• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک کی جین زی حکومت سے لڑرہی ہے، التجا نہیں کررہی ہے

Updated: October 11, 2026, 6:28 PM IST | Ashutosh Varshney | Mumbai

یہ سیاسی ماحول کافی عرصے تک رہے گا اور بڑی تبدیلیاں لائے گا یا مودی حکومت اس سے بھی زیادہ جبر کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گی، اس پر اپنے اپنے انداز میں قیاس آرائیاں ہوسکتی ہیں، حالانکہ اس وجہ سے اس سوال کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی۔

The concept of liberal democracy encompasses not only elections but also how elected governments function between them. Photo: INN
لبرل جمہوریت کا تصور صرف انتخابات ہی نہیں بلکہ یہ بھی شامل ہے کہ انتخابات کے درمیان منتخب حکومتیں کیسے کام کرتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

طلبہ کے موجودہ احتجاج کو صرف قلیل مدتی سیاسی بحران کے طور پر دیکھنا بہت بڑی تنگ نظری ہوگی۔ ہندوستان کی نوجوان نسل جو کچھ کر رہی ہے وہ ہندوستان اور دنیا دونوں کیلئے بہت اہم ہے۔ اقتدار میں رہنے والوں کی زیادتیوں کو دیکھتے ہوئے، جین زی اسے پلٹنے کی کوشش کر رہی ہے جسے۷۷۔ ۱۹۷۵ء کی ایمرجنسی کے بعد ہندوستانی جمہوریت پر سب سے بڑا حملہ سمجھا جانا چاہئے۔ اسے اسی طرح ہی تسلیم کیا جانا چاہئے۔ یہ صرف اس بات تک محدود نہیں ہونا چاہئے کہ آیا ہمیں ابھیجیت دپکے اور اس کا پس منظر پسند ہے یا نہیں، یا ہمیں راہل گاندھی کو پسند ہیں یا نہیں۔ راہل گاندھی اس وقت اس سیاسی ماحول سے فائدہ اٹھانے والےایک ’پارٹی، سیاسی‘ لیڈر ہیں اور بڑھتی ہوئی سیاسی لہر پر سوار ہیں۔ 
 یہ سیاسی ماحول کافی عرصے تک رہے گا اور بڑی تبدیلیاں لائے گا یا مودی حکومت اس سے بھی زیادہ جبر کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گی، اس پر اپنے اپنے انداز میں قیاس آرائیاں ہوسکتی ہیں، حالانکہ اس وجہ سے اس سوال کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی۔ کچھ کالم نگاروں کو یقین ہے کہ حکومت اور جارحیت کا مظاہرہ کرے گی جس پر مجھے اتنا یقین نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہنگامہ خیز سیاسی اوقات میں پختہ پیش گوئیاں کرنا ممکن ہے۔ اہم سیاسی ادوار میں مستقبل عموماً غیر یقینی ہوتا ہے۔ 
میرے خیال میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ مودی حکومت کس طرح بگڑتی ہوئی صورتحال کو روک پائے گی جسے کبھی اس کی بڑھتی ہوئی گرفت سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر رام مندر کی تعمیر اور مغربی بنگال میں اس کی زبردست انتخابی فتح کے بعد۔ کیا یہ واقعی اب واپسی کر سکتی ہے؟ اگر ہے تو کیسے؟ سچ کہوں تو کوئی نہیں جانتا۔ 
لیکن موجودہ صورت حال کا تجزیہ تصوراتی اور سیاق و سباق میں ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کا تجزیہ صرف نظریہ کا معاملہ نہیں ہے۔ کچھ مواقع پر، نظریہ حقیقی صورت حال پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔ 
جمہوری نظریہ ساز طویل عرصے سے یہ مانتے رہے ہیں کہ ہندوستان کی جمہوریت تاریخی طور پر غیر معمولی رہی ہے۔ سب سے بڑے مسائل آمدنی اور صنعت کاری تھے۔ یہ ایک سچائی ہے کہ صرف دولت مند اور صنعتی ممالک ہی نے جمہوریت کو طویل عرصے تک برقرار رکھا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال مشرق وسطیٰ کے ممالک کو چھوڑ کر، جمہوریت بنیادی طور پر دولت مندوں کیلئے کھیل رہی ہے۔ سنگاپور واحد غیر تیل سے مالا مال ملک ہے جو جمہوری نہیں ہے اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے اب امریکہ سے زیادہ امیر ہے۔ 
آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک، ہندوستان غریب اور کمزور صنعتی ملک تھا، پھر بھی یہ جمہوری رہا۔ ہندوستانی جمہوریت کے طویل عرصے تک ٹکے رہنے کی امید بہت کم تھی، اسلئے ہندوستانی جمہوریت پر تحقیق کرنے والے اسکالرز کیلئے یہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ۱۹۶۶ءکے اوائل میں ’بیرنگٹن مور جونیئر‘ جو بے حد اہم کتاب ’’ سوشل اوریجنس آف ڈکٹیٹر شپ اینڈ ڈیموکریسی ‘کے مصنف نے لکھا کہ ’’ایک سیاسی نوع کے طور پر، (ہندوستان) جدید دنیا کا حصہ ہے۔ ۱۹۶۴ء میں نہرو کی موت کے وقت، سیاسی جمہوریت۱۷؍ سال گزار چکی تھی۔ اگر چہ یہ نامکمل تھی، اس کے باوجود یہ جمہوریت محض ایک دھوکہ نہیں تھی۔ ایشیائی ماحول میں اور صنعتی انقلاب کے بغیر سیاسی جمہوریت کافی عجیب لگ سکتی ہے۔ ‘‘
پھر۱۹۸۹ء میں، جدید جمہوری نظریہ کے مشہور بانی، رابرٹ ڈال نے لکھا کہ ہندوستان جمہوری اصول کیلئے ’’جدید دور میں ایک بڑا استثنا تھا۔ ‘‘ اسی طرح ۲۰۰۱ء میں، ایڈم پرزیورسکی، جو گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے زیادہ شماریاتی جمہوریت کے نظریہ ساز تھے، نے لکھا کہ ’’ہندوستان میں جمہوریت کے خلاف امکانات بہت زیادہ تھے۔ ‘‘لیکن یہ دعویٰ بنیادی طور پر ہندوستان کی انتخابی جمہوریت پر لاگو ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان نے لبرل جمہوریت کی طرح کارکردگی نہیں دکھائی۔ لبرل جمہوریت اور انتخابی جمہوریت دو مختلف تصورات ہیں۔ انتخابی جمہوریت کا دائرہ وسیع ہوتا ہے کیونکہ صرف انتخابات ہی جمہوریت کے تمام پہلوؤں کو پورا نہیں کرتے۔ جدید جمہوریت آزادانہ اور حقیقی مسابقتی انتخابات اور تمام بالغ افراد کے ووٹ کے حق کے بغیر ناممکن ہے۔ یہ ایک ضروری شرط ہے۔ لیکن جمہوریت صرف انتخابات تک نہیں ہوتی۔ لبرل جمہوریت کا تصور صرف انتخابات ہی نہیں بلکہ یہ بھی شامل ہے کہ انتخابات کے درمیان منتخب حکومتیں کیسے کام کرتی ہیں۔ ایک لبرل جمہوریت ہمیشہ شہری آزادیوں کی حفاظت کرتی ہے، خاص طور پر آزادی اظہار اور انجمن کی آزادی، جسے آج ’سول سوسائٹی‘ کہا جاتا ہے۔ 
اتنا ہی اہم، لبرل جمہوریت اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ دلیل یہ ہے کہ اکثریت اپنی تعداد کی بنیاد پر اپنی حفاظت کر سکتی ہے، لیکن اقلیتوں کے پاس اتنا نہیں ہے لہٰذا اقلیتوں کے تحفظ کے بغیر جمہوریت محض اکثریت کی طاقت بن سکتی ہے۔ اور اگر آزادی اظہار کے انفرادی حق اور شہریوں کے آزادانہ طور پر غیر سرکاری تنظیمیں بنانے کے حق کا تحفظ نہ کیا جائے تو عام طور پر انتخابی جمہوریت ایک سخت آمرانہ قوت بن سکتی ہے، چاہے انتخابات کی آزادی موجود ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK