• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

Pinterest Mood Board قائم کر رہا ہے آج کا بزنس ماڈل

Updated: September 30, 2026, 9:13 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

بنگلورو کے کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ’’گیٹ زی‘‘ بدلتے ہوئے صارف رویے اور تجربات پر مبنی معیشت کی ایک مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں لاؤنج کو محض انتظار گاہ کے بجائے کیفے، تفریح، ملاقات اور سوشل میڈیا کے تجربے سے جوڑا گیا ہے۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ آج صارف صرف مصنوعات یا خدمات نہیں بلکہ یادگار تجربہ بھی خریدنا چاہتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایئرپورٹلاؤنج کا روایتی تصور یہ تھا کہ مسافر یہاں خاموشی سے بیٹھ کر اخبار پڑھتے ہوئے فلائٹ کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن اب اگر کوئی مسافر ۲۰؍  منٹ بیٹھ کر ایک تصویر نہ کھینچے تو شاید اسے خود لگنے لگے کہ وہ غلط جگہ آ گیا ہے۔ صوفے گول ہیں، روشنی فوٹو جینک، کھانے کی جگہ کیفے جیسی اور سیٹنگ کارٹر ایسے جیسے کسی نے Pinterest کا موڈ بورڈ اٹھا کر فرش پر رکھ دیا ہو۔ بنگلورو کے کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ’’گیٹ زی‘‘ اسی تبدیلی کی مثال ہے، جہاں لاؤنج کو محض انتظار گاہ کے بجائے سماجی اور طرزِ زندگی کی جگہ بنایا گیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ کہانی دراصل ایک لاؤنج کی نہیں، Experience Economy (تجربات پر مبنی معیشت) کی ہے۔ کمپنیوں نے محسوس کرلیا ہے کہ آج کا صارف اشیاء و خدمات کے علاوہ تجربہ بھی خریدنا چاہتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نوجوانوں میں رفتار، مہنگی اسپورٹس بائیک اور اس پر نمائش کا بڑھتا ہوا خبط

ہندوستان میں ۲۰۳۰ء تک صارفین کے تجربات پر خرچ میں سالانہ اوسطاً ۱۰ء۳؍ فیصد اضافہ کا اندازہ ہے جبکہ مصنوعات پر خرچ کی شرح ۹ء۱؍ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ایک دوسری تحقیق کے مطابق ۷۸؍ فیصد ہندوستانی صارفین مصنوعات کے مقابلے میں تجربات کو ترجیح دیتے ہیں۔یعنی بازار کا حساب بدل رہا ہے۔ پہلے کاروبار پوچھتا تھا کہ ’’ہم کیا بیچ رہے ہیں؟‘‘ اب سوال ہے ’’گاہک ہمارے پاس آئیگا تو اس کا تجربہ کیسا ہوگا؟‘‘  بنگلورو کا گیٹ زی اسی سوچ کو ایئرپورٹ تک لے آیا ہے۔ 

اس گیٹ کو جین زی سے موسوم کردیا گیا ہے لیکن ایئرپورٹ کے مطابق مقصد صرف ایک گروپ کو خوش کرنا نہیں بلکہ ایسے مسافروں کو متوجہ کرنا ہے جو سفر کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہاں مختلف کیفے، سب وے ڈائنر اور ایک ایمفی تھیٹر نما جگہ ہے جہاں اسکریننگ اور پاپ اپ سرگرمیاں ہوسکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی سہولیات نیویگیشن اور ذاتی نوعیت کے تجربے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی صرف ایئرپورٹس تک محدود نہیں۔ اب ہوٹلوں میں لابی صرف چیک اِن کی جگہ نہیں رہی، ریستوراں صرف کھانے کیلئے نہیں رہے اور ریٹیل اسٹور صرف سامان دکھانے کی جگہ نہیں رہے۔ برانڈز ایسی جگہیں بنا رہے ہیں جہاں خریداری، تفریح، کام، ملاقات اور سوشل میڈیا ایک ہی تجربے میں شامل ہوجائیں۔ اسے ایک آسان مثال سے سمجھئے: دو کیفے ہیں، دونوں ہی میں کافی ۲۰۰؍ روپے فی کپ ہے۔ پہلے میں چار دیواریں، میز اور کرسی ہے۔ دوسرے میں خوبصورت روشنی، آرام دہ نشست، موسیقی، موبائل چارجنگ، دلچسپ ڈیزائن اور سیلفی کیلئے ’’کوزی کارنر‘‘ بھی ہے۔ کافی دونوں جگہ ایک جیسی ہوسکتی ہے مگر دوسرے کیفے کی Perceived Value زیادہ ہے کیونکہ اب گاہک صرف کافی نہیں، کافی پینے کا تجربہ خرید رہا ہے۔ یہی چیز برانڈز کیلئے معاشی طور پر اہم ہے۔ ایک خوبصورت اور یادگار تجربہ گاہک کو زیادہ دیر روک سکتا ہے۔ زیادہ دیر کا مطلب اضافی کھانے، خریداری یا دوسری خدمات کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ اگر وہی گاہک تصویر یا ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈال دے تو برانڈ کو ایک اضافی فائدہ ملتا ہے: اس کے اپنے صارفین اس کی مارکیٹنگ کرنے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت ایک عظیم انقلاب ہے، اس کو روکنا نہ ممکن ہے، نہ ہی ضروری

یہاں Return on Investment کا حساب بھی بدل جاتا ہے۔ برانڈ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کتنے افراد نے جگہ دیکھی؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ کتنے لوگوں نے وقت گزارا، خریداری کی، واپس آئے یا آن لائن اس تجربے کو آگے پہنچایا۔اسی لئے ہندوستان کی ریٹیل پراپرٹی مارکیٹ میں بھی تجربہ اہم ہوتا جارہا ہے۔ سی بی آر ای کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ملک میں تقریباً ۸ء۹؍ ملین مربع فٹ ریٹیل اسپیس کا استعمال ہوا، جبکہ تجرباتی فلیگ شپ اسٹورز اور جین زی پر مرکوز فارمیٹس نے گاہکوں کے دورے، وہاں گزارے وقت اور برانڈ انگیجمنٹ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ ’’وائب‘‘ صرف نوجوانوں کی زبان نہیں، پراپرٹی اور ریٹیل کی زبان بھی بن رہی ہے۔

البتہ ہر رنگین صوفہ کاروبار کو کامیاب نہیں کرتا۔ تجربہ تبھی قیمتی ہے جب وہ سہولت، معیار اور صارف کی ضرورت کے ساتھ جڑا ہو۔ صرف سیلفی کیلئے بنائی گئی جگہ چند دن دلچسپ لگ سکتی ہے؛ ایسی جگہ جو واقعی کام آئے، زیادہ دیر یاد رہتی ہے۔ اس لئے بنگلور ایئرپورٹ کے گیٹ زی کا اصل سبق جین زی کے متعلق کم اور کاروبار کے بارے میں زیادہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب توجنگل راج کی اصطلاح بھی بے حقیقت ہو گئی ہے

صارف بدلتا ہے تو مصنوعات سے پہلے جگہیں بدلتی ہیں۔ اور جب گاہک کسی جگہ پر صرف وقت گزارنے نہیں، اسے یاد رکھنے کیلئے آنے لگے تو اس جگہ کی معاشی قدر بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج کا کامیاب کاروبار وہ ہے جو صارف کو اتنا اچھا تجربہ دے کہ واپسی پر وہ اپنا موبائل نکالے، تصویر بنائے اور انجانے میں کہہ دے: ’’دیکھو، میں کہاں آیا تھا۔‘‘ 

یوں برانڈ کو ایک گاہک نہیں ملتا؛ اسے ایک ایسا گاہک مل جاتا ہے جو جاتے جاتے اس کا مفت اشتہار بھی بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK