Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کے تئیں ڈونالڈ ٹرمپ کا رویہ غیر ذمہ دارانہ اور نا قابل قبول ہے

Updated: August 10, 2025, 1:04 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

ہندوستان اور روس کی معیشتوں کو مردہ قرار دیتے ہوئے ان کا یہ دعویٰ کہ یہ بہت جلد ڈوب جائیں گی، ایک مایوس کن سیاست داں کی انتہائی منفی سوچ ہے۔

These days, the friendship between `Trump and Modi` is a topic of discussion not only in the country but also abroad. Photo: INN.
ان دنوں صرف ملک میں نہیں بلکہ بیرون ملک بھی ’ٹرمپ اور مودی‘ کی دوستی موضوع بحث ہے۔ تصویر: آئی این این۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حرکتیں اس اڑیل اور ضدی بچے کی طرح ہوتی جارہی ہیں جو اپنی ضد پوری نہ ہونے کی صورت میں چیختا اور ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ ہندوستان اور روس کی معیشتوں کو مردہ قرار دیتے ہوئے ان کا یہ دعویٰ کہ یہ بہت جلد ڈوب جائیں گی، ایک مایوس کن سیاست داں کی انتہائی منفی سوچ ہے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جو ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے جگری دوست ہوا کرتے تھے وہ ہندوستان سے اتنے خفا کیوں ہوگئے کہ ٹیرف کا بڑا بوجھ ڈال دیا اور پاکستان کو ایسے گود میں لے کر بیٹھ گئے کہ ہندوستان سے انہیں کوئی سروکار ہی نہ ہوں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہندوستان کیلئے تضحیک آمیز رویہ اختیار کرنے پر غیر اُردو اخبارات نے کیا کچھ لکھا ہے۔ 
ٹرمپ کا انداز دباؤ کی سیاست کا ایک حصہ ہے
پربھات( مراٹھی، ۲؍اگست )
’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بولنے کا انداز دباؤ کی سیاست کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسری بار ملک کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ ان کی جانب سے صبح، دوپہر اور شام متضاد بیانات جاری کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے یکطرفہ طور پر مختلف ممالک پر درآمدی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ امریکہ کی عالمی پوزیشن، دولت اور طاقت کو دوسرے ممالک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹرمپ کو یہ ثابت کرنے کی جلدی ہے کہ انہوں نے امریکہ کیلئے جو کچھ کیا ہے اب تک وہ کسی اور نے نہیں کیا ہے۔ اس صورتحال میں وہ اور ان کا وہائٹ ہاؤس تسلیم کریں یا نہ کریں، آج دنیا کی نظروں میں وہ انتہائی ناقابل اعتبار صدر کہلائے جارہے ہیں۔ ٹرمپ بھی نوبل انعام کا خواب دیکھتے ہیں۔ ابتدا میں یہ سن کر دنیا حیران رہ گئی۔ یہ خیال تھا کہ ٹرمپ اپنی عادت کے مطابق چند گھنٹوں بعد اپنا موقف بدل لیں گے، اسے نظر انداز کردیا۔ صرف پاکستان کے نام نہاد فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کھلے عام ٹرمپ کے مطالبے کی حمایت کی۔ وہائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نے دنیا میں کم از کم ۶؍ بڑے تنازعات کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ٹرمپ ۲۹؍ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان، پاکستان کی جنگ کو روکا ہے لیکن ہماری حکومت نے پرزور طریقے سے اس کی تردید کی ہے۔ ایک طرف امریکہ نے تجارتی جنگ شروع کردی ہے دوسری طرف ٹرمپ اپنے امن کا سفیر ہونے کا ڈھول بجا رہے ہیں۔ یہ ایک امریکی سربراہ کو زیب نہیں دیتا ہے۔ ‘‘
 ٹرمپ سرپھرے بیل کی طرح سلوک کررہے ہیں 
لوک مت( مراٹھی، ۲؍اگست )
’’مہاراشٹر کے بیشتر شہروں میں مانسون کے دوران مویشی سڑکوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ ان میں ایک سر پھرا بیل بھی ہوتا ہے، جس کی کسی سے دوستی اور دشمنی نہیں ہوتی ہے وہ بس اپنی ہی دھن میں مگن رہتا ہے لیکن جب اس کا موڈ بدلتا ہے تو وہ کسی کو بھی ٹکر مار دیتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی اس سرپھرے بیل کی طرح سلوک کررہے ہیں۔ کبھی وہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے نزدیکیاں بڑھاتے ہیں تو کبھی ان سے ناراض ہوجاتے ہیں۔ کبھی پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ کہتے ہیں تو کبھی ان کو پاکستان پر بڑا پیار آتا ہے۔ کبھی نریندر مودی کو اپنا اچھا دوست کہتے ہیں تو کبھی ان کو دشمن قرار د یتے ہیں۔ ایسا کچھ کرنے میں انہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ حال ہی میں ٹرمپ نے ہندوستان کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی تجارتی معاہدہ پر بات چیت جاری تھی کہ ٹرمپ نے یکم اگست سے۲۵؍ فیصد درآمدی ٹیرف عائد کردیاہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالیاتی سال میں ہندوستان کی مجموعی قومی پیداوار(ڈی جی پی) کی شرح نمو دنیا میں سب سے زیادہ۶ء۸؍فیصد رہے گی تاہم امریکہ کو دوبارہ `عظیم بنائیں گے، کے `نعرے کے ساتھ عالمی سطح پر واپس آنے والے ٹرمپ کے مطابق ہندوستان اور روس کی معیشتیں مرچکی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے والے ٹرمپ مخالفت پر اُتر آئے ہیں۔ ‘‘
ٹرمپ کون ہوتے ہیں جو یہ فیصلہ کریں ؟
لوک مت سماچار (ہندی، یکم اگست)
’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جس طرح یکم اگست سے ہندوستان پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، اسے فریب دہی کا نام دیاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔ دراصل امریکہ کے ساتھ ہندوستان کی تجارتی بات چیت ابھی جاری ہی تھی اور مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدہ پر بات چیت کے اگلے دور کیلئے امریکی ٹیم کو ۲۵؍ اگست کو ہندوستان آنا تھا۔ یہ قیاس بھی کیا جارہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ ستمبر یا اکتوبر تک ہوسکتا تھا۔ اگرچہ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اب بھی ہندوستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گالیکن کیا ۲۵؍ فیصد ٹیرف کے یکطرفہ اقدام کے اعلان سے یہ مذاکرات مثبت ماحول میں ہوگی؟ٹرمپ نے روس سے خام تیل اور فوجی ساز و سامان خریدنے پر ہندوستان پر اضافی جرمانہ عائد کرنے کی بات بھی کہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کون ہوتے ہیں جو یہ فیصلہ کریں کہ ہندوستان کو کن ممالک کے ساتھ کتنی تجارت کرنی چاہئے اور کن ممالک سے نہیں ؟ایک طرف ٹرمپ ہندوستان کو اپنا اچھا دوست بھی کہتے ہیں اور دوسری طرف من مانے انداز میں ٹیرف اور جرمانہ لگا کر اسے نیچا بھی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ چند مہینوں میں جس طرح سے مختلف عالمی مسائل پر اپنا موقف بدلا ہےاس سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ بالکل بھی بھروسے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ ایک دن قبل جوکہتے ہیں، دوسرے دن بے شرمی سے اپنا موقف بدل دیتے ہیں جبکہ روس ہمارا نصف صدی سے زیادہ آزمودہ دوست ہے اور ایسے موقعوں پر بھی جب تقریباً پوری دنیا ہمارے خلاف تھی، اس نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ ٹرمپ جیسے پاگل امریکی صدر کے ٹیرف کے خوف سے روس جیسے قابل اعتماد ملک سے خود کو دور کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ‘‘
یہ فیصلہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کی روح کے منافی ہے
دی فری پریس جنرل( انگریزی، یکم اگست )
’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ہندوستان کی درآمدات پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اپنے فیصلے کو پوسٹ کرنے کے ساتھ امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات میں تلخی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے روس سے فوجی ساز و سامان خریدنے اور روس کا توانائی کا سب سے بڑا خریدار ہونے پر بھی جرمانہ عائد کیا۔ نئی دہلی کو ٹرمپ کے اس ردعمل کی توقع ہوگی کیونکہ نئی دہلی نے واشنگٹن کے دباؤ کے تحت امریکی کاروباریوں کو ملک میں مکئی کے ساتھ ڈیری پروڈکٹس فروخت کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ ہندوستان کیلئے ملک کی زراعت اور ڈیری پروڈکٹس کی منڈیوں کو کھولنا ایک ناقابل قبول مطالبہ تھا۔ اگر کارپوریٹ مفاد کو ہندوستانی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت دی گئی تو یہاں کے لوگ اپنی روزی روٹی کھو دیں گے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ہندوستان کی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر دو طرفہ تجارتی معاہدے کی روح کے منافی ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK