گزشتہ دنوں مشہور یوٹیوبرآس محمد (آشو، یوکے رائیڈر) ایک سڑک حادثے میں فوت ہو گئے، موت سے کچھ گھنٹے قبل ہی انہوں نے۲۲؍ لاکھ روپے کی مہنگی اسپورٹس بائیک خریدی تھی۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 9:08 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
گزشتہ دنوں مشہور یوٹیوبرآس محمد (آشو، یوکے رائیڈر) ایک سڑک حادثے میں فوت ہو گئے، موت سے کچھ گھنٹے قبل ہی انہوں نے۲۲؍ لاکھ روپے کی مہنگی اسپورٹس بائیک خریدی تھی۔
رفتار ہمیشہ سے انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہے۔ تیز دوڑتی گاڑی، گرجتی ہوئی موٹر سائیکل، ہوا کو چیرتی ہوئی بائیک اور سڑک پر بجلی کی طرح گزرتا ہوا کوئی نوجوانیہ مناظر دیکھنے والوں کے دل میں ایک عجیب سا جوش پیدا کرتے ہیں۔ نوجوانوں میں خاص طور پر طاقتور انجن، جدید ڈیزائن اور تیز رفتار موٹر سائیکلوں کا شوق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہی رفتار جب شوق سے جنون اور جنون سے خطرہ بن جائے تو چند سیکنڈ پوری زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں سپر بائیکس اور تیز رفتاری کا کریز صرف ایک مشغلے تک محدود نہیں رہا بلکہ بہت سے نوجوانوں کے لئے یہ اپنی شناخت بنانے، شہرت حاصل کرنے اور دوسروں پر اپنی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔مہنگی اور طاقتور بائیک کا شوق اپنی جگہ لیکن اس شوق کے ساتھ احتیاط اور ذمہ داری کا نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسی بائیک کو صرف سفر کے لئے استعمال کرنے کے بجائے ان کی رفتار اور طاقت کا مظاہرہ سڑکوں پر کرنا چاہتا ہے۔ کسی کے لیے بائیک پر انتہائی تیز رفتاری ہی کامیابی ہے، کوئی ٹریفک کے درمیان خطرناک انداز میں رائیڈنگ کو اپنی مہارت سمجھتا ہے اور کوئی موبائل کیمرے کے سامنے ایسے اسٹنٹ کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے جن میں معمولی سی غلطی جان لے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شعبدہ بازی کی سرکار: جو ترقی کاغذوں پر ہے وہ زمین پر دکھائی کیوں نہیں دیتی؟
حال ہی میں اتراکھنڈ کے دہرادون کے سہسپور علاقے میں پیش آنے والا یوٹیوبر آس محمد عرف ’’آشو یو کے رائیڈر‘‘ کا حادثہ اسی خطرناک رجحان کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ محض ۲۵؍ برس کی عمر میں آشو کی ایک سڑک حادثے میں موت ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے حادثے سے ایک روز قبل ہی تقریباً ۲۲؍ لاکھ روپے کی نئی سپربائیک خریدی تھی۔ نئی موٹر سائیکل کی ڈلیوری لینے کے بعد وہ دہرادون سے پاونٹا صاحب کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں ان کی بائیک بے قابو ہوکر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔
ابتدائی اطلاعات میں کسی نامعلوم گاڑی کی ٹکر کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے اور پولیس اس پہلو سمیت مختلف زاویوں سے تحقیقات کررہی ہے۔حادثہ کتنا شدید تھا، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آشو نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا اور حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے تفتیش شروع کردی۔ اگر نامعلوم گاڑی کی ٹکر کا امکان درست ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ مزید سنگین ہوجاتا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں ایک سوار کی احتیاط کے باوجود دوسرے شخص کی لاپروائی بھی اس کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔آشو سوشل میڈیا پر ’’یو کے رائیڈر‘‘ کے نام سے معروف تھے۔ وہ مہنگی اور اسپورٹس بائیک پر رائیڈنگ کے ویڈیوز اور وی لاگز بناتے تھے اور نوجوانوں میں خاصے مقبول تھے۔ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بڑی تعداد میں فالوورس تھے۔ یوں ان کا حادثہ صرف ایک نوجوان کی موت کا واقعہ نہیں بلکہ اس بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ آخر ہمارے نوجوان رفتار اور سپر بائیک کی طرف اس قدر تیزی سے کیوں متوجہ ہورہے ہیں؟
یہ بھی پڑھئے: اب توجنگل راج کی اصطلاح بھی بے حقیقت ہو گئی ہے
سپر بائیک اپنے آپ میں کوئی بری چیز نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، طاقتور انجن، خوب صورت ڈیزائن اور بہترین انجینئرنگ موٹر سائیکلوں کو ایک دلچسپ مشین بناتے ہیں۔ مسئلہ مشین میں نہیں، اس کے استعمال کے انداز میں ہے۔ ایک ایسی موٹر سائیکل جو مخصوص حالات، مخصوص سڑکوں اور تربیت یافتہ سوار کے لئے بنائی گئی ہو، اگر اسے عام سڑک پر اپنی صلاحیت دکھانے، ریس لگانے یا سوشل میڈیا پر سنسنی خیز ویڈیو بنانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی مشین موت کا سبب بن سکتی ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نوجوان مشین کی طاقت کو اپنی مہارت سمجھنے لگتا ہے۔ چند سیکنڈ میں رفتار بڑھا دینا آسان ہے، لیکن اسی رفتار پر اچانک سامنے آنے والی رکاوٹ کے وقت بائیک کو قابو میں رکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ سڑک پر حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ سامنے سے آنے والی گاڑی، سڑک عبور کرتا ہوا کوئی شخص، اچانک سامنے آنے والا جانور، خراب سڑک، ریت یا بجری، معمولی سا گڑھا، موسمی حالات یا کسی دوسرے ڈرائیور کی ایک غلطیان میں سے کوئی بھی چیز تیز رفتار بائیک سوار کے لئےچند لمحوں میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔بعض نوجوانوں میں یہ تصور بھی تیزی سے فروغ پارہا ہے کہ طاقتور بائیک اور خطرناک رائیڈنگ شخصیت کو ’’کوُل‘‘ اور بااثر بناتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جب کسی نوجوان کی ویڈیو پر لاکھوں ویوز آتے ہیں، لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس کے فالوورس بڑھتے ہیں تو اسے یہ احساس ہوسکتا ہے کہ خطرہ مول لینا ہی مقبولیت حاصل کرنے کا آسان راستہ ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھنے والے لوگ حادثے کے بعد گھر میں ہونے والی تباہی نہیں دیکھتے۔ انہیں صرف چند سیکنڈ کی ویڈیو نظر آتی ہے، جبکہ ایک حادثے کے بعد خاندان برسوں تک اس کے اثرات برداشت کرتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں تفریح اور خطرے کے درمیان لکیر مٹنے لگتی ہے۔سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دنیا کے سامنے رکھنے کا ایک شاندار پلیٹ فارم دیا ہے۔ آج ایک نوجوان اپنے گھر کے کمرے سے تعلیم، فن، کاروبار، کھیل، ٹیکنالوجی یا تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے دنیا بھر میں پہچان بنا سکتا ہے۔ لیکن اسی پلیٹ فارم نے ’’وائرل ہونے‘‘ کی خواہش بھی پیدا کی ہے۔ بعض اوقات نوجوان یہ بھول جاتے ہیں کہ چند سو لائکس یا چند ہزار ویوز ان کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہوسکتے۔
یہ بھی پڑھئے: گھر کچا تھا، دیواریں مٹی کی تھیں، چھت کمزور تھی، مگر یہی لوگوں کی دنیا ہوتی تھی
ایک خطرناک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شاید نوجوان کو شہرت مل جائے، لیکن اگر اسی ویڈیو کی تیاری کے دوران حادثہ ہوجائے تو اس شہرت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ ’’لوگوں کی توجہ حاصل کرنا‘‘ اور ’’لوگوں کے لیے مثال بننا‘‘ دو الگ چیزیں ہیں۔ وقتی توجہ خطرہ مول لے کر بھی حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن حقیقی عزت محنت، کردار اور صلاحیت سے حاصل ہوتی ہے۔سڑک کوئی ریس ٹریک نہیں ہوتی۔ وہاں صرف ایک سوار نہیں ہوتا بلکہ درجنوں، سیکڑوں لوگ سفر کررہے ہوتے ہیں۔ ہر شخص کی اپنی منزل اور اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایک نوجوان کی چند لمحوں کی تیز رفتاری دوسرے مسافروں کے لئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے سڑک پر احتیاط صرف اپنی زندگی بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ دوسروں کی زندگی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہے۔سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بعض نوجوان رفتار کو مردانگی، بہادری یا شخصیت کی علامت سمجھنے لگتے ہیں۔ جیسے جتنی تیز بائیک، اتنا بڑا رعب، جتنا خطرناک اسٹنٹ، اتنی زیادہ شہرت۔ یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے۔ اصل بہادری خطرہ مول لینے میں نہیں بلکہ خطرے کو سمجھنے اور اس سے بچنے میں ہے۔ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال دینا بہادری نہیں، غیر ضروری لاپروائی ہے۔یہاں والدین کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہوجاتی ہے۔ نوجوانوں کو صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ’’بائیک تیز مت چلاؤ‘‘۔ انہیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لئے اپنی توانائی اور صلاحیتوں کا درست استعمال ضروری ہے۔
اگر کسی نوجوان کو بائیک کا شوق ہے تو اس شوق کو ختم کرنے کے بجائے اسے محفوظ اور قانونی راستہ دیا جاسکتا ہے۔ اسے موٹر سائیکل کی ٹیکنالوجی، میکانیکل کام، موٹر اسپورٹس، فوٹوگرافی، ویڈیو پروڈکشن یا آٹوموبائل جرنلزم کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔اگر کسی نوجوان کو رفتار کا شوق ہے تو محفوظ اور قانونی ریسنگ ٹریک اس کے لیے بہتر جگہ ہوسکتی ہے۔ وہاں تربیت، حفاظتی انتظامات اور مخصوص قوانین کے ساتھ موٹر اسپورٹس کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔ عام سڑک پر تیز رفتاری کرکے خود کو اور دوسروں کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی صورت دانش مندی نہیں۔اسی طرح نوجوان اگر سوشل میڈیا پر مقبول ہونا چاہتے ہیں تو ان کے پاس بے شمار بہتر راستے موجود ہیں۔ وہ ٹیکنالوجی، تعلیم، کھیل، سفر، کاروبار، کتابوں، فن، موسیقی، فوٹوگرافی، فٹ نس، ماحولیات یا سماجی خدمت سے متعلق مواد بناسکتے ہیں۔ اپنی بائیک کے بارے میں بھی ایسا مواد بنایا جاسکتا ہے جس میں محفوظ رائیڈنگ، ٹریفک قوانین، بائیک کی دیکھ بھال اور سڑک پر ذمہ دارانہ رویے کا پیغام دیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ووٹرس کو رشوت اور ہندوستان کی تعلیمی زبوں حالی اخبارات کا موضوع رہی
درحقیقت آج ایسے مواد کی زیادہ ضرورت ہے جو نوجوانوں کو خطرہ مول لینے کے بجائے ذمہ داری کا احساس دلائے۔ اگر مقبول رائیڈرس اپنی شہرت کو سڑک کی حفاظت کے لئےاستعمال کریں تو وہ ہزاروں نوجوانوں پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ خطرناک رائیڈنگ اور غیر قانونی ریسنگ کے خلاف کارروائی کریں۔ اہم شاہراہوں پر نگرانی، ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد، رفتار کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور نوجوانوں میں روڈ سیفٹی کے حوالے سے مسلسل آگاہی مہم وقت کی ضرورت ہے۔ صرف حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے حادثے سے پہلے خطرات کو کم کرنا زیادہ اہم ہے۔نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی ’’ریس‘‘ نہیں ہے۔ ہر چیز دوسروں سے آگے نکلنے کا نام نہیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ انسان صحیح وقت پر بریک لگادے۔