گزشتہ دنوں سوتنتر بھاردواج نے جس دیدہ دلیری سے کیمرے پر اپنی غنڈہ گردی کا اعتراف کیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ ایساکسی جنگل راج میں بھی ممکن نہیں۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 10:01 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai
گزشتہ دنوں سوتنتر بھاردواج نے جس دیدہ دلیری سے کیمرے پر اپنی غنڈہ گردی کا اعتراف کیا، وہ ظاہر کرتا ہے کہ ایساکسی جنگل راج میں بھی ممکن نہیں۔
جنگل راج کی اصطلاح کا سیاسی استعمال بہار میں لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے دور حکومت میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں اور لاقانونیت کیلئے شروع ہوا تھا۔ اس اصطلاح کی اختراع۱۹۹۷ء میں پٹنہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ میں ہوئی تھی اور پھر اس اصطلاح نے ریاستی حکومت کی تنقید میں نمایاں بیانیہ کی حیثیت حاصل کر لی۔ اس اصطلاح کے ذریعہ لالو اور رابڑی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرنے میں بی جے پی کارکنان مثالی جوش کا مظاہرہ کیا کرتے تھے۔ اب تقریباً ۲۰برس کی مدت گزر جانے کے بعد اس اصطلاح پر یرقانی لاقانونیت اس قدر غالب آ چکی ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ اصطلاح بے حقیقت ہو کر رہ گئی ہے۔ اس اصطلاح کا اطلاق مکمل لاقانونیت، انتظامی خرابی اور بے لگام جرائم والی صورتحال پر ہوتا ہے۔ اس تینوں حوالوں سے دیکھیں تو دھرم آمیز سیاست نے ملک کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں سماجی امن و آشتی کو چند عناصر اقتدار سے اپنی مذہبی یکسانیت اور سیاسی رسوخ کی بنا پر متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح انتظامی امور میں شفافیت اور جوابدہی کا معاملہ نوکر شاہی اور ارباب اقتدار دونوں کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اور ان سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال یہ ہے کہ سماج میں شرپسندوں اور غنڈہ عناصر کی پذیرائی کے رجحان میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ بعض معاملات میں ارباب اقتدار بھی مذہبی یکسانیت کی بنا پر ان کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔
اقتدار کی اس پشت پناہی نے غنڈہ عناصر کو وہ حوصلہ دیا ہے کہ وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی عوامی سطح پر کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ گزشتہ دنوں سوتنتر بھاردواج نے ایک پوڈ کاسٹ میں جس دیدہ دلیری سے اپنی غنڈہ گردی کا اعتراف کیا وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام کے آئینی حق کے ابطال میں اقتدار اور پولیس نے غنڈہ عناصر کے تعاون کا ایسا معیوب و مذموم تجربہ کیا جس نے لاقانونیت کی ایک نئی مثال قائم کردی۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسی مثالی لاقانونیت کو پروان چڑھانے میں وہی عناصر پیش پیش رہے ہیں جن پر ملک کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کی عظیم ذمہ داری ہے۔ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج نے سیاسی سطح پر پھیلی اس غلاظت کو نمایاں کر دیا ہے جو جمہوریت کی تشکیل میں کارفرما تمام عناصر کو اپنے حصار میں لینے کی انتھک کوشش کر رہی ہے۔ اس احتجاج کو کمزور کرنے اور اپنے مستقبل کے تئیں فکر مند ملک کی نوجوان نسل کو خوفزدہ کرنے کیلئے دہلی پولیس نے سیاسی احکام کی تعمیل جس انداز میں کی، اسی سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ اس احتجاج کو سبوتاژ کرنے کیلئے پولیس ان تمام حدود کو عبور کر جانے پر آمادہ ہے جن حدود کے دائرے میں رہنا اس کی آئینی ذمہ داری ہے۔
احتجاج میں شامل طلبہ کو زد و کوب کرنے والی خاکی پولیس کے ساتھ سادہ لباس میں سوتنتر بھاردواج جیسے غنڈہ عناصرجس تشدد کا مظاہرہ کر رہے تھے، اس سے یہ ظاہر ہور ہا تھا کہ انھیں سیاسی سطح پر ایسی پشت پناہی حاصل ہے جو انھیں یہ یقین دلا رہی ہے کہ وہ کچھ بھی کر گزریں، کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ اس یقین کی بنا پر ہی کپل مشرا اور مودی کو سوتنتر نے اپنا بڑا بھائی کہا اور اگر اس ربط باہم کی تاثیر کچھ ہی دنوں میں سوتنتر کی ضمانت کی شکل میں عیاں ہو تواس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
اقتدار سے غنڈہ عناصر کی یہ قربت نہ صرف امن پسند شہریوں کیلئے مسئلہ ہے بلکہ اس اتحاد کے سبب ان تمام عوامی اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوسکتی ہے جن کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح اور نظم و نسق کو دوام عطا کرنا ہے۔ اس اتحاد کی سنگینی کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جنتر منتر پر ایسے ۲۵؍ جرائم پیشہ افراد کی موجودگی کی توثیق خود پولیس کے شناختی آلے نے کی ہے جن میں ۱۷؍ پر قتل اور ۴؍ افراد پر عصمت دری کا الزام ہے اور ریکارڈ کے مطابق ان سب کو اس وقت دہلی کی تہاڑ، منڈولی اور روہنی جیلوں میں ہونا چاہیے تھا۔ یہ تمام حقائق جو تشویش ناک منظرنامہ تعمیر کرتے ہیں اس میں ہنگامہ آرائی، لاقانونیت، تشدد اور منافرت کی پذیرائی اورتوثیق کرنے والے اس سسٹم کا عکس واضح نظر آتا ہے جس سسٹم میں شریف اور امن پسند شہریوں کی حیثیت واقعتاً کاکروچ سے زیادہ نہیں ہے۔
غنڈہ عناصر کی حوصلہ افزائی صرف ارباب اقتدار کے ذریعہ ہی نہیں ہو رہی بلکہ اس معاملے میں گودی میڈیا ان سے بھی دو قدم آگے دکھائی دیتا ہے۔ سوتنتر جیسے شر پسندوں کیلئے غنڈہ کارکن کی عجیب و غریب اصطلاح وضع کر کے ان عاقبت نا اندیش میڈیا ملازمین نے ایسا ماحول بنانے کی پرزور کوشش کی جس ماحول میں یہ غنڈہ عناصر نہ صرف آزادانہ گھوم سکیں بلکہ ان کی سماجی سطح پر ایسی پذیرائی بھی ہو کہ انھیں اپنی کرتوت پر کوئی ندامت نہ ہو۔ ہر معاملے میں اقتدار کا دفاع کرنے پر آمادہ گودی میڈیا نے ایسی لایعنی اصطلاح وضع کر کے اپنا منشا ظاہر کر دیا ہے کہ اسے طلبہ کے مستقبل سے زیادہ ان شرپسندوں سے حمایت عزیز ہے جو اقتدار اور پولیس کی پشت پناہی میں عوام کے خلاف تشدد برپا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس وقت اقتدار، پولیس، میڈیا اور انتظامیہ کی خرابیاں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ اس صورتحال کو بیان کرنے کیلئے اب جنگل راج کی اصطلاح بھی بے حقیقت ہو گئی ہے۔