جب مودی وزیر اعظم نہیں ہوں گےاو ر نئے چہرے سامنےآئیں گے تو پارٹی کیلئے داخلی انتشار پر قابو پانابڑا چیلنج بن جائے گا !
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 3:12 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
جب مودی وزیر اعظم نہیں ہوں گےاو ر نئے چہرے سامنےآئیں گے تو پارٹی کیلئے داخلی انتشار پر قابو پانابڑا چیلنج بن جائے گا !
موجودہ سیاسی حالات دیکھ کر لگتا ہےکہ ملک’وَن پارٹی سسٹم ‘ یا ’سنگل پارٹی اسٹیٹ ‘کی طرف جارہا ہے۔ وطن عزیز میں آمریت کی گنجائش نہیں ہےوگرنہ وزیر اعظم کی سربراہی میں ملک ’آٹو کریسی ‘یا ’ڈکٹیٹر شپ ‘ کی طرف بھی جا سکتا تھا۔ وَن پارٹی سسٹم کے تحت ظاہر ہے کسی ملک میں وہ نظام چلتا ہےجہاں اقتدار کسی ایک پارٹی کے کنٹرول میں ہوتا ہےاورآٹوکریسی کے تحت کسی ایک لیڈر کے کنٹرول میں۔ ہندوستان میں یہ دونوں نظام اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہیں ہیں کیونکہ ملک کے جمہوری مزاج کیلئے یہ قابل قبول نہیں ہے، لیکن، ایک مختلف نوعیت کے تحت انہیں نافذ کرنے یا مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ ملک کے جمہوری مزاج کیلئے قابل قبول یہ بھی نہیں ہے لیکن ساری شعبدہ بازیاں اس طرح انجام دی جارہی ہیں کہ یہ سب کچھ سیاسی تقاضوں کا حصہ معلوم ہواوران پر عوامی سطح پرسوالات نہ اٹھائے جا سکیں۔
بی جےپی ملک میں واحد پارٹی بنتی جارہی ہےجواقتدارپراجارہ داری چاہتی ہے۔ ۷؍ سال پہلے مہاراشٹر میں اس کھیل کی شروعات کی گئی اور حالیہ دنوں میں یہ کھیل مغربی بنگال تک جا پہنچا۔ فرق اتنا ہےکہ مہاراشٹر میں انتخابات سے قبل بھی اس کھیل کی منصوبہ بندی کی گئی، ایک موقع پر اس منصوبے کوانتخابات کے بعد بھی بروئے کارلایا گیا اور یہاں تک کہ حکومت بننے کے بعد بھی توڑ جوڑ کے اس منصوبےپرکام نہیں رُکا۔ نتیجتاًشیوسیناٹوٹی، ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ بنے، اجیت پوار حکومت میں شامل ہوکر پھرحکومت سے علاحدہ ہوئے اور پھر حکومت میں شامل ہوکر نائب وزیر اعلیٰ بنے۔ یہی کھیل مغربی بنگال کے انتخابات میں کھیلا گیا۔
اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس کونہ صرف اقتدار سے بے دخل کیا گیا بلکہ پارٹی کوبھی منتشر کردیا گیا۔ اس کا براہ راست الزام بی جے پی پر نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ اس کے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں ہیں۔ یہ کام پس پردہ ہوتے ہیں۔ لیڈروں کی خریدوفروخت سامنے نہیں ہوتی، گھوڑ بازاری سیاست میں پس پردہ ہوتی ہے اوراس کے معاملا ت آپسی الزامات تک محدود ہوتے ہیں لیکن حال کی نظروں سے دیکھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ کام کس کے اشارے پر کیاجارہا ہےاوراصل محرک کون ہے؟بی جےپی براہ راست ملزم اس لئے نظر آتی ہےکہ ۲۰۱۴ء کے بعدسےاس کی ملک اور ریاستوں کی سیاست پر گرفت مضبوط ہوئی ہے۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے اس نے اپنے طریقے ایجاد کئے ہیں۔ اس کے پاس پیسے کی طاقت ہے، میڈیا ہے، بعض معاملات میں عدلیہ بھی اس کے حق میں نظر آتا ہےاورانتخابی منظر نامے میں الیکشن کمیشن جیسا ادارہ بھی اس کےزیر اثر معلوم ہوتا ہے۔
ان حالات میں جو بی جےپی یا این ڈی اے کا دامن تھام لیتا ہے، اس کیلئےسیاست کے نئے دروازے کھل جاتے ہیں اورجو اپنی پارٹی سے وابستگی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے، ان کیلئے موجودہ سیاست میں مواقع محدود رہ جاتے ہیں۔ ایکناتھ شندے اورادھوٹھاکر ے کے معاملے میں یہ مثال واضح نظر آتی ہےبلکہ یہاں تو یہ مثال اس قدر واضح اور مضبوط ہےکہ بی جے پی کے اشارے پر پورا کھیل ہونےکےبعدپارٹی کی علامت بھی ایکناتھ شندے کومل گئی۔ یعنی شندے کونئی پہچان کے ساتھ پارٹی کی پرانی وراثت پر بھی قبضہ مل گیا۔ یہی حال این سی پی کا ہوااوراب یہی کچھ ترنمول کانگریس کے ساتھ ہورہا ہےنیز اس سے کچھ اور آگےبڑھ کر اب سماجوادی پارٹی بھی اس آنچ کی زد میں آتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
بی جے پی کا یہ طریقہ کتنا اورکب تک کارگر ثابت ہوگا، علاقائی پارٹیوں کو توڑنے کا کھیل وہ کب تک کھیلتی رہےگی اور کب تک یہ سمجھتی رہے گی کہ ملک میں حکومت کرنے کے قابل وہ ہی واحد پارٹی ہے یا وہ اتحاد ہے جس کی وہ سربراہ ہے، اس بارے میں کہا جاسکتا ہےکہ یہ رجحان کئی سال دیکھنے میں آسکتا ہے۔ تاریخ اور حالات بتا تے ہیں کہ ملک میں بڑی پارٹیوں کا ایک خاص پیٹرن ہوتا ہے، یعنی ایک خاص دور میں وہ عروج پاتی ہیں، انہیں اقتدار ملتا ہے، کئی سال وہ اقتدار میں برقرار رہتی ہیں، پھر ان کے ہی لیڈروں میں اختلافات ابھرتے ہیں، انتشار ہوتا ہے اوراثر ورسوخ رکھنے والے لیڈران پارٹی سے علاحدہ ہوکر نئی پارٹی بنالیتے ہیں۔
قارئین اس بات سےواقف ہیں کہ کانگریس نےمختلف مرحلو ں میں ملک پر۵۴؍ سال حکومت کی ہے۔ ۱۹۴۷ءسے ۱۹۷۷ء تک ۳۰ ؍ سال کانگریس کا اقتدار رہاجس کی شروعات وزیر اعظم جواہر لال نہروکی قیادت میں ہوئی۔ ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۹ء تک ۹؍ سال زمام کار اندرا گاندھی اورراجیو گاندھی کے ہاتھوں میں رہی۔ ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۶ء تک۵؍ سال عنان حکومت نرسمہا راؤ کی قیادت میں کانگریس کے پاس رہی۔ بعدازاں ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۴ء تک منموہن سنگھ یو پی اے حکومت کے قائد رہے اوریہ دورکانگریس کے زوال کا آغاز بھی رہا۔
بی جے پی کو مکمل طورپر اقتدار پرقابض ہوئے ابھی ۱۲؍ سال ہوئے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہےکہ کانگریس کی طرح وہ بھی ۵۰؍ سال سے زائد عرصہ اقتدار کا مزہ چکھ لے لیکن اقتدار حاصل کرنے سے زیادہ اقتدار تک پہنچنے کا جو طریقہ زعفرانی پارٹی نے اختیار کر رکھا ہے، اس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہےکہ حالات اس کے حق میں بھی ہوسکتے ہیں اور اس کے خلاف بھی۔ کانگریس نےاقتدار کے یہ جو ادوار دیکھے، ان میں وہ دوربھی آیا جب ۱۹۹۹ءمیں شرد پوار نے پارٹی سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے این سی پی قائم کی۔ اس وقت شردپوار کے ساتھ پی اےسنگما اورطارق انور جیسے لیڈرتھے۔ یعنی ۹۰ء کی دہائی میں کانگریس میں اختلافات ہوچکے تھے جس کا انجام پارٹی سے شرد پوار کی علاحدگی صورت میں شدت سے سامنے آیا۔ اب ۲۰۲۳ء میں یہ این سی پی دوگروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ اس کا ایک گروہ اقتدارمیں ہے اوردوسرا اقتدار سے محروم۔ ذرا اس سے پہلے دیکھیں توممتا بنرجی نے بھی یہی اقدام کیا تھا۔ انہوں نے ۱۹۹۸ءمیں پارٹی کو خیر باد کہہ کر ترنمول کانگریس کی بنیادڈالی تھی اوراب یہ پارٹی بھی اقتدار سے محروم ہوکر ٹوٹ چکی ہے۔ اس کا ایک گروہ بھی اب برسراقتدار بی جے پی کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہے۔ اس پورے منظر نامے میں بنیادی پارٹی کانگریس جس سے یہ دونوں پارٹیاں نکلیں، آج چند ہی ریاستوں تک محدود ہوچکی ہیں۔ اس بڑی پارٹی کا حال بھی اس سے نکلنے والی چھوٹی پارٹیوں کی طرح ہوچکا ہے۔ اب بی جے پی کیا سمجھ رہی ہےکہ اس کھیل میں اس کی ہی اجارہ داری ہے اوراقتدار پر اسے ہی قابض رہنا ہے۔
ابھی وزیر اعظم مودی پارٹی کا مضبوط چہرہ ہیں جن کے تعلق سے پارٹی میں کوئی اختلاف بظاہر نہیں ہے لیکن مودی کے بعدجو چہرے آئیں گے، ان میں اختلافات نہ ہوں، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ کچھ برسوں بعد جب یہ صورتحال پیدا ہوگی تو پارٹی کیلئے انتشارپر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا ۔