Inquilab Logo Happiest Places to Work

ووٹ لے کر خیمہ بدلنے والے لیڈران پر قدغن کیسے لگایا جائے؟

Updated: June 27, 2026, 3:42 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai

سیاسی پارٹیوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں ہے کہ ای ڈی کے خوف سے لیڈران این ڈی اے میں جا رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ کب اور کیسے تھمے گا؟

Eknath Shinde with 6 MPs from Shiv Sena (Udhu). Photo: INN
ایکناتھ شندے، شیوسینا (ادھو) سے آئے ہوئے ۶؍اراکین پارلیمان کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ کچھ مہینوں سے سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں چل رہی تھیں کہ جلد ہی شیوسینا (ادھو) کے ۶؍ اراکین پارلیمان ادھو ٹھاکرے کا ساتھ چھوڑ کر ایکناتھ شندے کے خیمے میں جانے والے ہیں۔ درمیان میں کئی بار ان اراکین پارلیمان کی ایکناتھ شندے سے ملاقات کی خبریں بھی آئیں لیکن دونوں ہی طرف سے ان خبروں کی تردید کی جاتی رہی۔ ان اراکین نے بار بار یقین دہانی کروائی کہ وہ شیوسینا (ادھو) کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے ہیں جبکہ شیوسینا( شندے) یہ وضاحت کرتی رہی کہ ’’ ہماری طرف سے کوئی آپریشن ٹائیگرنہیں کیا جا رہا ہے۔‘‘ لیکن جون کے وسط تک آتے آتے یہ طے ہو گیا کہ شیوسینا (ادھو) کے ۶؍ ایسے اراکین  پارلیمان جو بی جے پی مخالف ووٹوں کی وجہ سے جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے وہ اپنی پارٹی کو خیرباد کر رہے ہیں۔ بالآخر ۲۲؍ جون ۲۰۲۶ء کو انہوں نے باقاعدہ ایکناتھ شندے کی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں جتنی موقع پرستی ہے، شاید ہی کسی جمہوری ملک میں ہو

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ الیکشن کے دوران پانی پی پی کر بی جے پی کو کوسنے والے لیڈران نے اسی کے خیمے میں جا کر پناہ لی۔ ان سب کے اپنی پارٹی چھوڑنے اور این ڈی اے میں شامل ہونے کا ایک مخصوص پیٹرن ہے۔ یا تو انہیں ای ڈی یا سی بی آئی کا خوف ہے یا پھر اپنی سابقہ پارٹی کی اعلیٰ کمان سے شکایت ہے۔ اور کچھ نہیں تو انہیں ترقیاتی کاموں کیلئے بی جے پی کے ساتھ جانا ضروری ہے۔ شیوسینا (ادھو) کے ۶؍ اراکین پارلیمان  کے بہانے بھی کچھ ایسے ہی  ہیں۔ اوم راجے نمبالکر کا کہنا ہے کہ انہیں مہا وکاس اگھاڑی میں ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈ نہیں مل رہا تھا۔ اسلئے اپنے حلقے میں کام کروانے کیلئے مہایوتی میں شامل ہونا ضروری تھا۔ سوال یہ ہے کہ ہر رکن پارلیمان اور رکن اسمبلی کا فنڈ مختص ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی پارٹی میں ہو۔ اگر مودی حکومت میں یہ فنڈ پارٹی دیکھ کر دیا جا رہا ہے تب تو یہ کھلی دھاندلی ہے ۔ بجائے اس کے خلاف آواز اٹھانے کے یہ لیڈران دھاندلی کرنے والوں ہی کے خیمے میں شامل ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔یہ اپنے آپ میں مضحکہ خیز بات ہے۔ اگر ایسا کہنے والوں کو عوام لیڈر کیسے تسلیم کریں گے؟ لیڈر تو وہی ہے جو ان کے کاموں کیلئے آواز اٹھائے نہ کہ کسی طاقت کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔ 

ایک اور رکن پارلیمان سنجے دینا پاٹل نے کہا ہے کہ ادھو ٹھاکرے اراکین پارلیمان سے ملاقات نہیں کرتے۔ اس لئے کئی کاموں میں رکاوٹ آتی ہے۔ لہٰذا ان کیلئے پارٹی چھوڑنا ضروری تھا۔ سنجے پاٹل پہلے این سی پی میں تھے ، ۲۰۱۹ء میں وہ شیوسینا(ادھو) میں آئے ہیں۔ ادھو ٹھاکرے والد بال ٹھاکرے کے زمانے میں  ۲۰۰۲ء  میں پارٹی کے کارگزار صدر بنائے گئے تھے۔۲۰۱۲ء میںبال ٹھاکرے کی موت ہوئی اس کے بعد وہ پارٹی کے باقاعدہ سربراہ ہو گئے۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اس عہدے پر ہیں۔ جب تک ادھو ٹھاکرے بی جے پی کے ساتھ تھے کسی بھی لیڈر کو یہ شکایت نہیں تھی کہ وہ پارٹی لیڈران یا کارکنان کو وقت نہیں دیتے۔ ان کے مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہوتے ہی ہر کسی کو یہ شکایت ہونے لگی کہ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کرنا پارٹی کارکنان کیلئے بے حد مشکل کام ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دوبارہ نیٹ: یہ طلبہ کے ساتھ ہی والدین اور انتظامیہ کا بھی امتحان ہے

ایک اور بہانہ جو مسلسل دہرایا جاتا ہے وہ ہے ای ڈی یا سی بی آئی کا خوف۔ زیادہ تر جانے والوں کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ ان کا کسی نہ کسی بدعنوانی میں نام شامل تھا اس لئے بی جے پی حکومت نے انہیں ای ڈی کا خوف دلایا اور پارٹی چھوڑ گئے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ سارے جانے والے بد عنوان ہیں کیونکہ اگر بدعنوان نہیں ہیں تو انہیں ای ڈی یا سی بی آئی کا خوف کیوں ہے؟ اس سے پہلے کئی لوگوں پر بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں لیکن انہوں نے یا تو عدالت میں الزامات کا سامنا کیا یا پھر احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے مخالفین کو چیلنج کیا ۔ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ جانے والا خود کہہ رہا ہے کہ اسے ای ڈی سے ڈر لگ رہا ہے اس لئے وہ پارٹی چھوڑ کر جا رہا ہے۔  

لیڈران کے یوں مسلسل خیمہ بدلنے سے ووٹر اب عاجز ہیں کہ آخر وہ کس بنیاد پر ان لوگو ں پر بھروسہ کریں جو ذرا سے نوٹس سے ڈر کر خیمہ بدل لیتے ہیں یا کوئی کیوں ایسے رکن پارلیمان یا رکن اسمبلی پر اعتماد کرے جو ذرا سے فائدے کیلئے اپنی برسوں کی وفاداری کو طاق پر رکھ کر بلا چو ں چرااپنے نظریات سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے؟ فی الحال کئی علاقوں میں پارٹی چھوڑ کر جانے والے اراکین پارلیمان کے خلاف احتجاج ہوا ہے مگر عوام کو اب خود اس تعلق سےکوئی اقدام ڈھونڈ نکالنا ہوگا کہ ووٹ لے کر فرار ہونے والوں پر قدغن لگے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK