو یکساں سیاسی قدر حاصل ہے، تو منوسمرتی اس کی مخالفت میں کھڑی ہے، اس خیال کو صدیوں کی سماجی طاقت کی حمایت حاصل ہے۔۱۹۴۹ء میں، آر ایس ایس کے ترجمان، آرگنائزر نے اعلان کیا کہ ’’ہندوستانی آئین میں کچھ بھی ہندوستانی نہیں ہے‘‘ اور شکایت کی کہ اس نے منوسمرتی کو نظر انداز کیا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ کے باہر قانون ساز منو کا مجسمہ اس بات کی یاددہانی کرتا ہے کہ آئین کے وعدوں کے باوجود، یہ گہرا سماجی نظام برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نوجوانوں میں رفتار، مہنگی اسپورٹس بائیک اور اس پر نمائش کا بڑھتا ہوا خبط

کچھ دائیں بازو کی آوازیں اب منوسمرتی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا یہ کہتی ہیں کہ اسے ’اس کے وقت کے تناظر میں‘ دیکھا جانا چاہیے، لیکن آئیے موجودہ تناظر پر غور کریں۔ آج کل بورڈ رومز، یونیورسٹیوں، فوج اور صفائی کی نوکریوں میں کون سے سماجی گروہ کن عہدوں پر فائز ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ ذات پات کی مردم شماری کا امکان انہیں اتنا پریشان کر رہا ہے، اور مودی حکومت اسے روکنے کی شدت سے کوشش کر رہی ہے۔ اعداد و شمار ہمارے معاشرے میں طاقت کی حقیقی تقسیم کو ظاہر کرے گا۔

خواتین اس سماجی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ وہ خاندان اور نسب کے تسلسل کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منوسمرتی خواتین کو پابند سلاسل رکھنےکیلئے ایک قسم کی اصولی کتاب کے طور پر کام کرتی ہے اور وہ بھی سیکوریٹی کے نام پر ہے۔خواتین کی آزادی پورے سماجی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے اور حسب و نسب اور ذات کے تصور کو ختم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کا خواتین کیلئے سادہ پیغام تھا کہ ’’آپ خود کی ہیں‘‘۲۰۲۶ء میں بھی ایک اہم اور انقلابی بیان ہے۔منوسمرتی کی ’اچھی خواتین‘ اور ’برے کردار کی خواتین‘ کے درمیان فرق خواتین کے خلاف تشدد کے قدامت پسند ردعمل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ۲۰۱۳ء کے دہلی گینگ ریپ پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا ردعمل ملاحظہ کریں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’اس طرح کے جرائم ’بھارت‘ میں شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، لیکن ’انڈیا‘میں اکثر ہوتے ہیں۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو خواتین روایتی کرداروں کے مطابق نہیں ہیں یا اپنی مقررہ حدود کے مطابق ہونے سے انکار کرتی ہیں وہ کسی نہ کسی طرح جنسی تشدد کو دعوت دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شعبدہ بازی کی سرکار: جو ترقی کاغذوں پر ہے وہ زمین پر دکھائی کیوں نہیں دیتی؟

حالیہ رکشا بندھن کے اشتہار میں ایک اداکارہ کے لباس پر دائیں بازو کے گروہوں کے غصے پر غور کریں۔ منوسمرتی کی سوچ میں عورت قدرتی طور پر اپنی سوچ کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور کسی بھی موقع پر اپنی پسند کے کپڑے بھی نہیں پہن سکتی۔ اسے یا تو خاندانی عزت کی علامت بننا چاہئے یا پھر بے کردار ہونے کا طعنہ لے کر شرمندہ ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK