Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں جتنی موقع پرستی ہے، شاید ہی کسی جمہوری ملک میں ہو

Updated: June 27, 2026, 3:16 PM IST | Veer Singhvi | Mumbai

دنیا کے کسی بھی بڑے ملک میں سیاسی نظریات کو اتنی کم اہمیت نہیں دی جاتی، جتنی کہ ہمارے یہاں ہے، افسوس کہ دَل بدلی کے واقعات اب ہمیں چونکاتے بھی نہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اگر آج آپ ملک میں لبرل آوازوں کو سنیں، اس میں اکثر ہندوستان کا مسئلہ یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم نے بی جے پی کو عملی طور پر لامحدود طاقت فراہم کردی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ہمارے آئین کا سیکولر کردار مجروح ہو رہا ہے بلکہ ہمارا پورا قانون ساز نظام یعنی الیکشن کمیشن سے لے کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سربراہان تک کو متاثر کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ ’ہندی ہارٹ لینڈ‘ ریاستوں کو حد بندی کے عمل میں زیادہ نمائندگی دینے کی بات کرکے وفاقی طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ 
لیکن مجھے اس لبرل نقطہ نظر سے بنیادی اختلاف ہے۔ میں ان حالات کیلئے بی جے پی پر الزام نہیں لگاتا بلکہ میں نام نہاد سیکولر سیاستدانوں پر الزام لگاتا ہوں۔ آپ نریندر مودی یا امیت شاہ یہاں تک کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے بارے میں جو بھی سوچیں، ان کو ووٹ دینے والے جانتے ہیں کہ وہ کس کیلئے کھڑے ہیں۔ ان لیڈروں میں سے کسی نے بھی اپنے موقف کو غلط طریقے بیان نہیں کیا، نہ ہی انہوں نے کبھی لبرل یا سیکولر ہونے کا بہانہ کیا۔ وہ صرف اُس ایجنڈے کو نافذ کر رہے ہیں جس کی وہ طویل عرصے سے حمایت کرتے آ رہے ہیں۔ 
بدقسمتی سے، ان باتوں کااطلاق بہت سے اُن سیاست دانوں پر نہیں ہوتا جنہوں نے کبھی ہمیں بتایا تھا کہ وہ لبرل اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور اقلیتوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ ان کے مفادات کیلئے کھڑے ہوں گے۔ اب پتہ چلا کہ لبرل ازم اُن کیلئے محض سہولت کا ایک پرچم تھا جس سے وہ فائدہ اٹھارہے تھے۔ 
 ترنمول کانگریس کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، ذرا اس بدصورت منظرنامے کو دیکھیں۔ وہ لوگ جو ایک ماہ پہلے تک مغربی بنگال میں گھوم گھوم کر بی جے پی پر حملہ کر رہے تھے اور دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ ہندوستان کے تکثیری ویژن کیلئے لڑ رہے ہیں، اب وہی بی جے پی کے سامنے جھکے ہوئے ہیں جس پر وہ کبھی تنقید کرتے تھے اور اُن پالیسیوں کو اپنا رہے ہیں جن سے وہ کبھی نفرت کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو پارلیمنٹ میں وزیراعظم کو ٹوکا کرتے تھے اور ان کی تقریروں کے دوران نعرے بازی کرتے تھے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گاؤں گاؤں جا کر لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی ریاست میں بی جے پی برسراقتدار آگئی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ 
اور اب بغیر کسی وضاحت کے انہوں نے شرمناک یو ٹرن لے لیا ہے اور ہر اس بات پر بھروسہ کرنےکا ڈراما کر رہے ہیں جس کی وہ کبھی مخالفت کرتے تھے۔ ویسےوہ اکیلے نہیں ہیں۔ مہاراشٹر میں شیوسینا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کہ اتر پردیش میں بھی اسی حکمت عملی کو دہرانےکی سازش رچی جارہی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ان لوگوں کی مذمت کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ان کی منافقت اور لالچ پوری طرح سے عیاں ہے۔ انہیں کسی بھی پارٹی کی حمایت کرنے اور کسی بھی نظریے کی حمایت کرنے کا پورا حق ہے، لیکن انہیں ہندوستان کے لوگوں سے جھوٹ بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ ایک ہفتہ پہلے کسی کی شدید مخالفت کریں اور پھر اگلے ہی دن اسی شخص کی تعریف اور خوشامد میں ساری حدیں پار کرجائیں۔ 
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی حلف برداری کی تقریب میں، جو خود ایک سابق کانگریسی ہیں، کم از کم تین دیگر بی جے پی وزرائے اعلیٰ موجود تھے جو کانگریس سے آئے تھے۔ اب کوئی ان دَل بدل اور پلٹی مارنے پر زیادہ تبصرہ بھی نہیں کرتا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کی مثال سامنے ہے۔ ان دنوں انہیں ملک کے ذہین اور ہوشیار لیڈروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کانگریس چھوڑنے کی کہانی مشہور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ راہل گاندھی سے ملنے گئے تھے تو راہل گاندھی ان کی طرف توجہ دینے کے بجائے اپنے پالتو کتے کے ساتھ کھیلتے رہے۔ کچھ سال پہلے جب شرما قومی اسٹیج پر اُبھرے تو لوگوں نے انہیں ماضی کا یوگی آدتیہ ناتھ کہا کیونکہ ان کی تقریر یوگی سے ملتی جلتی تھی۔ اس کے بعد کے برسوں میں، شرما نے مسلمانوں کےتعلق سے اپنی بیان بازیوں میں یوپی کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے دیگر تمام وزرائے اعلیٰ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 
لبرل لوگ ان کے بیانات پر اُن کی تنقید کرتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ یہ سادہ سا سوال پوچھتے ہیں کہ کیا وہ کانگریس میں رہتے ہوئے بھی مسلمانوں کے بارے میں ایسا ہی سوچتے تھے؟ کانگریس چھوڑنے کے بعد ان کی زبان کیوں بدل گئی؟ اصل شرما کون ہے؟ کانگریسی یا بی جے پی کا وزیر اعلیٰ؟یہ ستم ظریفی ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار حکمران جماعت اور ملک کی اہم اپوزیشن جماعت کے درمیان اتنا بڑا نظریاتی خلیج ہے.... اور پھر بھی، تاریخ میں پہلی بار اتنے سارے کانگریسی لیڈر بی جے پی میں شامل ہونے اور اس کی زبان کی نقل کرنے کو تیار ہیں۔ کیا ان لوگوں کا کوئی بنیادی نظریہ نہیں ہے؟ کیا وہ واقعی اپنے کریئر اور اپنی کمائی کے علاوہ کسی چیز کی پروا کرتے ہیں ؟مجھے نہیں لگتا کہ مجھے اس سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ آپ پہلے ہی سے جانتے ہیں۔ 
یہ دَل بدل کرنے والے یہ بھی دِکھاوا نہیں کر سکتے کہ اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس طرف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بی جے پی اتنے بڑے پیمانے پر صرف اسلئے اراکین پارلیمان کو اپنے ساتھ شامل کر رہی ہے تاکہ وہ حد بندی، ون نیشن ون الیکشن اور یکساں سول کوڈ جیسے تاریخی اور بڑی تبدیلی والے قوانین کو پاس کرا سکے۔ یہ تمام اہم مسائل ہیں جن پر دل بدلی کرنے والوں، خاص طور پر ٹی ایم سی سے تعلق رکھنے والوں نے ہمیشہ بی جے پی کے بالکل مخالف موقف اختیار کیا ہے۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ یہ تمام لوگ اپنے ماضی کو بھول جائیں گے اور جوش و خروش سے اُن قوانین کے حق میں ووٹنگ کریں گے جو ہندوستان کو بدل سکتے ہیں اور کل تک وہ جن کی مخالفت کرتے تھے۔ 
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا بڑا جمہوری ملک ہو جہاں نظریات کو اتنی کم اہمیت دی جاتی ہو اور جہاں اتنے بڑے پیمانے پر سیاسی موقع پرستی ہو۔ کینیڈا میں، جس نے ہمارے وفاقی ڈھانچے کو متاثر کیا، اور برطانیہ، جس نے ہمارے پارلیمانی نظام کو متاثر کیا، کسی بڑی پارٹی سے دوسری مخالف نظریے والی بڑی پارٹی میں شامل ہونے کے واقعات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہندوستان میں اب یہ اتنا عام ہوچکا ہے کہ ہمیں اس پر حیرانی بھی نہیں ہوتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ آج کے لیڈروں کی نااہلی ہے۔ بہت سے لیڈران سیاست کو صرف ایک کریئر کے طور پر دیکھتے ہیں، ان کا مقصد پیسہ کمانا اور ترقی کرنا ہے۔ نظریہ ان کیلئے اہمیت نہیں رکھتا، اقتدار ہی ان کا واحد اور بنیادی مقصد ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK