• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یونیورسٹیوں میں ذہنی غلام تیار کرنے والا ماحول بنایا جا رہا ہے

Updated: November 01, 2026, 4:50 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

ذمہ دار افراد تعلیمی معیار کو بہتر بنانے سے زیادہ اس بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ طلبہ کو اپنے احکام کا پابند بنانے کیلئے کیا تدابیر اور حربے استعمال کئے جائیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

یونیورسٹیوں کے معیار تعلیم کی بنیاد پر ان کی عالمی درجہ بندی کرنے والے معتبر ادارے کیو۔ ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کی مرتب کردہ فہرست میں ایک سے سو تک کے درمیان ایک بھی مقام نہ حاصل کر پانے والے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر مامور افراد یونیورسٹیوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے سے زیادہ اس بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ طلبہ کو اپنے احکام کا پابند بنانے کیلئے کیا تدابیر اور حربے استعمال کئے جائیں۔اعلیٰ تعلیمی سطح پر یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ بہ آسانی کیا جا سکتا ہے۔ملک کی قومی راجدھانی میں واقع تین بڑی مرکزی یونیورسٹیوں میں اس وقت جو ماحول ہے اس سے ہزاروں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے وسیع پیمانے پر متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔دہلی کے علاوہ ریاستی سطح پر بھی کئی یونیورسٹیوں میں ایسا ہی ماحول طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ ملک کے روشن مستقبل کے امین نوجوان طلبہ کا مستقبل اس وقت بے یقینی اور مایوسی کی ان حدود میں داخل ہوتا جارہا ہے جہاں نہ تو وہ رفعت افکار کی منزلوں پر پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی نظر میں وہ تابانی پیدا ہو سکتی ہے جو دانشوری کی راہ پر آگے بڑھنے میں ان کی رہنمائی کر سکے۔ممکن ہے کہ بعض یونیورسٹیوں میں کچھ استثنائی معاملات دریافت کر لئے جائیں جن کی حیثیت فی الوقت کیکر کے جنگل میں اُگنے والے اکا دکا گلاب جیسی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے اپنے احتجاج سے مودی سرکار کی نیند حرام کررکھی ہے

ملک گیر سطح پر اعلیٰ تعلیمی مراکزکو اپنے حصار میں مقید کر لینے والے اس ماحول کی نمود کا بنیادی سبب اقتدار پرستی کا وہ رجحان ہے جو یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ کے مزاج میں سرایت کرگیا ہے۔ انتظامیہ اور اساتذہ کے اس رجحان کا پہلا ہدف طلبہ ہی ہوتے ہیں۔اس وقت ملک کی بیشتر یونیورسٹیوں میں کلیدی عہدوں پر وہی لوگ براجمان ہیں جن کی تقرری اس یرقانی تنظیم سے ان کی وابستگی کا عطیہ ہوتی ہے جو تنظیم ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینے میں ہمہ وقت منہمک ہے۔ اس ضمن میں یہ افسوس ناک سچائی بھی قابل غور ہے کہ ملک کی دو ممتاز اقلیتی یونیورسٹیوں میں بھی اس وقت انہی لوگوں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والی یرقانی تنظیم سے وابستہ ہیں اور اس کی فرقہ ورانہ سرگرمیوں کی تائید نیز اس کے پرمکھ کے آگے ہر وقت سر تسلیم خم کئے رہنا واجبی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران اعلیٰ تعلیمی سطح پر جو خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں ان کے سبب نہ صرف کیمپس کا تعلیمی ماحول متاثر ہوا ہے بلکہ نوجوان طلبہ کا ایک ایسا گروہ تیار ہو گیا ہے جو غلط و صحیح کی پروا کئے بغیر ہر معاملے میں اقتدار کی مرضی ہی کو پیش نظر رکھتا ہے۔ یہ گروہ تعلیمی معاملات کو بھی دھرم کی اسی عینک سے دیکھتا ہے جس نے دس بارہ برسوں کے دوران عوام کو ایسے سبز باغ دکھائے کہ انھیںاپنی اصل صورتحال کا اندازہ بھی نہ ہو سکا۔سماج میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو اسی طرز فکر کے حامل ہیں لیکن اب ان کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان اقتدار پرست افراد کی آنکھیں کھولنے اور انھیں زندگی کے اصل مسائل سے آگاہ کرنے میں ان نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جو زندگی کے معاملات و مسائل کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔گزشتہ تین چار ماہ سے یہ نوجوان جس طرح اقتدار کی ناقص پالیسیوں اور طرز عمل کے خلاف محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں وہ اسلئے قابل ستائش ہے کہ انھوں نے قومی سطح پر سیاسی بیانیہ کو اس سمت موڑ دیا ہے جہاں عوامی زندگی سے وابستہ بنیادی مسائل کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ان نوجوانوں کی خاصی تعداد ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار  کے جبر کو بے اثر بنانے اور عوام کو خستہ حالی کے حصار سے باہر نکالنے میں اہم کردار ادا کرنے والی سیاسی و سماجی تحریکات کی کامیابی طلبہ کی مساعی کا نتیجہ رہی ہے۔ فسطائی عناصر نے ہمیشہ ان تحریکات کو ناکام بنانے کی خاطر طلبہ کے حوصلوں پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے اور اب ایسی ہی کوششیں وطن عزیز میں بھی ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی، مودی سرکار سے ناراض نوجوانوں کیلئے پلیٹ فارم بن گیا ہے

ملک کی بعض یونیورسٹیوں میں باقاعدہ یہ احکام جاری کر دئیے گئے ہیں کہ طلبہ کسی بھی طرح کے احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے۔ان احکام کے نفاذ کو یقینی بنانے کی غرض سے ایسے ضابطے تشکیل دیئے جارہے ہیں جن کی خلاف ورزی طلبہ کے تعلیمی منصوبوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ اعلیٰ تعلیمی سطح پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اقتدار اور اس کی خواہش کی تعمیل میں مصروف نوکر شاہی کونوجوان نسل کے تابناک مستقبل سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ کس طرح یونیورسٹیوں کو یرقانی رنگ میں رنگ دیا جائے اور طلبہ کے اذہان کو انہی افکار و تصورات کا پابند بنا دیا جائے جن کی تبلیغ اقتدار کا اہم ایجنڈہ ہے۔نوجوان نسل کو ذہنی غلام بنانے کی غرض سے کئے جارہے یہ اقدامات عارضی طور پر اقتدار کو فائدہ تو پہنچا سکتے ہیں لیکن اس کے عوض میں ملک و معاشرہ کو جو نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اس کی بھرپائی کے لیے سخت مشقت درکار ہوگی ۔ نظام تعلیم کو طلبہ مرکوز بنانے کے سلسلے میں اقتدار کی جوابدہی طے کرنے کی خاطرجد و جہد کر رہے طلبہ ہی دراصل اس ملک کے روشن مستقبل کے امین ہیں اور ان کے عزم و حوصلوں کو کمزور بنانے والے تمام عناصر ملک  و معاشرہ سے زیادہ ذاتی مفاد کوترجیح دینے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK