تقریباً ۵۰؍ دنوں تک بھاری اذیتوں کے گزرنے کے بعد طلبہ آج ایک بار پھر اُسی پچ پر اپنا میچ کھیل رہے ہیں، شام تک وہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجائیں گے، اس کے بعد والدین، انتظامیہ اورحکومت کا امتحان شروع ہوگا، اور اس امتحان کا نتیجہ ہی آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کرے گا۔
ملک کے چند اہم، بڑے اور مشکل امتحانات میں سے ایک ’نیٹ یوجی‘ کا امتحان پیپر لیک کی وجہ سے آج دوبارہ ہورہا ہے۔ حکومت کی نااہلی کا خمیازہ طلبہ اور ان کے والدین بھگت رہے ہیں۔ ۳؍ مئی کو پہلی مرتبہ امتحان دینے والے طلبہ تقریباً۵۰؍ دنوں تک بھاری اذیتوں سے گزرنے کے بعد آج ایک بار پھر اسی پچ پر اپنا میچ کھیل رہے ہیں۔ شام تک وہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجائیں گے، اس کے بعد والدین اور سرپرستوں کے ساتھ انتظامیہ اور حکومت کاامتحان شروع ہوگا اور اس امتحان کا نتیجہ ہی آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کرے گا۔ عام حالات میں کسی امتحان کے دن گفتگو کا محور طلبہ کی تیاری، سوالیہ پرچے کی نوعیت یا ممکنہ نتائج ہوتے ہیں، لیکن اس سال نیٹ کے امتحان کو محض ایک تعلیمی مرحلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مسلسل پیپر لیک اور ہمارے ملک کے امتحانی نظام پر اُٹھنے والے سنگین سوالات نے اس امتحان کو ایک غیر معمولی پس منظر فراہم کیا ہے۔
نیٹ کے امتحان میں شریک ہونے والے یہ طلبہ گزشتہ کئی ماہ اور بعض طلبہ گزشتہ کئی سال سے غیر معمولی ذہنی دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ طویل مطالعہ، کوچنگ کلاسیز کی سختی، مسلسل مشق، مستقبل کی منصوبہ بندی، بہتر کارکردگی کی فکر اور والدین کے خواب؛ یہ سب کچھ اپنی جگہ موجود تھے ہی.... گزشتہ کچھ برسوں سےاس میں امتحانی نظام کے تئیں بےیقینی اور پیپرلیک کے خدشات بھی شامل ہوگئے ہیں جس نے ان کے ذہنی بوجھ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ آج جب وہ شام کے وقت امتحان گاہوں سے باہر نکل رہے ہوں گے تو بلاشبہ ان کے دل و دماغ کئی طرح کے خیالات سے گھرے ہوئے ہوں گے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں والدین اور سرپرستوں کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اولاد کی کامیابی کو والدین کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے تعلق سے فکرمند رہتے ہیں۔ یہ فکر بجا بھی ہے، لیکن بعض اوقات یہی فکر غیر محسوس انداز میں دباؤ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ امتحان کے بعد گھر پہنچنے والے طالب علم سے فوراً یہ پوچھنا کہ ’پرچہ کیسا ہوا؟‘، ’کتنے سوال صحیح ہوئے؟‘، ’فلاں سوال کا جواب کیا لکھا؟‘ یا ’اتنی کوچنگ اور محنت کے بعد بھی اگر کامیابی نہ ملی تو؟‘ جیسے سوالات اُس کی ذہنی کیفیت کو مزید بوجھل کرسکتے ہیں۔
والدین کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ امتحان ختم ہونے کے بعد ان سوالات کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہونا تھا، وہ ہوچکا۔ جوابات لکھے جاچکے، کاپیاں جمع ہوچکی ہیں اور نتیجہ اب طلبہ یا والدین میں سے کسی کے اختیار میں نہیں۔ ایسے وقت میں سوالات کی بوچھاڑ، تجزیوں اور اندیشوں سے زیادہ ضرورت محبت، شفقت، اعتماد اور حوصلہ افزائی کی ہوتی ہے۔ امتحان گاہ سے لوٹنے والے بچے کو اس وقت ایک ممتحن کی نہیں بلکہ ایک ہمدرد ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر اس سال جبکہ طلبہ پہلے ہی غیر معمولی ذہنی دباؤ سے گزرے ہیں، والدین کو چاہئے کہ وہ امتحان کے فوراً بعد اپنے بچوں کو سکون کا موقع دیں۔ اگر بچہ خود امتحان کے بارے میں بات کرنا چاہے تو ضرور سنیں، لیکن اس سے جواب طلبی نہ کریں۔ یہ وقت یہ پوچھنے کا نہیں کہ کتنے سوال درست ہوئے بلکہ یہ یقین دلانے کا ہے کہ اس کی محنت ضائع نہیں گئی۔ اس کی محنت کو سراہیں، اس کے جذبے کی تعریف کریں اور اسے اس بات کا احساس دلائیں کہ اس کی شخصیت اور صلاحیت کا فیصلہ محض ایک امتحان سے نہیں ہوتا۔ خدانخواستہ نتیجہ خاطر خواہ نہیں برآمد ہوا تو اسے زندگی کا راستہ بند ہونا تصور نہ کریں۔ زندگی کے راستے ایک دروازہ بند ہونے پرختم نہیں ہوجاتے بلکہ نئے امکانات کے کئی دروازے کھلتے ہیں۔ مختلف واقعات اور مثالوں کے ذریعہ بچے کو بتائیں کہ کامیابی اور ناکامی دونوں زندگی کا حصہ ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر طالب علم کی ذہنی ساخت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض طلبہ بظاہر مضبوط دکھائی دیتے ہیں مگر اندر سے شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ امتحان کے بعد والدین کا ایک سخت جملہ یا غیر ضروری موازنہ ان کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک حوصلہ افزا جملہ، کوئی اچھی مثال، ایک مسکراہٹ اور اعتماد کا اظہار انہیں دوبارہ توانائی سے بھر سکتا ہے۔ اسلئے آج کا دن بچوں سے سوالات کرنے کا نہیں بلکہ ان کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی کا ہونا چاہئے۔
والدین کے ساتھ ہی حکومت اور انتظامیہ کو بھی اس موضوع پر سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے دوران سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوان آبادی کو سب سے بڑی طاقت قرار دیا جاتا ہے، وہاں ان کے خوابوں اور محنت کے تحفظ کو اولین ترجیح ملنی چاہئے۔ اگر ایک طالب علم کو اس بات کا یقین ہی نہ رہے کہ اس کی کامیابی کا دارومدار صرف اس کی صلاحیت اور محنت پر ہے تو ملک کا پورا تعلیمی نظام سوالوں کی زد میں آجاتا ہے۔ پیپر لیک کے واقعات صرف انتظامی ناکامی نہیں ہیں بلکہ یہ قومی نقصان کے مترادف ہیں۔
ان کی وجہ سے لاکھوں طلبہ کی محنت مشکوک ہوجاتی ہے، خاندانوں کی امیدیں مجروح ہوتی ہیں اور سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور ہوجاتا ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ حکومت اس مسئلے کو وقتی سیاسی یا انتظامی بحران کے بجائے ایک سنجیدہ قومی چیلنج کے طور پر دیکھے۔ امتحانات کی شفافیت کو یقینی بنائے، جدید حفاظتی نظام نافذ کئے اور قصوروار عناصر کو سخت سزا دیئے بغیر اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے پارلیمانی انتخابات تک اور کارپوریٹرس سے لے کر ایم پیز کی خریداری تک... حکومت وہاں ناکام نہیں ہوتی، جو اُس کی ترجیحات میں شامل ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر پیپر لیک کے واقعات نہیں رُکتے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نوجوانوں کیلئے بہتر مستقبل، حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔
بہرحال آج جب طلبہ نیٹ کا امتحان دے چکیں گےتو وہاں سے والدین اور انتظامیہ کا امتحان شروع ہوگا۔ طلبہ نے اپنی ذمہ داری ادا کردی۔ انہوں نے مہینوں بلکہ برسوں کی محنت اور تیاری کے بعد امتحان دیا ہے۔ اب والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نتائج کے انتظار کے دنوں کو اپنے بچوں کیلئے ذہنی سکون اور امید کا ذریعہ بنائیں۔ اسی طرح انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس بات کا یقین دلائے کہ ان کے خواب محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
امتحان گاہوں سے نکلنے والے یہ نوجوان محض امیدوار نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ان کے اعتماد کا تحفظ کسی ایک خاندان یا ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ان کے خوابوں کی حفاظت نہیں کرسکے تو صرف چند طلبہ ہی نہیں ہاریں گے بلکہ ہمارا اجتماعی مستقبل بھی خسارے میں رہے گا۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس امتحان کے بعد صرف نتائج ہی سامنے نہیں آئیں گے بلکہ اس سے وہ سبق بھی حاصل کیا جائے گا جس کی آج ملک کے تعلیمی نظام کو سب سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف امتحانات سے نہیں بنتا بلکہ اس اعتماد سے بنتا ہے جو نوجوانوں کو اپنی محنت، اپنے اداروں اور اپنے مستقبل پر ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ نتائج آنے تک طلبہ کو نمبروں کی نہیں، حوصلے کی اور قوم کو وعدوں کی نہیں بلکہ ایک شفاف نظام کی ضرورت ہے۔